وزیراعظم نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کردی

اپ ڈیٹ 21 فروری 2020

ای میل

کمیٹی کو چینی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق تمام پہلوؤں پر تحقیق کا حکم دیا گیا ہے—فوٹو:کریٹو کامنز
کمیٹی کو چینی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق تمام پہلوؤں پر تحقیق کا حکم دیا گیا ہے—فوٹو:کریٹو کامنز

وزیر اعظم عمران خان نے چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کردی۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی میں ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا کے علاوہ دیگر اراکین میں ‘انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کا نمائندہ جو بنیادی اسکیل 20 یا 21 سے کم نہ ہو اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انسداد بدعنوانی پنجاب’ شامل ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے ‘سربراہ کسی اور کو بھی رکن مقرر کر سکتے ہیں’۔

کمیٹی کو تحقیقات کے لیے 13 پہلو بتائے گئے ہیں جن کی تفتیش کرکے رپورٹ مرتب کی جائے گی، ان کے علاوہ کوئی اور وجہ سامنے آئے تو کمیٹی کو اس کی تحقیقات کا بھی مینڈیٹ دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:چینی کے بحران کے پیش نظر برآمدات پر پابندی

وزیر اعظم کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کے سامنے تفتیش کے لیے پہلا سوال یہ ہے کہ ‘کیا رواں برس چینی کی پیداوار گزشتہ برس کے مقابلے میں کم تھی، کیا کم پیداوار ہی قیمت میں اضافے کی وجہ تھی’۔

کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ تفتیش کرے کہ ‘کیا کم از کم قیمت کافی تھی’ اور تیسرا سوال دیا گیا ہے کہ ‘کیا شوگر ملوں نے گنے کو مہنگا خریدا، اگر ہاں تو اس کی وجوہات معلوم کی جائیں’۔

چوتھا سوال یہ ہے کہ ‘شوگر ملوں کی چند ہفتوں کی مختصر مدت کے دوران کسانوں سے گنا نہ خریدنے کی کیا وجہ تھی اور کیا اس کے اثرات چینی کی قیمتوں پر پڑے’۔

چینی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق پانچواں سوال ایکس مل پرائس کی بنیاد کے حوالے سے ہے اور چھٹے نمبر پر کہا گیا ہے کہ اس بات کا تعین کیا جائے کہ کیا شوگر ملوں کی جانب سے مارکیٹ میں کوئی ردو بدول کیا گیا، اگر جواب مثبت ہو تو اس کی تفصیلات دی جائیں۔

کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ چینی کی قیمتوں پر معاہدوں کے اثرات اور کسی قسم کا مشکوک عمل شامل ہوا ہو تو سامنے لایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی مافیا-سیاستدانوں کا گٹھ جوڑ، صارفین اور کسانوں کو دھوکا دینے میں ملوث

اعلامیے میں شامل آٹھویں سوال میں کمیٹی کو تحقیق کے لیے بتایا گیا ہے کہ چینی کی ایکس مل اور اضافہ شدہ ریٹل پرائس کے درمیان کوئی فرق ہے، اگر جواب ہاں ہو تو اس سے فائدہ حاصل کرنے والوں کا تعین کیا جائے۔

کمیٹی چینی کی ایکس مل اور ریٹل سطح پر قیمتوں میں اضافے کے اثرات کی تحقیقات کرے گی، دسواں سوال ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے ہے کہ کیا ذخیرہ اندوزی ہول سیل یا ریٹیل سطح پر ہوئی یا شوگر ملوں میں گزشتہ برس کے اسٹاک پر ہوئی۔

وزیر اعظم کی جانب سے تشکیل کردہ کمیٹی کو تحقیق کے لیے بتایا گیا ہے کہ ‘کیا چینی کی برآمد ٹھیک تھی، چینی کی برآمد پر کوئی سبسڈی دی گئی، اس کے اثرات اور فائدہ اٹھانے والوں کا تعین کیا جائے’۔

کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ چینی کی قیمتیں کس بنیاد پر مقرر ہوئیں اس کی بھی تحقیق کی جائے اور قیمتوں میں اضافے میں مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول حکومتی اداروں اور نجی شعبے کا کیا کردار تھا، اس کے ساتھ ساتھ چینی کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کے لیے وقت پر لیے گئے حفاظتی اقدامات اور اگر کسی اسٹیک ہولڈ کی جانب سے گڑبڑ کی گئی ہو تو اس کی بھی تحقیق کی جائے۔

چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیق کرنے والی کمیٹی کو کہا گیا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق دیے گئے سوالات کے علاوہ کوئی اور مسئلہ جڑا ہو تو اس کو بھی سامنے لایا جائے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘کمیٹی ذمہ داروں کی شناخت اور کردار واضح کرے اگر کسی کو انفرادی طور پر یا ادارے اور افسر بشمول نجی فریق کو حاصل ہونے والے منافع کو بھی واضح کیا جائے’۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ‘مستقبل میں کارروائی کے لیے تجاویز بھی دی جائیں’۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 22 جنوری کو ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا کی ہی سربراہی میں گندم اور آٹے کے بحران کی تحقیقات کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ پیش کردی تھی۔

مزید پڑھیں:ملک میں گندم کا بحران: معاملے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم

کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ کمیٹی کے دیگر اراکین میں محکمہ انسداد کرپشن پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے گریڈ 20 یا اس سے زائد کا کوئی افسر اور کمیٹی کے سربراہ کا منتخب کردہ کوئی رکن شامل ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے 7 فروری کو قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے چینی کی برآمدات پر پابندی اور نجی شعبے کی جانب سے 3 لاکھ ٹن درآمد کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

پاکستان کے ادارہ شماریات کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ملک سے ایک لاکھ 41 ہزار 447 میٹرک ٹن چینی کی برآمد کے بعد وزیر اعظم نے اس کی برآمدات پر پابندی عائد کی۔

سمری کو منظور کرتے ہوئے وزیر اعظم نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ سفید چینی کو نجی شعبے کی جانب سے بغیر ٹیکسز اور ڈیوٹی کے درآمد کیا جائے گا جبکہ درآمدکنندگان کی وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے کسی قسم کی مالی مدد نہیں کی جائے گی۔

واضح رہے کہ چینی کی قیمتیں گزشتہ دو ماہ سے بڑھنا شروع ہوئی تھیں تاہم حکومت نے اس معاملے پر اتنی توجہ نہیں دی تھی جس کی وجہ سے منافع خوروں کو فائدہ پہنچا۔

سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ وزیر اعظم نے ای سی سی میں معاملہ جانے سے قبل ہی سمری کی منظوری دی تاکہ 3 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی کی برآمد فوری روکی جاسکے اور 3 لاکھ ٹن چینی نجی شعبے کے ذریعے درآمد کی جاسکے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے دسمبر 2019 کے درمیان پاکستان نے ایک لاکھ 41 ہزار 447 میٹرک ٹن چینی برآمد کی۔

2017-18 کے درمیان چینی کی فی کلو قیمت تقریباً 53 روپے 75 پیسے تھی جبکہ 17-2016 میں 61 روپے 43 پیسے، 16-2015 میں 64 روپے 3 پیسے اور 15-2014 میں 58 روپے 91 پیسے تھی۔

واضح رہے کہ چینی کی قیمت میں ایک روپے فی کلو اضافے کا مطلب صارفین سے 5 ارب 10 کروڑ روپے کا منافع ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ' چینی کی مہنگائی کےذمہ دار شوگر ملز کےمالکان ہیں'

مقامی سطح پر سالانہ چینی کا استعمال 51 لاکھ میٹرک ٹن سے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک ہوتا ہے۔

اسٹیک ہولڈرز اور سینیئر حکام کے انٹرویو سے دیگر متعدد مسائل بھی سامنے آئے جن کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کو 8 سال بعد چینی درآمد کرنی پڑ سکتی ہے۔

گزشتہ 3 ہفتوں میں چینی کی قیمت عالمی منڈی میں 418 ڈالر سے 350 ڈالر فی ٹن رہی جو ظاہر کرتی ہے کہ اگر حکومت تمام ڈیوٹی اور ٹیکسز اس کی درآمد پر سے ہٹادے تو کراچی پورٹ پر چینی کی قیمت 85 روپے فی کلو ہوگی جبکہ اس کی ملک کے دیگر حصوں میں ترسیل (ٹرانسپورٹیشن) کی لاگت اس میں الگ سے شامل کی جائے گی۔

اسٹیک ہولڈرز اور حکام کے انٹرویو میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ حکومت نے بجٹ میں مقامی چینی کی قیمتوں میں سیلز ٹیکس کو 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کردیا تھا جبکہ سیلز ٹیکس کو واپس لینے سے چینی کی قیمتیں مقامی مارکیٹ میں کم ہوسکتی ہیں تاہم اس تجویز پر حکومت غور نہیں کر رہی۔