افغانستان کا مستقبل، امریکی عزائم اور پاکستان کے لیے امکانات

11 مارچ 2020

ای میل

کابل کے صدارتی محل میں امریکی نمائندہ خصوصی اور نیٹو ملکوں کے سفیروں اور فوجی حکام کی موجودگی میں افغان صدر اشرف غنی پیر کو ایک اور مدتِ صدارت کے لیے حلف اٹھا رہے تھے تو اچانک دارالحکومت کی فضا دھماکوں سے گونج اٹھی۔ صدر اشرف غنی نے دھماکوں کی آواز سنائی دینے پر اپنی جیکٹ کھول کر دکھائی اور کہا کہ اس جیکٹ کے نیچے کوئی حفاظتی شیلڈ نہیں، صرف لباس ہے، افغان عوام کے لیے یہ قربانی ہے، ان کا لیڈر بھی ملک کے لیے قربانی دینے کو تیار ہے۔

عبداللہ عبداللہ حلف لینے کے بعد شرکا کے نعروں کا جواب دے رہے ہیں—فوٹو رائترز
عبداللہ عبداللہ حلف لینے کے بعد شرکا کے نعروں کا جواب دے رہے ہیں—فوٹو رائترز

دوسری طرف اشرف غنی کے ساتھ اقتدار میں شریک رہنے کے بعد ان کے مدِمقابل الیکشن میں حصہ لینے والے عبداللہ عبداللہ نے انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرتے ہوئے جلسہ عام میں ملک کی صدارت کا حلف اٹھایا اور کہا کہ اگر وہ اشرف غنی کی انتخابی جیت کو مان لیں تو ملک میں جمہوریت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ عبداللہ عبداللہ نے سیاسی ڈیڈلاک کے خاتمے کے لیے دوبارہ مذاکرات کا بھی مطالبہ کیا۔

یہاں یہ بات یاد رہے کہ ایک ہی ملک میں 2 صدور اور حلف کی 2 تقریبات امریکا کی طرف سے سیاسی ڈیڈلاک توڑنے کی بھرپور کوششوں کے باوجود ہوئیں اور دونوں لیڈروں نے خود کو ملک کا منتخب صدر قرار دیا اور ایک دوسرے کو تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے دعوت نامے بھی بھجوائے۔

اشرف غنی عہدے کا حلف لے رہے ہیں
اشرف غنی عہدے کا حلف لے رہے ہیں

دونوں لیڈران کو رات بھر امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سمجھانے کی کوشش کرتے رہے۔ ایک بار یہ اطلاع بھی آئی کہ عبداللہ نے تقریبِ حلف برداری ملتوی کردی ہے اور اشرف غنی کے ساتھ زلمے خلیل زاد کی ملاقات جاری ہے یعنی ڈیڈلاک ٹوٹ سکتا ہے لیکن پھر دونوں نے حلف کی تقریب سجالی، لیکن امریکی نمائندہ خصوصی نے اشرف غنی کی تقریب میں شریک ہوکر انہیں سند اقتدار سونپ دی۔

قوم کا غم کھانے اور قربانی کا دعویٰ کرنے والے ان لیڈران کے لیے عوام نے الیکشن میں زیادہ گرمجوشی نہیں دکھائی تھی اور ووٹنگ کی شرح بہت کم رہی، اور پھر جب گنتی اور نتائج میں تاخیر ہوئی تو انتخابی فراڈ کے الزامات لگائے گئے۔

ستمبر میں ہونے والے الیکشن کے تقریباً 6 ماہ بعد بھی فریقین کوئی سیاسی حل نکالنے میں ناکام رہے۔ حلف برداری سے پہلے رات بھر ہونے والے مذاکرات میں اشرف غنی نے عبداللہ عبداللہ کو کابینہ میں 40 فیصد وزارتوں اور امن مذاکرات کی نگرانی دینے کی پیشکش کی لیکن عبداللہ عبداللہ حکومت میں براہِ راست اپنے اختیار کی بات پر اڑے رہے۔ یوں قربانی دینے والوں نے کابل میں سیاسی اختلاف کی سنگینی کو بڑھاوا دینے میں بھرپور کردار ادا کیا۔

یہ منظرنامہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط کے بعد کا ہے۔ اس معاہدے کے بعد جہاں امن کی امید جاگی تھی وہیں اس طرح کے اختلافات کا خدشہ بھی موجود تھا۔

افغان عوام نے الیکشن میں زیادہ گرمجوشی نہیں دکھائی—فوٹو: رائٹرز / فائل
افغان عوام نے الیکشن میں زیادہ گرمجوشی نہیں دکھائی—فوٹو: رائٹرز / فائل

یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ اشرف غنی کی تقریبِ حلف برداری میں شامل ہوکر اسے سند عطا کرنے والے امریکی حکام نے دوحہ معاہدے سے اشرف غنی کو باہر رکھا تھا۔ دودھ سے مکھی کی طرح نکالے جانے کے طعنوں پر آپے سے باہر ہوئے اشرف غنی نے دوحہ معاہدے کے تحت 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کرکے امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی پہلی کوشش کی۔ اشرف غنی اس کوشش میں کچھ کامیاب بھی نظر آئے کیونکہ طالبان نے کئی افغان شہروں میں سرکاری فورسز کو نشانہ بنایا اور امریکا ان فورسز کو بچانے کے لیے ڈرونز کو متحرک کرنے پر مجبور ہوا، یوں طالبان ٹھکانے میزائلوں کی زد میں آگئے۔

ابتدائی جھڑپوں سے لگا دوبارہ مکمل جنگ چھڑنے کو ہے لیکن پھر دونوں طرف سے فائر فائٹنگ کی کوشش ہوئی۔ معاہدے پر دستخط کے فوری بعد چھڑنے والی لڑائی پر امریکی سیکرٹری دفاع مارک ایسپر نے سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان امریکی فورسز پر حملے نہ کرکے معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں تاہم تشدد میں کمی کی شرط پوری نہیں کی جارہی۔

افغان طالبان کے تمام لوگوں کو آن بورڈ رکھنا ایک چیلنج ہے۔ اس گروپ میں سخت گیر بھی ہیں اور لچک رکھنے والے بھی ہیں۔ میرے خیال میں طالبان کے یہ دو دھڑے بھی ایک دوسرے کے ساتھ کشمکش میں ہیں۔ افغان اتحادیوں کے دفاع کی ذمہ داری نبھاتے رہیں گے۔ فائر فائٹنگ کی کوشش رنگ لائی اور تشدد میں کمی آگئی۔

اب اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی طرف سے بیک وقت ملک کی صدارت کا دعویٰ کھڑا ہوگیا ہے۔ بین الافغان مذاکرات میں افغان طالبان ایک فریق ہیں، باقی افغانستان کی نمائندگی کے لیے وفد میں کون کون شامل ہوگا اور وہ کس بنیاد پر نمائندہ ہوگا؟ یہ ایک بڑا جھگڑا ہے جسے طے کرنے کے بعد ہی بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے۔ ان مذاکرات میں یہ ایک بڑی رکاوٹ ہے جسے امریکا بھی سمجھتا ہے۔

اگر بین الافغان مذاکرات ناکام رہتے ہیں تو افغانستان ایک اور خانہ جنگی کی طرف جاسکتا ہے۔ امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے سے یوں لگتا ہے کہ امریکا کو افغانستان میں کسی نئی خانہ جنگی کی کوئی زیادہ پروا نہیں اور امریکی صدر صرف اور صرف امریکی ووٹروں پر توجہ دیے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر نے مستقبل میں افغانستان پر طالبان کی حکومت بننے کے امکانات کا بیان دے کر خفیہ دستاویز اور اس کے مندرجات کی تصدیق کی ہے۔

اگر بین الافغان مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے اور طالبان افغانستان میں اماراتِ اسلامیہ کی تشکیل کی کوشش میں جنگ چھیڑتے ہیں تو اس خانہ جنگی میں علاقائی طاقتیں بھی دخل اندازی کریں گی یوں افغانستان ایک بار پھر علاقائی کشمکش کا گڑھ بن جائے گا۔

ایران کے وزیرِ خارجہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا اور طالبان کے معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، امریکا کو افغان عوام کے مستقبل کے تعین کا حق نہیں۔ بھارت پہلے ہی اس معاہدے میں باہر رکھے جانے پر پریشان ہے اور اشرف غنی انتظامیہ کو مدد کے وعدے کر رہا ہے۔

اس خانہ جنگی کی صورت میں پاکستان اپنے مغربی بارڈر پر ہونے والی کشمکش سے متاثر ہوگا۔ پاکستان کو ان حالات کا مکمل ادراک ہے اسی لیے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے پہلے وزیرِ خارجہ شاہ محمود نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے امریکا کا ذمہ دارانہ انخلا چاہتا ہے۔ وزیرِ خارجہ کے بیان میں سوویت انخلا کے بعد امریکیوں کی بے اعتنائی کی طرف اشارہ تھا۔

دوحہ معاہدے کے بعد اشرف غنی، امریکی سیکرٹری دفاع مارک ایسپر اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے امن عمل پر افغان امریکا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ امریکا افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک دوسرے کی زمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے کے لیے معاہدوں میں سہولت کاری کا کام کرے گا۔ اس پر پاکستان کا ردِعمل واضح تھا کہ افغانستان کسی بھی معاہدے کے لیے براہِ راست بات کرے، امریکا افغانستان سے انخلا کی تیاری کر رہا ہے جبکہ افغانستان اور پاکستان نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ہمسایہ رہنا ہے۔

امریکا اور افغان طالبان کے درمیان جو معاہدہ سامنے آیا ہے یہ اصل معاہدے کا محض ایک حصہ ہے جو دنیا کو دکھانے کے لیے ہے، اس معاہدے کا ایک بڑا حصہ خفیہ ہے جو شاید کبھی بھی سامنے نہیں آسکے۔ امریکی کانگریس کے ارکان بھی ان خفیہ دستاویزات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کسی بھی خفیہ دستاویز کی تردید کی لیکن پھر امریکی عہدیداروں کی طرف سے تصدیق کے بعد انہیں بھی ماننا ہی پڑا۔ امریکی سیکرٹری دفاع مارک ایسپر سے سوال کیا گیا کہ 4 صفحات پر مشتمل معاہدے میں تشدد میں کمی کے الفاظ موجود نہیں، اس پر مارک ایسپر نے کہا کہ یہ الفاظ شاید اس معاہدے کے ساتھ ضمنی دستاویزات میں موجود ہیں۔ مارک ایسپر نے اس طرح خفیہ دستاویزات کا اعتراف کیا۔ امریکی صدر کے کانگریس میں سب سے بڑے حمایتی سینیٹر لنزے گراہم اور رکن کانگریس لز چینی نے بھی ان خفیہ دستاویزات پر تحفظات کے اظہار سے گریز نہیں کیا۔

خاتون رکن کانگریس لز چینی نے کانگریس میں سماعت کے دوران کہا کہ یہ خفیہ دستاویزات افغان طالبان نے دیکھی ہیں اور میرے خیال میں امریکی عوام بھی یہ جاننے کا پورا حق رکھتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے افغان طالبان کے ساتھ ان کے نام پر کیا معاہدہ کیا ہے؟ دوسری طرف سینیٹر لنزے گراہم نے افغان طالبان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغان طالبان کے ساتھ معاہدے کو امریکا کی نہ ختم ہونے والی جنگوں کے خاتمے کی طرف پہلے قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور نومبر کے الیکشن میں ایک انتخابی وعدہ پورا کرکے دوسری مدت صدارت کے متمنی ہیں۔ امریکی صدر کے عزائم کا اندازہ سیکرٹری دفاع مارک ایسپر کی طرف سے 10 مارچ سے انخلا کے اعلان سے ہوتا ہے۔ امریکا 3 ماہ میں فوج کی تعداد 14 ہزار سے کم کرکے ساڑھے 8 ہزار کردے گا۔

امریکا اور طالبان کے مابین خفیہ معاہدے کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ مکمل انخلا نہیں ہوگا بلکہ امریکا انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے لیے دستے تعینات رکھے گا۔ یہ دستے داعش کے خلاف کارروائیوں کے ذمہ دار ہوں گے، یوں 19 سال کی جنگ کے بعد امریکا اور طالبان دوست یا اتحادی کا درجہ اختیار کرلیں گے۔

معاہدے کے ابتدائی مرحلے میں افغان طالبان اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے امریکی اور غیر ملکی افواج پر داعش کے حملوں کو روکنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ معاہدے میں فریق امریکا اور ‘اماراتِ اسلامیہ’ ہیں۔ معاہدے میں اماراتِ اسلامیہ کا لفظ لکھنے کے ساتھ بظاہر یہ وضاحت شامل ہے کہ امریکا اس سے متفق نہیں لیکن معاہدہ اسی فریق کے ساتھ ہوا ہے یوں امریکا نے طالبان کی حکومت تسلیم کی ہے جو افغان دھڑوں اور باقی دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔

امریکی سیاستدان اور ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار جب افغانستان سے انخلا کی بات کرتے ہیں تو لڑاکا دستوں کی واپسی کی بات کرتے ہیں۔ لڑاکا دستے فوج کی اصطلاح نہیں بلکہ سیاسی اصطلاح ہے، اور سفارت خانوں میں تعینات سی آئی اے کے آپریٹوز، فوجی ٹرینرز، ایڈوائزرز، انٹیلی جنس رابطہ کار، ایئر اسٹرائیک فارورڈ آبزرورز، ڈرون آپریٹرز، لاجسٹک عملہ اس اصطلاح کے دائرے میں آتے ہیں، لیکن ہاں اسپیشل فورسز ان لڑاکا دستوں میں شامل نہیں ہوتے۔

سابق فوجیوں کے گروپ کامن ڈیفنس نے پچھلے سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جنگوں کے خاتمے کے لیے ایک کانفرنس بلائی اور جنگیں ختم کرنے اور فوجی واپس بلانے کے وعدے کا ایک مسودہ بنایا جس پر ڈیموکریٹ صدارتی امیدواروں میں سے صرف 2 نے دستخط کیے اور ان 2 میں سے بھی ایک خاتون امیدوار الزبتھ وارن مقابلے سے باہر ہوچکی ہیں اور دوسرے امیدوار برنی سینڈرز ہیں جو اب تک دوڑ میں شامل ہیں جبکہ باقی ڈیموکریٹ امیدوار اس پر دستخط سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا رہے۔ اس پوری صورتحال سے امریکی سیاست دانوں میں جنگوں کے خاتمے کے کمزور عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔ پھر عہد نامے پر دستخط کرنے والے امیدوار بھی فوج کی واپسی سے متعلق کوئی واضح روڈ میپ دینے میں ناکام رہے۔

افغانستان سے فوجی انخلا کے لیے نہ صرف واشنگٹن میں سیاسی عزم کمزور ہے بلکہ پینٹاگون اور امریکی اسٹیبلشمنٹ بھی مکمل انخلا کے حق میں نہیں۔ امریکا کو افغانستان میں موجود اڈے چین، روس اور ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ہر صورت میں درکار ہیں۔ پینٹاگون طالبان سے معاہدے کے بعد سپر پاور مقابلے کے لیے تیاری کر رہا ہے، اور اگر امریکا افغان فوجی اڈے خالی کردیتا ہے تو سپر پاور مقابلے میں اہم اسٹریٹیجک پوزیشن کھو سکتا ہے۔ پھر اگر امریکا فوجی دستے واپس بلا بھی لیتا ہے تو کنٹریکٹرز واپس بلانے کی گارنٹی کہیں بھی نہیں لکھی۔

اس بات کی تصدیق یوں بھی ہوتی ہے کہ امریکا نے افغانستان سے فوجی انخلا سے پہلے اسپیشل آپریشنز فورسز نیٹ ورک کی تیاری شروع کردی ہے۔ امریکا 14 ہزار فوجیوں کو کم کرکے ساڑھے 8 ہزار تک لا رہا ہے لیکن اس نیٹ ورک کے لیے کتنے اہلکار تعینات ہوں گے یہ ابھی واضح نہیں کیا گیا۔ امریکی جرنیل افغانستان سے انخلا کی صورت میں 3 سے 5 ہزار اہلکاروں پر مشتمل انسدادِ دہشت گردی فورس کی تجویز دیتے آئے ہیں۔ امریکی عہدیدار نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا سے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ 14 ماہ میں انخلا ایک عزم ہے یہ حتمی وقت نہیں۔

امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں واضح کرچکے ہیں کہ ساڑھے 3 ہزار فوجیوں کا انخلا 135 دنوں میں ہونا ہے، اگر ان دنوں میں تشدد میں واضح کمی نہ آئی تو فوجی انخلا رک بھی سکتا ہے۔ خلیل زاد کی یہ وضاحت منظرِعام پر آنے والے معاہدے میں موجود نہیں بلکہ ممکنہ طور پر خفیہ دستاویز کا حصہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو معاہدہ کیا ہے وہ ایک جوا ہے۔ اگر ٹرمپ دوبارہ صدر بن گئے تو اس معاہدے پر عمل کی کوشش کرسکتے ہیں لیکن اگر وہ اس جوئے میں ناکام رہے تو جیت کر آنے والا نیا صدر اس ڈیل پر نظرثانی کرسکتا ہے۔

اگر امن معاہدہ کسی بھی موقع پر ناکام ہوتا ہے تو طالبان افغان فورسز پر حملوں میں تیزی لائیں گے اور افغان فورسز امریکا کی مدد کے بغیر دفاع کے قابل نہیں۔ ان حالات میں افغان فورسز مکمل ناکامی کی صورت میں تتر بتر ہوسکتی ہیں اور تاجک اور دیگر نسلی گروپ دوبارہ خانہ جنگی کا حصہ بن سکتے ہیں اور افغان طالبان یکطرفہ طور پر اماراتِ اسلامیہ کے قیام کا اعلان کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں کانگریس میں دونوں جماعتیں امریکی انخلا کے خلاف قرارداد یا بل منظور کرسکتی ہیں اور امریکی صدر ٹرمپ حقیقی امن تک فوجی انخلا روکنے کا اعلان کرسکتے ہیں۔

یہ تمام امکانات امریکی، پاکستانی اور دیگر بین الاقوامی قیادت کی نظروں سے اوجھل ہرگز نہیں ہوں گے۔ ان امکانات کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو امن عمل میں پہلے سے زیادہ سرگرم کردار ادا کرنا پڑے گا تاکہ مغربی سرحد پر حالات دوبارہ خراب ہونے سے روکے جاسکیں اور مہاجرین کا نیا ریلا مسائل کے نئے انبار کے ساتھ پاکستان میں داخل نہ ہو۔

اس سرگرم کردار کے لیے پاکستان کو امریکا اور دیگر طاقتیں رعایتیں دینے پر مجبور ہوں گی۔ امریکا میں یہ بات زیرِ بحث ہے کہ پاکستان کو اس کردار کے بدلے آزاد تجارتی معاہدے کی پیشکش کی جائے۔ امریکی صدر بھی بار بار پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کی بات کرکے اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

لیکن یہ سب پاکستانی حکام پر منحصر ہے کہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی مفادات کے حصول کے لیے اس موقع کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اگر پاکستان نے اپنے پتے درست طریقے سے کھیلے تو امریکا مارچ میں ساڑھے 3 ہزار فوجیوں کے انخلا تک پاکستان کو آزاد تجارتی معاہدے سمیت کئی رعایتوں کی پیشکش کرسکتا ہے۔