اٹلی میں ڈیڑھ کروڑ افراد پر قرنطینہ قوانین کا لازمی اطلاق

اپ ڈیٹ 08 مارچ 2020
— رائٹرز فوٹو
— رائٹرز فوٹو

چین میں نئے نوول کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے بعد متعدد شہروں کو قرنطینہ میں ڈال دیا گیا تھا اور اب ایک اور ملک میں ایسا ہورہا ہے۔

اٹلی نے اپنے شمالی خطے کے ایک کروڑ 60 لاکھ افراد پر قرنطینہ کو لازمی قرار دیا ہے جس میں میلان اور وینس جیسے شہر بھی شامل ہیں تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو سست کیا جاسکے۔

وال اسٹریٹ جرنل نئے ضوابط کی دستاویز کے حوالے سے بتایا لومباردیہ خطے (جس کا صدر مقام میلان ہے) اور اس کے ارگرد کے 11 صوبوں میں ہر طرح کی سرگرمیوں سے مکمل گریز کیا جائے گا۔

دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق یہ قرنطینہ 3 اپریل تک برقرار رہے گا اور اس دوران ان علاقوں میں داخل ہونے یا نکلنے کی کوشش کرنے پر جرمانے یا قید کا سامنا ہوگا (ماسوائے اگر وہ کسی سنگین وجہ کی بدولت اجازت نامہ حاصل کرلیں)۔

اتوار کے اٹلی کے وقت مطابق اتوار کی رات 2 بجے اطالوی وزیراعظم Giuseppe Conte نے حکومتی ضوابط کا اعلان کرتے ہوئے کہا 'ہمیں ایمرجنسی کا سامنا ہے، یہ ایک قومی ایمرجنسی ہے'۔

ان ضوابط کے تھت اس خطے میں عوامی ایونٹس، کانفرنسز، مذہبی اور عوامی تقریبات جیسے شادی اور آخری رسومات پر پابندی ہوگی، سنیما گھر، تھیٹر، جمز، ریسٹورنٹس، اسکائی ریزورٹس اور میوزیمز بند رہیں گے جبکہ تعلیمی ادارے کی بندش کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

وہاں کے رہائشیوں کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ صرف ایمرجنسی اور دفتری فرائض پر ہی ایک سے دوسری جگہ جائیں گے ورنہ ان کو اجازت نہیں ہوگی۔

خیال رہے کہ اٹلی یورپ کا وہ ملک ہے جہاں کورونا وائرس کی وبا کی شدت سب سے زیادہ ہے، اب تک 6 ہزار کے قریب افراد میں اس وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی تشخیص ہوچکی ہے جبکہ 233 ہلاکتیں ہوئی ہیں، جو ایشیا سے باہر سب سے زیادہ ہیں۔

صرف ہفتے کو ہی 12 سو کے قریب نئے کیسز کی تشخیص ہوئی۔

اٹلی میں اس وبا کے پھیلاﺅ کا آغاز 2 ہفتے قبل ہوا تھا اور شمالی صوبوں میں ہی 85 فیصد کیسز اور 92 فیصد ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں۔

اب نئے ڈرامائی اقدامات سے اٹلی ایک چوتھائی آبادی پر اثرات مرتب ہوں گے جو کہ چین کے بعد ایسا کرنے والا دوسرا ملک بن جائے گا جہاں 50 کروڑ کے قریب افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا تھا اور اب وہاں وبا کی شدت میں نمایاں کمی آچکی ہے۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے ایک لاکھ 7 ہزار سے زائد متاثر جبکہ 3648 ہلاکتیں ہوچکی ہیں، جبکہ صحت یاب افراد کی تعداد 60 ہزار سے زائد ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں