'72 گھنٹے میں واپسی کی ہدایت تمام سعودی شہریوں، اقامہ والوں کیلئے ہے'

اپ ڈیٹ 13 مارچ 2020

ای میل

—فائل فوٹو: اےپی
—فائل فوٹو: اےپی

ریاض میں پاکستانی سفارتخانے نے ان خبروں کی وضاحت کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستانیوں سمیت تمام غیر ملکیوں کو 72 گھنٹے میں اپنے ملک واپس جانے کی ہدایت کی ہے۔

ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے وضاحت سامنے آئی ہے کہ سعودی جنرل اتھارٹی سول ایوی ایشن (جی اے سی اے) کے 12 مارچ والے مراسلے کے تیسرے آرٹیکل کے مطابق '72 گھنٹے کی مدت تمام سعودی شہریوں اور اقامہ کے حامل افراد کے لیے ہے جو اپنے ملک (سعودی عرب) واپس آجائیں'۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس، سعودی عرب کا ملک کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ

بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ اسی مراسلے کے آرٹیکل 2 کے مطابق 72 گھنٹے کے بعد رعایت صرف ان فلائٹس کو ملے گی جو سعودی عرب کے شہریوں کو واپس لارہی ہیں یا پھر ریاض سے فلائٹس (فلپائین، بھارت، پاکستان، سری لنکا اور انڈونیشیا) جارہی ہیں۔

اس ضمن میں ریاض میں پاکستانی سفارتخانے نے بتایا کہ وہ حالات کا باغور جائزہ رہے ہیں اور متعلقہ سعودی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر سعودی عرب نے پورے ملک کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے شہریوں اور رہائشیوں کے سفر کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔

ساتھ ہی سعودی عرب کی حکومت نے پاکستان اور یورپی یونین سمیت 12 ممالک کے ساتھ پروازوں کو بھی روک دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں کورونا کے نئے کیسز پر قطیف میں لاک ڈاؤن، تعلیمی ادارے بند

سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے وزارت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب نے کورونا وائرس کے خطرے کے باعث مختلف ریاستوں کے ساتھ پروازوں کو معطل کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو بیرون ملک جانے سے بھی روک دیا جب کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے اپنے شہریوں کو بھی جلد واپس ملک آنے کی ہدایت کردی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کے پیش نظر حکومت نے سخت انتظامات کرتے ہوئے نہ صرف کئی ممالک کے ساتھ پروازوں کو معطل کردیا بلکہ دوسرے ممالک کے دورے پر گئے اپنے شہریوں کو بھی 72 گھنٹے میں واپس آنے کی ہدایت کی گئی چوں کہ ممکنہ طور پر حکومت ملک کو ہی اٹلی کی طرح لاک ڈاؤن کردے گی۔

اگرچہ واضح طور پر سعودی عہدیداروں نے اس بات کا عندیہ نہیں دیا کہ حکومت ملک کو لاک ڈاؤن کرنے جا رہی ہے تاہم حکومت کی جانب سے دوسرے ممالک کے ساتھ پروازوں کی معطلی اور اپنے شہریوں کو واپس آنے کی ہدایات کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا۔

سعودی حکومت نے کورونا وائرس کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کرتے ہوئے پہلے ہی سخت انتظامات کرتے ہوئے عارضی طور پر عمرے پر پابندی عائد کرنے سمیت قریبی ممالک کے ساتھ زمینی سرحد کو بھی بند کر رکھا ہے۔

مزید پڑھیں: مسجد الـحرام میں مطاف کو عمرہ ادا نہ کرنے والے افراد کیلئے کھول دیا گیا

سعودی عرب کی جانب سے پہلے ہی اپنی پڑوسی عرب ریاستوں سمیت 19 ممالک کے لیے سفری پابندی لگائی گئی تھی، ساتھ ہی انہوں نے ایسے افراد پر 5 لاکھ ریال جرمانہ بھی عائد کرنے کا کہا ہے جو انٹری پوائنٹس پر صحت کی معلومات اور سفری دستاویزات فراہم نہیں کریں گے۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سعودی حکومت نے یورپی یونین، سوئٹزرلینڈ، بھارت، پاکستان، سری لنکا، فلپائنز، سوڈان، ایتھوپیا، جنوبی سوڈان، اریٹریا، کینیا، ڈجیبوتی اور سومالیہ کے ساتھ پروازوں کو معطل کیا۔

خیال رہے کہ سعودی وزارت صحت کے مطابق ریاست میں جمعرات کو 24 نئے کیسز سامنے آنے کے ساتھ مجموعی کیسز کی تعداد 45 تک جا پہنچی ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے کورونا وائرس کے پہلے کیس کے سامنے آنے کے ساتھ ہی حفاظتی اقدامات میں تیزی کردی تھی۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: سعودی عرب نے عمرے پر عارضی پابندی لگادی

ابتدائی طور پر سعودی حکومت نے مکہ اور مدینہ میں غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کی تھی تاہم 4 مارچ کو سعودی عرب نے کورونا وائرس پھیلنے کے خدشات کے باعث عمرے کی ادائیگی کو بھی عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔

بعد ازاں اس پابندی کو مقامی سطح تک پھیلاتے ہوئے عمرے پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

5 مارچ کو مطاف کو بھی تفصیلی صفائی اور جراثیم کش اقدامات کے سلسلے میں خالی کروالیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ احتیاطی تدابیر اور ڈس انفیکشن کے لیے عارضی طور پر مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو بھی بند کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں اسے کھول دیا گیا تھا۔

7 مارچ کو مسجد الـحرام میں مطاف کو تفصیلی صفائی کے لیے بند کرنے کے بعد عمرہ ادا نہ کرنے والے افراد کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ’پی ایس ایل کی وجہ سے کورونا کیسز چھپانے کی بات بالکل غلط ہے‘

9 مارچ کو سعودی عرب نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی کے پیش نظر مشرقی علاقے قطیف کو بند کردیا تھا، حفاظتی اقدامات کے تحت 9 ممالک کے لیے فضائی اور بحری سفر معطل جبکہ اسکول اور یونیورسٹیاں بند کردیں تھیں۔

علاوہ ازیں گزشتہ روز سعودی عرب نے تمام سنیما کو اگلے احکامات سامنے آنے تک عارضی طور پر بند کردیا تھا۔