پشاور ہائیکورٹ: احسان اللہ احسان پر مقدمہ چلانے میں ناکامی پر ریاستی اداروں سے جواب طلب

اپ ڈیٹ 28 فروری 2020

ای میل

درخواست 2014 میں اے پی ایس حملے میں شہید ہونے والے طالبعلم کے والد فضل خان نے دائر کی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی
درخواست 2014 میں اے پی ایس حملے میں شہید ہونے والے طالبعلم کے والد فضل خان نے دائر کی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی

پشاور ہائی کورٹ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان پر مقدمہ نہ چلانے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر متعدد ریاستی اداروں کو جواب جمع کروانے کی ہدایت کردی۔

جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس اعجاز انور نے درخواست کے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 15 روز میں جواب جمع کروانے کی ہدایت کی۔

مذکورہ درخواست 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے میں شہید طالبعلم کے والد فضل خان نے دائر کی تھی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ فریقین نے احسان اللہ احسان کو سابق حکومت کی جانب سے مبینہ معافی کے منصوبے کے خلاف دائر درخواست پر دیے گئے عدالتی حکم کی سنگین خلاف ورزی کی۔

یہ بھی پڑھیں: احسان اللہ احسان کے 'فرار' سے متعلق خبر صحیح ہے، وفاقی وزیر داخلہ

مذکورہ درخواست میں چیف آف آرمی اسٹاف، ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری اور وزارتِ داخلہ، دفاع، قانون اور پارلیمانی امور کو فریق بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 6 فروری 2020 کو احسان اللہ احسان کی ایک مبینہ آڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی تھی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ سیکیورٹی فورسز کی حراست سے ’فرار‘ ہوگئے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے سے قبل احسان اللہ احسان کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے منحرف گروپ جماعت الاحرار سے منسلک تھے۔

عدالت میں درخواست گزار کے وکیل امیر اللہ خان چمکنی نے موقف اختیار کیا کہ 25 اپریل 2018 کو ہائی کورٹ بینچ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت کو اس بات کی یقین دہانی کروانے پر کہ حکومت کا احسان اللہ احسان کو معافی دینے کا کوئی ارادہ نہیں، فضل خان کی پہلی درخواست خارج کردی تھی۔

مزید پڑھیں: احسان اللہ احسان کے 'فرار' کا معاملہ: شہدا اے پی ایس کے لواحقین کا چیف جسٹس سے رجوع

وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت نے حکم دیا تھا کہ احسان اللہ احسان کو بغیر مقدمے کی تکمیل کے رہا نہیں کیا جانا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 16 دسمبر کو اے پی ایس پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں 148 طالبعلموں اور عملے کے اراکین کے علاوہ درخواست گزار کے بیٹے صاحبزادہ عمر خان بھی شہید ہوگئے تھے۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت سے میرے موکل اس بات کی سر توڑ کوششیں کررہے ہیں کہ صوبے کی تاریخ کے سیاہ ترین دن کے پسِ پردہ مجرمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ دیگر بچوں کے والدین اس ناقابلِ تصور آزمائش سے نہ گزریں جو درخواست گزار نے برداشت کی۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کے اگلے ہی روز کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: شہدائے اے پی ایس کے لواحقین کا احسان اللہ احسان کے 'فرار' کی وضاحت کا مطالبہ

ابتدائی سماعت میں وکیل نے کہا کہ حملے کے تقریباً 3 برس بعد مرکزی ملزم احسان اللہ احسان نے ہتھیار ڈالے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں حراست میں لے لیا جس سے ان کے موکل کو انصاف ہونے کی کچھ امید ہوئی تھی۔

وکیل کے مطابق درخواست گزار اس وقت حیران رہ گئے کہ جب اداروں کی جانب سے احسان اللہ احسان کو بے خبر، بے گناہ اور ایسا آدمی دکھایا گیا جس کا برین واش کیا گیا تھا جو نادانستہ طور پر صوبے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ فضل خان نے اس وقت بھی عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس پر فریقین نے عدالت کو بتایا تھا کہ دہشت گرد احسان اللہ احسان کو معافی نہیں دی جائے گی اور فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقدمے چلانے کے بجائے احسان اللہ احسان کو پرتعیش گھر فراہم کیا گیا جہاں سے وہ بعدازاں فرار ہوگئے۔


یہ خبر 28 فروری 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔