ڈونلڈ ٹرمپ کا طالبان رہنما ملا برادر سے ٹیلی فونک رابطہ

اپ ڈیٹ 04 مارچ 2020
امریکی صدر نے بغیر کسی کا نام بتائے کہا کہ ان کی طالبان رہنما سے بات چیت بہت اچھی رہی۔ — فائل فوٹو:رائٹرز
امریکی صدر نے بغیر کسی کا نام بتائے کہا کہ ان کی طالبان رہنما سے بات چیت بہت اچھی رہی۔ — فائل فوٹو:رائٹرز

کابل: امریکا اور طالبان کے درمیان تاریخی معاہدے کے چند روز بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان رہنما سے بذریعہ ٹیلی فون رابطہ کرلیا۔

ڈان اخبار میں فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بغیر کسی کا نام بتاتے ہوئے کہا کہ 'ان کی طالبان رہنما سے بات چیت بہت اچھی رہی'۔

35 منٹ کی یہ گفتگو کابل اور طالبان کے درمیان عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سامنے آئی جس کی وجہ سے امریکا اور طالبان درمیان ہونے والے معاہدے میں طے شدہ 10 مارچ سے کابل اور طالبان مذاکرات کا آغاز غیر یقینی ہوگیا ہے۔

ادھر طالبان کی جانب سے مذکورہ ٹیلی فونک رابطے کے بارے میں بتایا گیا کہ ملا برادر نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ 'افغانستان سے فوجی انخلا کے لیے موثر اقدامات' کریں۔

خیال رہے کہ امریکا-طالبان معاہدے کے تحت غیر ملکی فورسز 14 ماہ میں افغانستان سے چلی جائیں گی جس کے بدلے میں طالبان سیکیورٹی ضمانتیں دیں گے اور کابل سے مذاکرات کریں گے۔

مزید پڑھیں: امریکا-طالبان امن معاہدے پر دستخط کے 2 روز بعد ہی افغانستان میں بم دھماکا

تاہم قیدیوں کے تبادلے پر تنازع نے یہ سوالات پیدا کردیے ہیں کہ کابل اور طالبان کے درمیان مذاکرات آگے بڑھ پائیں گے یا نہیں۔

معاہدے میں کہا گیا کہ افغان حکومت طالبان کے 5 ہزار قیدی رہا کرے گی جس کے بدلے میں طالبان ان کے ایک ہزار قیدی رہا کریں گے۔

طالبان کی جانب سے کابل سے مذاکرات سے قبل اس مطالبے پر زور دیا گیا تاہم افغان صدر اشرف غنی نے اس سے انکار کردیا۔

رپورٹ کے مطابق دوران گفتگو ملا برادر نے ٹرمپ سے کہا کہ 'کسی کو معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہ دی جائے'۔

علاوہ ازیں بلوم برگ نے رپورٹ کیا کہ وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ اور ملا عبدالغنی برادر کے درمیان گفتگو کی تصدیق اور کہا کہ امریکی صدر نے طالبان پر افغان حکومت سے مذاکرات میں شرکت کے لیے زور دیا۔

طالبان نے بیان میں کہا کہ ٹرمپ نے افغانوں کو 'سخت لوگ' کہہ کر پکارا اور کہا کہ 'آپ کے پاس ایک عظیم ملک ہے اور میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ اپنی زمین کے لیے لڑ رہے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ 'امریکا اور دیگر اقوام کے ساتھ مثبت باہمی تعلقات دیکھ رہے ہیں'۔

قبل ازیں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے فون کال کی تصدیق کی تھی۔

تاہم دوحہ معاہدے اور افغانستان میں جاری امریکا، افغان مشترکہ اعلامیے کے مابین واضح فرق مذاکرات کرنے والوں کو درپیش رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا-طالبان معاہدے میں قیدیوں کی رہائی کے لیے کہا گیا ہے جبکہ کابل سے جاری اعلامیے میں صرف دونوں اطراف سے 'قیدیوں کو رہا کرنے کے امکانات' کا تعین کرنے کا کہا گیا ہے۔

معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سے طالبان امریکا کے خلاف عوامی سطح پر 'فتح' کے دعوے کر رہے ہیں۔

طالبان حملہ

دریں اثنا عارضی تشدد میں کمی کے معاہدے کے خاتمے کے چند گھنٹوں بعد حکام کا کہنا ہے کہ 'طالبان نے افغان فوجی اڈوں پر درجنوں حملے کیے'۔

ان حملوں کی وجہ سے کابل اور طالبان کے درمیان مذاکرات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہوگیا،14 ماہ میں غیر ملکی افواج کا انخلا ہوگا

اس حوالے سے وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران طالبان نے افغانستان کے 34 صوبوں میں سے 16 صوبوں میں 33 حملے کیے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'حملوں کے نتیجے میں 6 شہری ہلاک اور 14 زخمی ہوئے جبکہ 8 دشمن بھی ہلاک ہوئے اور 15 زخمی ہوئے'۔

جنوبی قندھار صوبے کی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'صوبے میں حملوں میں سے ایک میں 2 فوجی ہلاک ہوئے'۔

علاوہ ازیں لوگار صوبے کے گورنر کے ترجمان کے مطابق حملے میں 5 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں