وزارت آئی ٹی نے سوشل میڈیا قوانین پر نظرثانی کیلئے پینل تشکیل دے دیا

اپ ڈیٹ 29 فروری 2020

ای میل

کمیٹی قوانین پر سول سوسائٹی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کےساتھ وسیع البنیاد مشاورت کرے گی اور اس عمل کو 2 ماہ میں مکمل کیا جائے گا — اے ایف پی: فائل فوٹو
کمیٹی قوانین پر سول سوسائٹی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کےساتھ وسیع البنیاد مشاورت کرے گی اور اس عمل کو 2 ماہ میں مکمل کیا جائے گا — اے ایف پی: فائل فوٹو

اسلام آباد: اراکین پارلیمنٹ، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور سول سوسائٹی سمیت معاشرے کے مختلف طبقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر قابو پانے کے نئے قوانین کے خلاف احتجاج کے بعد وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جمعہ کو ان قوانین پر نظرثانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔

وفاقی کابینہ نے 11 فروری کو قوانین کی منظوری دی تھی تاہم منظوری کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت کے بعد وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ شہریوں کے تحفظ (آن لائن نقصان کے خلاف) رولز 2020 کے تحت ایک نئے مشاورتی عمل کا آغاز کیا جائے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت آئی ٹی کی تشکیل کردہ کمیٹی کی سربراہی پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی کے چیئرمین امیر عظیم باجوہ کررہے ہیں جبکہ اس کے ممبران میں آئی ٹی کے ایڈیشنل سیکریٹری اعزاز اسلم ڈار، وزیر اعظم آفس کے اسٹریٹجک ریفارمز امپلیمنٹ یونٹ کی رکن تانیہ اور وزیراعظم آفس میں ڈیجیٹل میڈیا کے فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد شامل ہیں جبکہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری اور بیرسٹر علی ظفر بھی مشاورت میں شریک ہوں گے۔

کمیٹی ان قوانین کے بارے میں سول سوسائٹی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ وسیع البنیاد مشاورت کرے گی اور اس عمل کو 2 ماہ میں مکمل کرے گی۔

جمعہ کے روز سینیٹ کی کمیٹی میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا اور پینل نے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر قواعد وضع کرنے کا فیصلہ کیا۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر بابر نے کہا کہ سوشل میڈیا معمول کا معاملہ نہیں ہے اور اس سے معاشرے کے تمام طبقات کو تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'سوشل میڈیا لائف لائن اور یہاں تک کہ بہت سے لوگوں کے لیے کمائی کا واحد ذریعہ بھی بن رہا ہے اس لیے قوانین بنانے سے پہلے معاشرے کے تمام طبقات کے معاملات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا'۔

کمیٹی کی ایک رکن سینیٹر روبینہ خالد، جو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کی چیئرپرسن بھی ہیں، نے کہا کہ جب قوانین کو حتمی شکل دی جارہی تھی تو سینیٹ کی آئی ٹی کمیٹی کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا مگر پارلیمانی کمیٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے قواعد کابینہ کو بھیجے گئے تھے۔

سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ اگر سوشل میڈیا قوانین کے نفاذ کے لیے قومی ادارہ تشکیل دینا ہے تو اسے پارلیمنٹ کے ایکٹ کے تحت تشکیل دینا چاہیے۔

واضح رہے کہ قواعد کی مرکزی مخالفت پی ایف یو جے کی جانب سے سامنے آئی ہے جس نے 4 مارچ کو ان قوانین کے خلاف ملک گیر احتجاج کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔