سال 2019، صحافیوں، سیاستدانوں اور ایکٹویسٹس کے لیے مشکل ثابت ہوا، رپورٹ

اپ ڈیٹ 24 فروری 2020

ای میل

گزشتہ برس متعدد اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے انٹرویوز ٹیلی ویژن پر نشر ہونے سے روکے گئے تھے — فائل فوٹو: اے ایف پی
گزشتہ برس متعدد اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے انٹرویوز ٹیلی ویژن پر نشر ہونے سے روکے گئے تھے — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: گزشتہ سال نہ صرف میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کی گئیں بلکہ 7 صحافی ہلاک جبکہ متعدد حملے کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے یوں سال 2019 صحافیوں اور میڈیا کے لیے مشکل ثابت ہوا۔

ایک غیر سرکاری تنظیم کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنان اور سیاستدانوں کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے سے روکنے پر مجبور کیا گیا اور تقریباً 10 لاکھ ویب سائٹس بلاک کی گئیں۔

ڈیجیٹل حقوق، معلومات کے حق، آزادی اظہار رائے پر عدالتی، قانونی اور قانون سازی کی پیشرفت کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ حکومت شہری آزادیوں پر حملے کررہی ہے اور اس سلسلے میں لبرل انتظامی حدود اور قدامت پسند پالیسی تجاویز کا مجموعہ اختیار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سال 2019 بھی پاکستان میں آزادی صحافت اور صحافیوں کیلئے پریشان کن رہا!

انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ، ایڈوکیسی اینڈ ڈیولپمنٹ نے ’جابرانہ سینسرشپ: خاموش ہوتا ہوا پاکستان‘ کے عنوان سے اپنی سالانہ رپورٹ پیش کی۔

قدامت پسند پالیسیز تجاویز میں ایک سب سے بڑی کوشش تمام میڈیا ریگولیٹرز کو واحد اور مرکزی ادارے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پمرا) میں تبدیل کرنا ہے جسے عوام، میڈیا اور سول سوسائٹی نے مشترکہ طور پر مسترد کردیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نجی ٹیلیویژن چیننلز کو پورے سال ’ہدایات، ایڈوائزیریز اور اظہار وجوہ کے نوٹسز‘ جاری کرنے میں مصروف رہی۔

مزید پڑھیں: آزادی صحافت کو سب سے بڑا خطرہ پراسرار، نامعلوم عناصر سے ہے، سی پی این ای

اسی طرح اپوزیشن پارٹی کے رہنماؤں کی لائیو پریس کانفرنسز پر نہ صرف ڈیفیکٹو پابندی عائد کی گئی بلکہ شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہ مثلاً عوامی ورکرز پارٹی کی بھی کسی قسم کی کوریج پر پابندی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے برقی جرائم کی روک تھام کے قانون پیکا کی دفعہ 37 کے تحت حاصل اختیارات کے ذریعے مختلف وجوہات مثلاً’ فحش یا گستاخانہ مواد یا ریاست، عدلیہ اور فوج کے خلاف جذبات‘ پر 9 لاکھ سے زائد ویب سائٹس بلاک کیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس متعدد اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے انٹرویوز ٹیلی ویژن پر نشر ہونے سے روکے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: میڈیا سنسرشپ کی کوششوں پر صحافیوں کا اظہار تشویش

علاوہ ازیں گزشتہ سال کے دوران کم از کم 7 صحافی ہلاک ہوئے جبکہ متعدد حملے کا نشانہ بنے یا زخمی ہوئے ان میں سے کچھ کو حکام کی جانب سے قانونی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس ضمن میں آئی آر اے ڈی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد آفتاب عالم نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پورے سال پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی توجہ آمرانہ رجحانات اور جابرانہ رویوں کی عکاسی کرتے ہوئے مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا کو غیر مستحکم کرنے پر مرکوز رہی‘۔

آفتاب عالم کا مزید کہنا تھا کہ ’2019 کے تجربات میڈیا کے قانونی معاملات کو مسلسل بگڑتا ہوا ظاہر کرتے ہیں جس نے اظہار رائے کی آزادی اور معلومات کے ذرائع تک رسائی کو محدود کردیا، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ 2020 مزید خراب سال ثابت ہوگا‘۔


یہ خبر 24 فروری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔