'1947 سے اب تک ڈھائی ہزار آرڈیننسز جاری ہوئے'

اپ ڈیٹ 13 مارچ 2020

ای میل

بیرسٹر شاہ نواز رانجھا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرادی — فائل فوٹو:اے پی پی
بیرسٹر شاہ نواز رانجھا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرادی — فائل فوٹو:اے پی پی

اسلام آباد: 1947 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے پاکستان نے معمول کی قانون سازی کے متبادل 2 ہزار 500 سے زائد آرڈیننسز جاری کیے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قانون ساز بیرسٹر شاہ نواز رانجھا کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ صدر مملکت کو آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے جو عارضی 2 صورتوں میں عارضی قانون سازی کے لیے دیا گیا ہے کہ جب سینیٹ یا قومی اسمبلی کا اجلاس نہ ہورہا ہو یا پھر فوری اقدامات کی ضرورت پڑ گئی ہو۔

درخواست گزار کے وکیل عمر گیلانی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قیام پاکستان کے بعد سے تقریباً ڈھائی ہزار وفاقی سطح کے آرڈیننسز منظور ہوچکے ہیں۔

گزشتہ سماعت پر وزارت قانون و انصاف کا کہنا تھا کہ 2008 سے 2018 کے درمیان 156 آرڈیننسز جاری ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: آرڈیننس کے نفاذ کا صدارتی اختیار محدود کرنے کا بل سینیٹ میں جمع

شاہ نواز رانجھا، جو رکن قومی اسمبلی بھی ہیں، نے 30 اکتوبر 2019 کو صدر مملکت کی جانب سے جاری 8 آرڈیننسز پر تنقید کی اور کہا کہ 'ان آرڈیننسز کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کے بالترتیب 5 نومبر اور 7 نومبر سے ہونے والے اجلاس سے قبل جاری کیا گیا جس کے بارے میں صدر مملکت کو معلوم تھا مگر پھر بھی انہوں نے بغیر دیر کیے ایک ہی روز میں 8 آرڈیننسز جاری کیے۔

تاریخ کا پس منظر دیتے ہوئے درخواست میں کہا گیا کہ لفظ 'آرڈیننس' کا مطلب 'مستند سمت یا حکم' ہے جو انگلینڈ 1642 سے 1660 کے مختصر سے عرصے میں قانونی اہمیت اختیار کرگیا۔

یہ وہ دور تھا جس میں بادشاہ اور پارلیمنٹ ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے جس کے نتیجے میں انگلینڈ کے عام آئینی اداروں میں جہاں بادشاہ اور پارلیمنٹ کے اتفاق رائے سے قانون سازی کی جاتی تھی، کو معطل کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے رائلز کی رضا مندی کے بغیر منظور کردی قوانین کو آرڈیننس کہا جاتا ہے، 1660 کے بعد آئینی بالادستی کی بحالی کے ساتھ تمام آرڈیننس ختم ہوگئے اور کوئی نیا آرڈیننس پاس نہیں ہوا۔

برطانوی بھارت میں، 'آرڈیننس' کی اصطلاح کو سب سے پہلے ہندوستانی کونسلز ایکٹ، 1861 میں استعمال کیا گیا تھا، قانون کے تحت، بھارت میں عام قانون ساز ادارہ گورنر جنرل-ان-کونسل تھا، ایسی کونسل جس کی سربارہی گورنر جنرل کر رہے تھے اور اس میں برطانوی حکومت کی جانب سے تعینات کیے گئے برطانوی اور بھارتی شہری دونوں شامل تھے۔

پاکستان میں آرڈیننس سے متعلق دفعات 1956 کے آئین کے آرٹیکل 69 میں شامل کی گئیں، 1960 میں، سر شہاب الدین کی سربراہی میں آئین کمیشن نے آرڈیننس کے خیال پر سخت تنقید کی تاہم جنرل ایوب خان کے تیار کردہ 1962 کے آئین کے آرٹیکل 29 میں اسے برقرار رکھا گیا تھا، صدر مملکت کو آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار 1973 کے آئین کے آرٹیکل 89 میں مل گیا۔

حقائق یہ تھے کہ سابق صدر اسکندر مرزا نے ایک منتخب بلدیاتی حکومت کو تحلیل کرنے کے لیے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا اور اس کی جگہ ایک چنا ہوا ایڈمنسٹریٹر لایا گیا تھا تاکہ مبینہ طور پر آئندہ انتخابات میں ان کی ری پبلکن پارٹی کو فائدہ پہنچے جسٹس کیکاوس نے اس سراسر غیر ضروری آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ آرڈیننس بنانے کی طاقت کو معمول کے مطابق استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ 'مذکورہ بالا دلائل کے پیش نظر عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ آرڈیننس بنانے کے اختیارات کا دائرہ کار ایک بار پھر واضح کیا جائے اور یہ اعلان کیا جانا چاہیے کہ قانون بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کا ہے، جس میں حکومت اور حزب اختلاف دونوں شامل ہیں اور جس میں نہ صرف قومی اسمبلی بلکہ سینیٹ بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کا نوٹی فکیشن جاری

درخواست گزار کے مطابق، آرڈیننسز کو صرف ایسی قانون سازی کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جو: (الف) وفاقی حکومت کو جنگ، قحط، وبا یا بغاوت جیسی ہنگامی صورتحال پر رد عمل دینے کے قابل بنانا ضروری ہو، جس کی وجہ سے پاکستان کی عوام کی جان، آزادی، جائیداد داؤ پر لگی ہو، (ب) جہاں پارلیمنٹ کے آخری اجلاس کی توہین کے بعد ہنگامی صورتحال کا رد عمل دیا جارہا ہو یا پھر (ج) جہاں پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان کے اگلے اجلاس طلب کرنے کا انتظار کرنا پاکستان کے عوام کی جان، آزادی یا املاک کے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنے۔

اس کے علاوہ درخواست میں گیا کہ یہ اعلان کیا جانا چاہیے کہ کم از کم مستقبل میں کوئی بھی آرڈیننس، جو آرٹیکل 89 کے تحت دیے گئے اختیارات سے منظور ہوا، الٹرا وائرز قرار دیا جائے گا اور اگر اس طرح کا اعلامیہ جاری ہوتا ہے تو پھر اس طرح کے غیر قانونی آرڈیننس کے تحت کی جانے والی تمام کارروائیوں کا کوئی قانونی حرمت نہیں ہوگی۔