نندی پور منصوبہ کیس میں فیصلہ محفوظ

اپ ڈیٹ 28 فروری 2020

ای میل

پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کیس کے ملزمان میں  شامل ہیں — فائل فوٹو: ڈان
پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کیس کے ملزمان میں شامل ہیں — فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر کردہ نندی پور پاور پروجیکٹ ریفرنس میں فیصلہ محفوظ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کیس میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر بابر اعوان اور سابق سیکریٹری قانون جسٹس (ر) ریاض کیانی کو گزشتہ برس اس وقت کے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کی جانب سے بری کردیا گیا تھا۔

تاہم جج ارشد ملک کو ویڈیو اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد برطرف کردیا گیا تھا جس کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان نے مذکورہ کیس پر فیصلہ محفوظ کیا۔

مزید پڑھیں: نندی پور ریفرنس: بابر اعوان بری، راجا پرویز اشرف کی درخواست مسترد

کیس میں جو ملزمان نامزد ہیں ان میں پیپلز پارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف، سابق وفاقی سیکریٹری مسعود چشتی، شاہد رفیع اور وزارت قانون اور واٹر اینڈ پاور کے دیگر حکام شامل ہیں۔

مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں حتمی دلائل دینے ہوئے وکیل دفاع کا کہنا تھا کہ استغاثہ اس سے فائدہ اٹھانے والوں کی نشاندہی کرنے میں ناکام ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ کا کیس یہ تھا کہ حکومتی عہدیداران نے نندی پور پاور پروجیکٹ میں وقت پر ضروریات مکمل نہیں کیں۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ نیب قوانین کے حوالے سے حالیہ صدارتی آرڈیننس میں یہ واضح کیا گیا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال اس وقت تک جرم کے زمرے میں نہیں آئے گا جب تک اس سے مالی فائدے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہو۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ استغاثہ نے 9 جلدوں پر مشتمل پورا ریکارڈ میز پر رکھ دیا ہے جبکہ وزارت توانائی، کابینہ ڈویژن اور قانون و انصاف سے اہم گواہان نے اپنے بیانات ریکارڈ کرادیے ہیں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو منصوبے کے تاخیر یا نظر اندازی کو جوڑنے والا کوئی چھوٹا سا ثبوت بھی پیش نہیں کیا جاسکا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزارت قانون نے منصوبے کے لیے کوئی معاہدے کی منظوری نہیں دی جبکہ ان کے موکل نے وزارت قانون سے استعفیٰ بھی دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نندی پور ریفرنس: بابر اعوان کی بریت اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو راولپنڈی نے 5 ستمبر 2018 کو 7 سیاست دانوں اور حکام کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا اور کہا تھا کہ منصوبے میں 2 سال ایک ماہ اور 15 روز تاخیر کی گئی جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 27 ارب 30 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

گوجرانوالہ میں بننے والا یہ منصوبہ وقت پر مکمل اور فعال نہیں ہوسکا کیونکہ ملزمان قانونی تجویز جاری کرنے میں ناکام ہوگئے تھے۔

نندی پور پاور پروجیکٹ کو 27 دسمبر 2007 کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 32 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی لاگت پر منظور کیا تھا۔

منظوری کے بعد 28 جنوری 2008 کو ناردرن پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ اور چین کے ڈونگ فانگ الیکٹرک کارپوریشن کے درمیان معاہدہ ہوا تھا۔

جولائی 2009 میں وزارت پانی اور توانائی نے منصوبے کے معاہدے کے شیڈول پر وزارت قانون سے قانونی تجویز طلب کی تھی تاہم ملزم نے متعدد مرتبہ پیش کرنے سے انکار کردیا تھا۔

اس کے علاوہ وزارت پانی و توانائی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے معاملہ تاخیر کا شکار ہوا۔