کابل میں پاکستانی سفارتی اہلکار میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی، دفتر خارجہ

ای میل

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق کابل میں پاکستانی سفارتی اہلکار میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی — فائل فوٹو: ڈان نیوز
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق کابل میں پاکستانی سفارتی اہلکار میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی — فائل فوٹو: ڈان نیوز

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ افغانستان کے دارالحکموت کابل اور شہر ہرات میں قائم پاکستانی سفارتخانے اور قونصلیٹ کے ویزا سیکشن انتظامی وجوہات کی بنا پر بند کیے گئے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق کابل میں پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار محمد اصغر میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ افغانستان میں قائم پاکستانی سفارت خانے اور قونصلیٹ میں موجود سفارتی اہلکاروں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد وہاں سفارت خانے اور قونصلیٹ کو بند کردیا گیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزارتِ صحت وفاقی سطح پر اور صوبائی حکومتیں کورونا وائرس کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس چین کے صوبہ وہان سے شروع ہوا اور کئی ممالک میں پھیل چکا ہے، تمام ممالک اپنے شہریوں اور دیگر افراد کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہوگیا،14 ماہ میں غیر ملکی افواج کا انخلا ہوگا

ترجمان عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ اٹلی سمیت تمام ممالک اس وبا کے لیے حفاظتی اقدامات اٹھا رہے ہیں اور پاکستان میں بھی ائیرپورٹس سمیت تمام مقامات پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تفتان سرحد پر زائرین اور ٹرکس کی آمدورفت شروع ہو گئی ہے۔

دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے 11 مارچ تک دنیا بھر کے 115 ممالک کے تقریبا ایک لاکھ 20 ہزار افراد کو متاثر کیا اور اس وائرس سے اسی عرصے میں تقریبا 4 ہزار ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

چین سے شروع ہونے والے اس وائرس نے تقریبا دنیا کے نصف ممالک جن میں پاکستان، امریکا، اٹلی، جرمنی، ایران، سعودی عرب، بھارت اور برطانیہ جیسے ممالک بھی شامل ہیں ان کو اپنی لپیٹ میں لیا، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے 11 مارچ کی شب اسے عالمی وبا قرار دیا۔

اس سے قبل ہی عالمی ادارہ صحت کورونا وائرس کو وبا قرار دے چکا تھا تاہم جب اس وائرس میں شدت آگئی اور یہ نصف دنیا تک پھیل گیا تو ڈبلیو ایچ او نے اسے عالمی وبا قرار دیا۔

افغان الیکشن

حال ہی میں افغانستان میں ہونے والے الیکشن پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان الیکشن کمیشن نے اشرف غنی کی کامیابی کا اعلان کیا ہے اور پاکستان افغان صدر اشرف غنی کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے صدر اشرف غنی کو مبارکباد بھی دی ہے۔

خیال رہے کہ فروری2020 میں افغانستان کے الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر اشرف غنی کی کامیابی کا اعلان کیا تھا لیکن ان کے سخت ترین حریف عبداللہ عبداللہ نے کہا تھا کہ وہ اور ان کے اتحادی انتخاب جیتے ہیں اور اصرار کیا کہ حکومت وہ ہی بنائیں گے۔

اس سلسلے میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں نے پیر کے روز حلف برداری کے دعوت نامے تقسیم کر دیے تھے۔

یہ بھی پڑھین: سعودی فرماں روا کے بھائی، بھیتیجے ’بغاوت کی منصوبہ بندی‘ پر زیر حراست

9 مارچ کو افغانستان کے صدر اشرف غنی نے تنازع کے باوجود دوسری مرتبہ صدارت کا حلف اٹھا لیا جبکہ عبداللہ عبداللہ نے بھی متوازی تقریب کا اہتمام کیا اس دوران دو دھماکے بھی ہوئے تھے۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان افغان امن معاہدہ اہم پیش رفت ہے اور اُمید رکھتے ہیں کہ انٹرا افغان مذاکرات شروع ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کے عوام کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا جبکہ پاکستان افغانستان کے امن کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ افغان طالبا اور امریکا کے درمیان 29 فروری کو امن معاہدہ ہوا تھا جس پر امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد اور طالبان کے سیاسی امور کے سربراہ ملا عبدالغنی نے دستخط کیے تھے۔

سعودی شاہی خاندان کے افراد کی گرفتاری کا معاملہ

سعودی عرب میں بغاوت اور شاہی خاندان کے افراد کی گرفتاریوں سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسی ہے کہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ 7 مارچ کو سعودی حکام نے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بھائی اور بھتیجے سمیت 3 شہزادوں کو بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا تھا۔

بعد ازاں 9 مارچ کو سعودی عرب نے شاہی خاندان کی گرفتاریوں کے بعد ’سیکیورٹی کریک ڈاؤن‘ کو توسیع دیتے ہوئے حکومتی عہدیداران اور فوجی افسران تک بڑھا دیا تھا۔

مزید پڑھیں: مسئلہ کشمیر ہمارے ایجنڈے میں سرفہرست ہے، نمائندہ او آئی سی

علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی جہاں بھی مقیم ہیں ان کو حکومتوں کی طرف سے جاری ہدایات پر عمل کرنا ہو گا۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان اپنے سفارتکاروں کی حفاظت کے لیے حکمت عملی مرتب کر رہا ہے اور وزیر خارجہ اور سیکریٹری خارجہ اس حوالے سے مشاورت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ضرورت کے مطابق فیصلے کئے جائیں گے۔

او آئی اسی سیکریٹری جنرل کے نمائندے کا ایل او سی کا دورہ

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی یوسف الدوبے نے آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور پاکستان کا دورہ کیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کھل کر کہا ہے کہ او آئی سی جموں و کشمیر کو ترجیح دیتا ہے اور او سی آئی کے کشمیر پر کردار کے حوالے سے کوئی مبالغہ نہیں ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ سیکریٹری جنرل او آئی سی کے خصوصی سفیر برائے جموں و کشمیر یوسف محمد الدوبے 6 رکنی وفد کے ہمراہ 5 روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے۔

اپنے دورے کے دوران اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی برائے جموں و کشمیر یوسف محمد الدوبے نے اعلان کیا تھا کہ او آئی سی کا وفد مقبوضہ جموں و کشمیر کا دورہ کر کے صورت حال کا جائزہ لے گا اور رپورٹ او آئی سی کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

سائنس نمائش

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے ہفتہ وار میدیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ16 اور 17 مارچ کو سائنس نمائش کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نمائش کا مقصد سائنس اور دورِ جدید کے تقاضوں سے آگاہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نمائش کا اہتمام پاک چائنا فرینڈشپ سینٹر میں کیا جائے گا۔