مصر: گرجا گھروں میں بم دھماکوں میں ملوث 8 افراد کو پھانسی

25 فروری 2020

ای میل

11دسمبر 2016 کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے مرکزی چرچ میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے تھے— فائل فوٹو: اے ایف پی
11دسمبر 2016 کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے مرکزی چرچ میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے تھے— فائل فوٹو: اے ایف پی

مصر نے داعش کی جانب سے چرچ اور پولیس چوکی میں کیے گئے بم دھماکوں کے الزام میں 8 افراد کو پھانسی دے دی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق ملزمان نے سزائے موت کے خلاف اپیل کی تھی لیکن گزشتہ سال مئی میں ان کی آخری اپیل بھی مسترد کردی گئی تھی اور پیر کی صبح انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

عدالتی ذرائع نے بتایا کہ اکتوبر 2018 میں فوجی عدالت نے اسکندریہ، قاہدرہ اور تانتا میں گرجا گھروں کے ساتھ ساتھ جنوب مغربی مصر میں پولیس چوکی پر حملوں میں ملوث 17 افراد کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا۔

مزید پڑھیں: قاہرہ کے مرکزی چرچ میں دھماکا، 25 افراد ہلاک

دیگر 9 افراد کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور وہ مفرور ہیں۔

2016 اور 2017 میں کیے گئے ان حملوں میں اکثر عیسائی برداری کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں کم از کم 88 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مصر کی 10کروڑ آبادی کا 10 سے 15فیصد حصہ عیسائی افراد پر مشتمل ہے اور داعش کی جانب سے انہیں متعدد مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

سابق صدر محمد مرسی کی حکومت کو ختم کر کے 2014 میں اقتدار میں آنے والے سابق فوجی سربراہ عبدالفتح السیسی کے دور میں ماضی کے برعکس سزائے موت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سزائے موت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر سزائے موت انصاف کی فراہمی کا ہرگز ذریعہ نہیں ہو سکتی، ان افراد کو غیر منصفانہ فوجی ٹرائل کے بعد سزائے موت دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: مصر:کاربم دھماکے میں 10 سیکیورٹی اہلکار ہلاک

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ الزامات سے قطع نظر ہر شخص کو منصفانہ اور شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہے۔

یاد رہے کہ 11دسمبر 2016 کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے مرکزی چرچ میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہو گئے تھے۔

اس دھماکے کے چار ماہ بعد ہی 9 اپریل 2017 کو مصر میں پام سنڈے کے موقع پر دو گرجا گھروں میں دھماکوں میں کم از کم 36 افراد ہلاک ہوئے۔

7 جولائی 2017 کو مصر کے شہر سینا کے شمال مشرقی علاقے میں ملٹری کمپاؤنڈ کی ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ پر کار بم حملے میں کرنل سمیت 10 سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے تھے۔