پاکستان نے جوہری توانائی پروگرام بڑھانے کیلئے عالمی ایجنسی سے مدد مانگ لی

اپ ڈیٹ 27 فروری 2020

ای میل

پاکستان میں قائم ایک جوہری پلانٹ کی تصویر — فائل فوٹو:اے اپی
پاکستان میں قائم ایک جوہری پلانٹ کی تصویر — فائل فوٹو:اے اپی

اسلام آباد: پاکستان نے اپنے جوہری توانائی کے پروگرام کو مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے مدد مانگ لی کیونکہ ملک بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے جوہری قوت کو بڑھانا چاہتا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جوہری قوت کو وسیع کرنے میں مدد کے لیے ایجنسی نے موجودہ قومی تکنیکی تعاون کے 4 منصوبوں کو ایک منصوبے پر یکجا کیا ہے، جس میں پاکستان کے جوہری توانائی کے پروگرام میں ملوث ریگولیٹرز، آپریٹرز، ویسٹ منیجرز اور نان ڈسٹرکٹو ٹیسٹرز شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: احتجاج سے پاکستانی جوہری ہتھیار متاثر نہیں ہوں گے، امریکی رپورٹ

بیان کے مطابق پاکستان کے لیے آئی اے ای اے کی حمایت کا مقصد اگلی دہائی کے دوران ایٹمی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو 6 گنا، 1430 میگاواٹ سے 8800 میگاواٹ تک بڑھانا ہے اور اسی معاملے پر پاکستان کے ایٹمی بجلی پروگرام میں شامل ریگولیٹرز، آپریٹرز اور نمائندوں نے تبادلہ خیال کیا جو ویانا میں آئی اے ای اے کے ہیڈ کوارٹرز میں حال ہی میں اکٹھا ہوئے تھے۔

آئی اے ای اے، پاکستانی جوہری توانائی پروگرام کے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کر رہے ہیں تاکہ ان کے کام کو آسان بنانے، تاخیر اور اخراجات کو کم کرنے، تعاون کو بڑھانے اور ان کی حفاظت اور فضلہ کے انتظام کے طریقوں کو ہم آہنگ کیا جاسکے۔

مذکورہ اعلامیے کے مطابق چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ٹیکنیکل کوآرڈینیشن ڈویژن منیجر احمد ندیم کا کہنا تھا کہ 'پاکستان نے آئی اے ای اے کے حفاظتی معیارات اور دیگر تکنیکی دستاویزات سے فائدہ اٹھایا ہے تاہم اس میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'پاکستان کے جوہری بجلی گھروں کی حفاظت، استحکام اور پائیداری کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہم نے جامع اور مربوط قومی منصوبے کے لیے آئی اے ای اے سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا'۔

یہ بھی پڑھیں: ’دنیا میں کم لیکن پاکستان، بھارت میں جوہری ہتھیار بنانے کے رجحان میں اضافہ‘

واضح رہے کہ ایٹمی سائنس، اس کا استعمال اور توانائی کے ساتھ کام کرنے کی پاکستان کی طویل تاریخ موجود ہے، یہ چھٹا ملک تھا جس نے آئی اے ای اے قانون کی توثیق کی اور ایسا کرتے ہوئے اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے پاکستان نے درکار 18 منظوریوں میں سے ایک منظوری فراہم کی تھی۔

مزید یہ کہ پاکستان نیوکلیئر پاور کمپلیکس (کے این یو پی پی) کے قیام کے بعد ہی پاکستان کا قومی جوہری توانائی پروگرام 1972 سے موجود ہے اور اس وقت ملک میں میانوالی اور سندھ کے جنوب مشرقی ضلع میں منصوبوں کے ساتھ 5 کمرشل جوہری پلانٹس موجود ہیں۔

علاوہ ازیں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان نے بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک متعدد نئے پلانٹس لگانے کا بھی منصوبہ بنا رکھا ہے۔