کورونا وائرس: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی عالمی جنگ بندی کی اپیل

اپ ڈیٹ 24 مارچ 2020

ای میل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مسلح تنازعات کو روک کر مہلک وبا سے لڑنے پر زور دیا أ فائل فوٹو: اے پی
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مسلح تنازعات کو روک کر مہلک وبا سے لڑنے پر زور دیا أ فائل فوٹو: اے پی

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کورونا وائرس کے پیش نظر عالمی سطح پر جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقت مسلح تنازع کو لاک ڈاؤن کرنے اور اپنی توجہ ہماری زندگیوں کے لیے حقیقی خطرے سے لڑنے کا ہے۔

ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری دنیا کو مشترکہ دشمن (کورونا وائرس) کا سامنا ہے جو کسی قومیت، لسانیت، فرقے یا مذہب کو نہیں دیکھتا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب دنیا میں مسلح تنازع میں اضافہ ہوتا ہے تو خواتین، بچوں، معذور افراد اور نقل مکانی کرنے والوں کو سب سے زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے‘۔

مزید پڑھیں: چین میں وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ، 78 نئے کیسز رپورٹ

انہوں نے کہا کہ ’ان لوگوں میں کورونا وائرس سے ہونے والے نقصانات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنگ زدہ علاقوں میں صحت کا نظام تباہ ہوچکا ہے‘۔

انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ ’صحت کے ماہرین جو پہلے ہی بہت تھوڑی تعداد میں ہیں، کو اکثر ہدف بنایا جاتا ہے، پناہ گزین اور تشدد کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو اس وقت سب سے زیادہ خطرہ ہے، وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ جنگ کتنی بڑی حماقت ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وقت ہے کہ ہم اپنے مسلح تنازع کو لاک ڈاؤن کریں اور ہماری جانوں کے حقیقی دشمن پر توجہ مرکوز کریں‘۔

انہوں نے جنگ لڑنے والے ممالک سے کہا کہ ’دشمنی سے پیچھا چھڑائیں، عدم اعتماد اور عداوت کو ایک طرف رکھیں، بندوق توپ کو خاموش کریں، فضائی حملے ختم کریں، یہ بہت اہم وقت ہے جان بچانے والی امداد کی راہیں کھولنے کا، سفارتکاری کے قیمتی دروازے کھولنے کا اور خطرے کا شکار افراد میں امید جگانے کا ‘۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: پنجاب میں پہلی ہلاکت، ملک میں 903 متاثرین ہوگئے

انہوں نے کہا کہ ’کورونا وائرس سے کچھ حصوں میں حریف جماعتوں میں آہستہ آہستہ بڑھنے والے اتحاد اور بات چیت سے سبق سیکھنا چاہیے، ہمیں اس کی مزید ضرورت ہے، جنگ کو ختم کریں اور اس بیماری سے لڑیں جو ہماری دنیا کو تباہ کررہی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کا آغاز ہر جگہ لڑائی روکنے سے ہوتا ہے، ہمارے انسانی خاندان کی پہلے سے زیادہ اب یہ ضرورت ہے‘۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا تھا جہاں صرف چین میں وائرس سے تین ہزار سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہوئی تھیں۔

ابتدائی طور پر یہ وائرس صرف چین تک محدود تھا لیکن بعدازاں یہ مشرق وسطیٰ اور یورپ میں انتہائی تیزی سے پھیلنے لگا۔

دنیا بھر میں اب تک وائرس سے 16 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 3 لاکھ 82 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں ایک لاکھ سے زائد افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔