میر شکیل الرحمٰن کی رہائی کی درخواست، نیب کو جواب جمع کرانے کا حکم

اپ ڈیٹ 26 مارچ 2020

ای میل

جنگ گروپ کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمٰن نے لاہور ہائی کورٹ میں رہائی کی درخواست دائر کی - فائل فوٹو:ڈان نیوز
جنگ گروپ کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمٰن نے لاہور ہائی کورٹ میں رہائی کی درخواست دائر کی - فائل فوٹو:ڈان نیوز

لاہور ہائی کورٹ میں اراضی الاٹمنٹ کیس میں گرفتار جنگ گروپ کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمٰن کی اہلیہ کی رہائی کی درخواست پر عدالت نے نیب کو جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

عدالت عالیہ کے جسٹس سردار احمد نعیم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے میر شکیل الرحمٰن کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست میں میر شکیل الرحمٰن نے مؤقف اپنایا کہ نیب نے غیرقانونی گرفتار کیا کیونکہ گرفتاری کی وجوہات بهی غیرقانونی ہیں۔

مزید پڑھیں: میر شکیل الرحمٰن کے جسمانی ریمانڈ میں 13 روز کی توسیع

دوران سماعت جسٹس سردار احمد نعیم نے ریمارکس دیے کہ ’میر شکیل الرحمٰن کا تو ریمانڈ ہو گیا ہے پھر یہ درخواست کیسے سن سکتے ہیں، اسی نوعیت کی ایک اور درخواست بھی تو آپ نے دائر کی تھی‘۔

عدالت میں میر شکیل الرحمٰن کے وکیل اعتزاز احسن نے بتایا کہ ’وہ درخواست میر شکیل کی اہلیہ کی جانب سے تھی آج میر شکیل نے خود درخواست دائر کی ہے‘۔

عدالت نے کہا کہ ’میر شکیل کی اہلیہ کی درخواست کی فائل بھی منگوا لیتے ہیں اکٹھے کیس کو سنتے ہیں‘۔

عدالت میں نیب کی جانب سے وکیل فیصل بخاری نے کہا کہ ’میر شکیل جسمانی ریمانڈ پر ہیں ان کو اکیلا رکھا گیا ہے‘۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ’نیب نے گرفتاری کا طریقہ کار خود بنایا ہے لیکن اسی کی خلاف ورزی کی گئی، نیب نے بزنس مین کو طلب نہ کرنے کا خود فیصلہ کیا تھا'۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ’کیا میر شکیل الرحمٰن بزنس مین ہیں، کیا صحافی بھی بزنس مین ہوتے ہیں‘، جس پر اعتزاز احسن نے جواب دیا کہ ان کے موکل بزنس مین ہیں اور ایک بہت بڑا گروپ چلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے میر شکیل الرحمٰن کے خلاف اراضی کیس میں نواز شریف کو طلب کرلیا

ان کا کہنا تھا کہ ’میر شکیل الرحمٰن کی رہائی کے لیے آئینی درخواست دائر کی ہے، وہ اس وقت نیب کی غیر قانونی حراست میں ہیں‘۔

عدالت نے نیب سے استفسار کیا کہ ملزم کے خلاف تحقیقات کس مرحلے پر ہیں جس پر نیب کے وکیل نے بتایا کہ میر شکیل الرحمٰن کے خلاف کیس انکوائری کی اسٹیج پر ہے اور ابھی کل ہی ہمیں ان کا ریمانڈ ملا ہے‘۔

عدالت نے نیب کے وکیل کو ہدایت دی کہ ملزم کے ریمانڈ کی کاپی درخواست کے ساتھ لگائیں اور کہا کہ ’ہم اس درخواست کو پیر کے روز سماعت کے لیے رکھ لیتے ہیں آپ ضروری دستاویزات لا کر دیں‘۔

عدالت نے درخواست پر نیب کو جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت پیر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ نیب نے 12 مارچ کو میر شکیل الرحمٰن کو 54 کینال اراضی سے متعلق 34 سال پرانے مقدمے میں گرفتار کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر ’غیر قانونی طریقے سے‘ اراضی اس وقت حاصل کی جب نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔

اس وقت عدالت نے میر شکیل الرحمٰن کو 25 مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا جس کی مدت ختم ہونے پر گزشتہ روز نیب نے عدالت سے ان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی تھی جسے عدالت نے قبول کرتے ہوئے انہیں 13 روز کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ پر بھیج دیا تھا۔