لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارتی سفارتکار دفتر خارجہ طلب

اپ ڈیٹ 26 فروری 2020

ای میل

بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے 40سالہ پاکستانی شہری زخمی ہو گیا تھا— فائل فوٹو: ڈان
بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے 40سالہ پاکستانی شہری زخمی ہو گیا تھا— فائل فوٹو: ڈان

پاکستان نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارتی ہائی کمیشن کے سینئر عہدیدار کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی فوج نے نیزا پیر سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی جس سے گاؤں مندھار کے 40سالہ رہائشی محمد بشیر شدید زخمی ہوگئے۔

مزید پڑھیں: بھارت کی ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی، ایک شہری زخمی

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق قابض بھارتی افواج کی بلااشتعال فائرنگ اور سیزفائر کی خلاف ورزی پر بھارتی ہائی کمیشن کے سینئر عہدیدار کو بدھ کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا گیا۔

قابض بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر شہری آبادی کو آرٹلری فائر، مارٹر اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے 2017 سے مسلسل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک مجموعی طور پر ایک ہزار 970مرتبہ بھارت نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی جبکہ صرف اس سال بھارت 384مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور قوانین کی خلاف ورزی ہے اور یہ خطے کے ساتھ ساتھ عالمی امن اور سیکیورٹی کے لیے بھی خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ سے خاتون زخمی، بھارتی سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ 2003 کے جنگ بندی کے انتظامات کا احترام کرتے ہوئے سیز فائر کی خلاف ورزی کی تحقیقات کرائے اور لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر امن کا قیام یقینی بنائے۔

دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر تناؤ میں اضافہ کر کے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ نہیں ہٹا سکتا اور وہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔