خیبرپختونخوا: بونیر میں لینڈ سلائیڈنگ، 9 مزدور جاں بحق

اپ ڈیٹ 22 فروری 2020

ای میل

محکمہ ریلیف کے مطابق 30 مزدور ملبے تلے دب گئے تھے—فوٹو:عمر باچا
محکمہ ریلیف کے مطابق 30 مزدور ملبے تلے دب گئے تھے—فوٹو:عمر باچا

خیبرپختونخوا (کے پی) کے ضلع بونیر کے علاقے بامپوخہ میں چیلی کار مائننگ درنگ میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر کان میں کام کرنے والے 9 مزدور جاں بحق جبکہ مزید 30 مزدور ملبے تلبے دب گئے۔

ترجمان خیبر پختونخوا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) تیمور علی کا کہنا تھا کہ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں اور کارروائی کی نگرانی کر رہی ہیں۔

انہوں نے لینڈ سلائیڈنگ سے 9 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ 5 افراد زخمی ہوئے جبکہ امدادی کارکن ملبے تلبے دبے افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔

محکمہ ریلیف کے مطابق 30 مزدور ملبے تلے دب گئے تھے—فوٹو:عمر باچا
محکمہ ریلیف کے مطابق 30 مزدور ملبے تلے دب گئے تھے—فوٹو:عمر باچا

تیمور علی کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس واقعے کی تفتیش کررہی ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق بونیر میں ماربل کے پہاڑ توڑتے ہوئے مزدوروں پر سلیں گر پڑیں اور ہلاکتیں ہوئی اور اب بھی 30 مزدورں کی ملبے تلے دبنے کی اطلاع ہے۔

محکمے کا کہنا تھا کہ سوات کے ڈی ای او عمران بھی جائے حادثہ کی طرف روانہ ہوچکے ہیں اور ان کے ساتھ ایک گاڑی میں پہاڑی کاٹنے کے آلات اور ایمبولینس کو بھی بھیج دیا گیا ہے۔

قبل ازیں مالاکنڈ میں موجود پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے ابتدائی طور پر حادثے کے حوالے سے کہا تھا کہ حادثے کے وقت 30 مزدور موجود تھے جو ملبے تلے آگئے تھے جن میں سے 7 کی لاشیں نکال لی گئی تھیں اور 5 زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈگر منتقل کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) لطیف الرحمٰن اپنی ٹیم کے ہمراہ وہاں موجود ہیں اور جائے حادثہ پر امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے حادثے کی اطلاع ملتے ہی اپنے معاون خصوصی ریاض خان کو فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچنے اور لاپتہ مزدوروں کی تلاش کا کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے ریسکیو سمیت دیگر متعلقہ محکموں کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت بھی کی۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ غم کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔