سابق اٹارنی جنرل نے اپنے بیان پر سپریم کورٹ سے 'غیر مشروط' معافی مانگ لی

اپ ڈیٹ 21 فروری 2020

ای میل

گزشتہ روز انور منصور خان نے اٹارنی جنرل فار پاکستان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
گزشتہ روز انور منصور خان نے اٹارنی جنرل فار پاکستان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی

سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف دیے گئے بیان پر عدالت عظمیٰ سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

ڈان ڈاٹ کام کو موصول بیان کی کاپی کے مطابق عدالت میں جمع کروائی گئی تحریری معافی میں انور منصور خان نے کہا کہ ’ 18 فروری کو دیا گیا بیان واپس لیتا ہوں اور اس پر غیر مشروط معافی مانگتا ہوں‘۔

بیان کے مطابق انور منصور خان نے کہا کہ 'عدلیہ کا بے حد احترام کرتا ہوں اور عدلیہ کے عزت اور وقار کے بارے میں منفی بیان کا سوچ بھی نہیں سکتا‘۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ میں بیان: انور منصور اور فروغ نسیم کی ایک دوسرے پر الزام تراشیاں

خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں 'متنازع بیان' دینے کے بعد انور منصور خان نے اٹارنی جنرل فار پاکستان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کردہ استعفے میں انہوں نے کہا تھا کہ ’میں انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں کہ پاکستان بار کونسل جس کا میں چیئرمین ہوں، نے 19 فروری 2020 کو ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ میں اٹارنی جنرل فار پاکستان کے عہدے سے استعفٰی دے دوں‘۔

دوسری جانب اٹارنی جنرل کے بیان پر وفاقی حکومت کی جانب سے محکمہ قانون و انصاف کے سیکریٹری محمد خشیش الرحمٰن نے عدالت عظمیٰ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا تھا کہ 18 فروری 2020 کو اٹارنی جنرل انور منصور خان نے مذکورہ بینچ کے سامنے زبانی بیان دیا جو غیر مجاز اور وفاق حکومت کی ہدایت اور علم میں لائے بغیر تھا اور جواب دہندگان اسے مکمل طور پر بلاجواز سمجھتے ہیں۔

ساتھ ہی اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ وفاقی حکومت اور جواب دہندگان پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی انتہائی عزت و احترام کرتے ہیں، لہٰذا وفاقی حکومت اور جواب دہندہ خود اٹارنی جنرل کے مذکورہ بیان سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت اور جواب دہندگان قانون، آئین کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔

استعفے کا پس منظر

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کے لیے دائر کی گئی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں معاملہ زیر التوا ہے۔

اس کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ و دیگر کے وکیل اپنے دلائل دے چکے ہیں اور اب حکومتی مؤقف کے لیے اٹارنی جنرل کو دلائل دینے تھے، جس پر انہوں نے 18 فروری کو اپنے دلائل کا آغاز کیا تھا۔

18 فروری کو اپنے دلائل کے پہلے روز ہی صورتحال اس وقت ناخوشگوار ہوگئی تھی جب اٹارنی جنرل نے شعلہ بیانی سے دلائل کا آغاز کیا تھا۔

اٹارنی جنرل نے فل کورٹ کے سامنے ایک بیان دیا تھا، جس پر ججز نے انہیں استثنیٰ دیتے ہوئے بیان سے دستبردار ہونے کا کہا تھا، ساتھ ہی مذکورہ بیان کو ’بلا جواز‘ اور ’ انتہائی سنگین‘ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اٹارنی جنرل انور منصور خان اپنے عہدے سے مستعفی

اس بیان سے متعلق عدالت نے میڈیا کو رپورٹنگ سے روک دیا تھا۔

اسی روز کی سماعت میں اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ انہیں احساس ہے کہ انہوں نے کچھ ایسا کہا تھا کہ جو عدالتی بینچ کے لیے خوشگوار نہیں تھا، جس کے جواب میں بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر نے ردعمل دیا تھا کہ ’یہ بلا جواز' تھا۔

ساتھ ہی عدالت کے ایک اور رکن جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے تھے کہ انور منصور کو اپنے بیان سے دستبردار ہونا چاہیے۔

تاہم اٹارنی جنرل نے بیان واپس لینے سے انکار کردیا تھا جس کے ساتھ ہی عدالت نے میڈیا کو بیان شائع کرنے سے منع کردیا تھا کیونکہ بعدازاں یہ رپورٹ ہوا تھا کہ ’اٹارنی جنرل اپنے بیان سے دستبردار ہوگئے تھے‘۔

بعد ازاں 19 فروری کو جسٹس عیسیٰ کے معاملے پر عدالت عظمیٰ میں دوبارہ سماعت ہوئی تھی۔

اس سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ کل آپ نے اتنی بڑی بات کردی ہے، یہ دلائل کا طریقہ کار نہیں، تحریری طور پر اپنے دلائل دیں۔

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ تحریری دلائل نہیں دے سکتا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اٹارنی جنرل نے بینچ کے حوالے سے گزشتہ روز کچھ بیان دیا، اٹارنی جنرل اپنے بیان کے حوالے سے مواد عدالت میں پیش کریں، اگر اٹارنی جنرل کو مواد میسر نہیں آتا تو تحریری معافی مانگیں۔