عدالتیں حکومت کو میڈیا پر پابندی لگانے کی اجازت نہیں دیں گی، اسلام آباد ہائی کورٹ

اپ ڈیٹ 15 مارچ 2020

ای میل

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے میڈیا کے اخلاقیات اور ضوابط کے حوالے سے کیس کی سماعت  کی — فائل فوٹو: اے پی پی
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے میڈیا کے اخلاقیات اور ضوابط کے حوالے سے کیس کی سماعت کی — فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ہدایت جاری کی ہیں کہ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قواعد و ضوابط عدالت میں جمع کرائے اور ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ آئینی عدالتیں حکومت کو میڈیا پر ایسی کوئی پابندی عائد کرنے کی اجازت نہیں دیں گی جیسا کہ پڑوسی ملک میں ہورہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے گزشتہ روز میڈیا کے اخلاقیات اور ضوابط کے حوالے سے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ تعمیری تنقید قوم کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ 'کوئی بھی تنقید سے خوفزدہ کیوں ہوگا؟'

مزید پڑھیں: حکومت نے سوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی

سماعت کے دوران معروف صحافی حامد میر نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نوٹی فکیشن جاری کیا ہے تاہم وفاقی وزرا ان ریگولیشنز سے متعلق نہیں جانتے اور انہوں نے عوام کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ یہ وفاقی کابینہ کے اتفاق رائے کے بغیر ہی جاری کیا گیا ہے۔

پی ٹی اے اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے عالمی و قومی سطح پر تنقید کے بعد ان ضوابط پر نظر ثانی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔

انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ ان ضوابط کا سرکاری جریدے میں نوٹی فائی ہونے کے بعد سے اب تک نفاذ نہیں ہوا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے پی ٹی اے اور پیمرا کے نمائندگان کو ہدایت کی کہ ان ضوابط کی تفصیلات جمع کرائیں اور سماعت کو آئندہ روز تک کے لیے ملتوی کردیا۔

اس سے قبل سوشل میڈیا قواعد کو چیلنج کرنے والے وکیل بیرسٹر جہانگیر جدون نے عدالت کو بتایا تھا کہ جنگ گروپ کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے بعد پیمرا نے مبینہ طور پر کیبل آپریٹرز سے جیو ٹی وی کی نشریات بند کرنے کا کہا ہے جس کے بعد چینل کو یا تو بند کردیا گیا ہے یا پھر اس کا نمبر سب سے آخری کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وکلا تنظیموں کا سوشل میڈیا ریگولیشن پر اظہار تشویش

اسی دوران جب حامد میر نے نشاندہی کی کہ بھارتی حکومت نے بھی ایک روز قبل 2 چینل بند کیے ہیں تو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے واضح کیا کہ آئینی عدالت پاکستان میں اس طرح کا کوئی بھی اقدام روکے گی۔

حامد میر نے مؤقف اپنایا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے عدالتی احکامات کو خاطر خواہ میں نہیں لا رہی اور اس نے میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار کیا ہے جو تفتیشی افسر کے ساتھ تعاون کر رہے تھے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حال ہی میں احکامات جاری کیے تھے کہ جس میں چند ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے چند شرائط طے کی گئی تھیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت نے قانون کی تشریح کی تھی اور اب یہ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کریں۔

انہوں نے اسے انتباہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس سنگین صورتحال کا اندازہ ہوجانا چاہیے۔