کورونا وائرس سے نجات کیلئے پوری قوم توبہ کی طرف متوجہ ہو، علمائے کرام

اپ ڈیٹ 25 مارچ 2020

ای میل

جن گناہوں میں ہم مبتلا رہے ہیں ان پر توبہ کا یہ بہترین موقع ہے، مفتی تقی عثمانی — فوٹو: ڈان نیوز
جن گناہوں میں ہم مبتلا رہے ہیں ان پر توبہ کا یہ بہترین موقع ہے، مفتی تقی عثمانی — فوٹو: ڈان نیوز

ملک کے مختلف مکاتب فکر کے معروف و جید علمائے کرام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہے جس سے نجات کے لیے پوری قوم توبہ استغفار کی طرف متوجہ ہو۔

گورنر ہاؤس میں دیگر علمائے کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ 'علمائے کرام کے اجتماع نے اتفاق کیا ہے کہ پوری قوم توبہ استغفار کی طرف متوجہ ہو، حکومت اپنے اداروں کے ذریعے لوگوں کو استغفار کی طرف متوجہ کرے اور میڈیا کے ذریعے فحاشی اور بے حیائی کے پروگرام بند کیے جائیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'علما نے اتفاق کیا کہ مساجد کھلی رہیں گی، پنجگانہ اذان، اقامت اور باجماعت نماز جاری رہے گی، تمام نمازی گھر سے وضو کرکے آئیں اور ہر قدم پر اللہ کی طرف سے نیکیاں پائیں، سنتیں گھر پر ادا کریں، اگر طبی وجوہات کی بنا پر حکومت نمازیوں کی تعداد پر پابندی عائد کرے یا خاص عمر کے افراد کو مسجد جانے سے منع کرے تو شرعاً وہ معذور سمجھے جائیں گے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'جن میں وائرس کا شبہ ہو یا علامات پائی جائیں، 50 سال سے زائد عمر کے لوگ اور ایسے افراد کے امراض اس وائرس سے بڑھ جانے کا خطرہ ہو وبا کے پورے دور میں وہ مساجد نہ آئیں انہیں ترک جماعت کا گناہ نہیں ہوگا۔'

مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ 'جو نوجوان بزرگوں کی تیمارداری میں مصروف ہیں وہ نماز گھر پر ادا کریں، مساجد سے قالین ہٹا کر فرش کو دھونے اور صاف ستھرا رکھنے کا اہتمام کریں، مساجد کے داخلی دروازوں پر سینیٹائزر لگائیں اور جمعہ کی نماز میں عمومی اردو تقریر کی بجائے صرف 5 منٹ کے لیے کورونا وائرس سے متعلق دینی و طبی رہنمائی فراہم کی جائے اور مختصر خطبے، نماز اور دعا پر اکتفا کیا جائے اور فوراً گھروں کو چلے جائیں۔'

یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ غازی خان میں قرنطینہ میں رکھے گئے 600افراد صحتیاب ہو گئے، وزیر اعلیٰ پنجاب

انہوں نے کہا کہ 'جن حضرات کو ڈاکٹرز یا حکومت کی ہدایت پر جمعہ کی نماز میں شرکت سے روکا جائے وہ گھر پر ظہر کی نماز ادا کریں، وبا سے بچنے کے لیے جمعہ کی نماز میں شریک یا گھروں میں نماز ادا کرنے والے افراد اللہ کی پناہ طلب کریں۔'

اس موقع پر علامہ شہنشاہ نقوی نے کہا کہ اکابرین، ائمہ مساجد، علما اور ذاکرین سے مکمل ہم آہنگی کے بعد اعلان کیا جاتا ہے کہ نماز جماعت، جمعہ اور دیگر مذہبی و عقیدتی اجتماعات کے انعقاد کو روک دیا جائے۔

تاہم مساجد و امام بارگاہیں کھلی رہیں گی، احباب انفرادی عبادت کریں اور ماہرین کی آرا پر عمل کریں۔

وبا درحقیقت ہمارے لیے تنبیہ ہے، مفتی تقی عثمانی

قبل ازیں معروف عالمی دین مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ 'کوئی بھی وبا اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر نہیں آتی اور اس کا جانا بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہوسکتا ہے، اللہ نے ہمیں تدابیر اختیار کرنے کا بے شک حکم دیا ہے اور اعتدال کے ساتھ کوئی افراتفری پھیلائے بغیر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نبی کریمؐ کی سنت ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'بیماری لگنے کی طبی حیثیت شریعت میں مسلم ہے، بعض اوقات ایک بیماری ایک شخص سے دوسرے کو لگ جاتی ہے لیکن یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے اور کوئی بیماری اللہ کی مرضی کے بغیر نہیں لگ سکتی۔'

مزید پڑھیں: مساجد میں نماز کے اجتماعات پر پابندی سے متعلق حکومت تذبذب کا شکار

ان کا کہنا تھا کہ 'کیونکہ اس وائرس کے ساتھ یہ تجربہ ہوا ہے کہ یہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہمارا فرض ہے اور سنت رسول اللہؐ کے عین مطابق ہے۔'

مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ 'یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تمہارے کرتوت کی وجہ سے آتی ہے، اللہ تعالیٰ کئی چیزوں کو معاف کرتے ہیں لیکن کسی گناہ پر پکڑ ہوجاتی ہے اور اس کے نتیجے میں تم پر مصائب آتے ہیں، یہ وبا بھی درحقیقت ہمارے لیے تنبیہ ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'موجودہ صورتحال میں ایک مسلمان کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے اپنے گناہوں پر استغفار کرنا چاہیے، جن گناہوں میں ہم مبتلا رہے ہیں ان پر توبہ کا یہ بہترین موقع ہے اور اس کے بغیر شاید ہم اس وبا سے پوری طرح نجات حاصل نہ کر سکیں۔'

اس موقع پر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اجتماعی دعا بھی کرائی گئی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور ملک میں مجموعی متاثرین کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

ملک میں سب سے زیادہ کیسز سندھ میں سامنے آئے ہیں جہاں تعداد 413 ہے جبکہ اس کے بعد پنجاب میں 312 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔