لاہور ہائی کورٹ: عورت مارچ رکوانے کی درخواست سماعت کیلئے منظور

اپ ڈیٹ 24 فروری 2020

ای میل

عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرلیا—فائل فوٹو: فیس بک
عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرلیا—فائل فوٹو: فیس بک

لاہور ہائی کورٹ نے آئندہ ماہ 8 مارچ کو منعقد ہونے والے ’عورت مارچ‘ کو رکوانے کے لیے دائر درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل آپریشنز اور وفاقی وزارت داخلہ سے رواں ماہ 27 فروری تک جواب طلب کرلیا۔

عورت مارچ کے خلاف جوڈیشل ایکٹیوزم کونسل کے چیئرمین اظہر صدیقی نے درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی تھی کہ عورت مارچ کو روکنے کا حکم دیا جائے۔

اظہر صدیقی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ ملک میں انتشار اور عریانیت پھیلانے کے لیے عورت مارچ کو ریاست مخالف تنظیمیں اور پارٹیاں فنڈز فراہم کر رہی ہیں۔

عدالت میں دائر کردہ درخواست میں عورت مارچ کو اسلام کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے خفیہ منصوبے سے بھی تشبیہ دی گئی اور ساتھ ہی کہا گیا کہ اس مارچ کا مقصد عریانیت پھیلانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: `شرپسندوں نے 'عورت مارچ' کے پوسٹرز پھاڑ دیے

درخواست میں وکیل اظہر صدیقی نے لکھا کہ گزشتہ سال ہونے والے عورت مارچ کے شرکا نے قابل اعتراض پیغامات والے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔

اظہر صدیقی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا کہ انہوں نے عدالت سے رجوع کرنے سے قبل ایف آئی اے سمیت ’کیپیپٹل سٹی پولیس افسر‘ (سی سی پی او) کو بھی خواتین کی جانب سے قابل اعتراض نعروں والے بینرز سے متعلق درخواست دی تھی مگر ان کی درخواست پر عمل نہیں کیا گیا۔

اظہر صدیقی نے کہا کہ انہوں نے پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016، سٹیزن پروٹیکشن رولز 2020 اور ریڈ زون ایکٹ 2018 پنجاب کے تحت بھی درخواستیں دائر کیں مگر ان کی کسی بھی درخواست پر عورت مارچ کو رکوانے کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت عورت مارچ کی سوشل میڈیا پر تشہیر کے حوالے سے ضابطہ اخلاق کا حکم دینے سمیت عورت مارچ کو روکنے کا بھی حکم دے۔

عدالت سے یہ درخواست بھی کی گئی کہ عدالت انتظامیہ کو اس طرح کے مارچ کو مال روڈ پر روکنے سے متعلق احکامات جاری کرے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ’عورتوں کو عورت مارچ کرنے سے روکا جائے‘۔

مزید پڑھیں: ’ماں ہوں، بہن ہوں، گالی نہیں ہوں‘

عدالت نے اظہر صدیقی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایف آئی اے، ڈی جی آپریشنز اور وفاقی حکومت کے وکیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 27 فروری تک جواب طلب کرلیا۔

عدالت نے سرکاری وکیل کو حکم دیا کہ وہ عورت مارچ سے تعلق وفاقی وزارت داخلہ سے جواب لے کر عدالت کو آگاہ کرے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال پہلی بار پاکستان کے مختلف شہروں میں ’عورت مارچ‘ منعقد ہوا تھا جس میں بڑی تعداد میں خواتین و لڑکیاں شامل ہوئی تھیں۔

کراچی سے لے کر لاہور اور اسلام آباد سے لے کر حیدرآباد تک ہونے والے عورت مارچ میں خواتین نے درجنوں منفرد نعروں کے بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں کچھ متنازع بینر بھی شامل تھے جن کی وجہ سے عورت مارچ پر تنقید بھی کی گئی۔

رواں سال بھی پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں خواتین نے عورت مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور اس حوالے سے انتطامات بھی کیے جا رہے ہیں۔