ملک بھر میں تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند، باجماعت نمازیں محدود رکھنے کا فیصلہ

26 مارچ 2020

ای میل

وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر شہری کا کام ہے، وزیر منصوبہ بندی — فوٹو: ڈان نیوز
وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر شہری کا کام ہے، وزیر منصوبہ بندی — فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں نے اتفاق رائے سے ملک کے تمام تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کورونا وائرس سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد دیگر حکومتی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ 'آج قومی سلامتی کمیٹی کا پانچواں اجلاس تھا، وائرس سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت چل رہے ہیں تاکہ کورونا وائرس کے کم سے کم منفی اثرات ہوں۔'

انہوں نے کہا کہ 'سب سے پہلی چیز جس پر سب سے زیادہ بات بھی ہوتی ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ کیسے روکا جائے، اس کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے گئے اور پابندیاں عائد کی گئیں، اگر ہم وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکیں تو اس کے خلاف سب سے بہرین ہتھیار یہی ہے لیکن اس پھیلاؤ کو روکنا صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر شہری کا کام ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ وائرس سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ کیا جائے، اس کی تشخیص کیسے کی جائے، اس کے لیے لاکھوں لوگوں کی اسکریننگ کی گئی، ٹیسٹنگ کی جارہی ہے جس کے بعد اگر متاثرہ شخص سامنے آتا ہے تو اس کے علاج کے لیے کیا کرنا ہے اور علاج کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ ہسپتالوں میں علیحدہ آئسولیشن وارڈز ہوں، آئی سی یوز میں وافر بستر ہوں، وینٹی لیٹرز ہوں اور ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف کو حفاظتی آلات و سامان کی فراہمی ہے۔'

اسد عمر نے بتایا کہ 'اجلاس میں یہ بات بھی ہوئی کہ جو پابندیاں اور بندشیں بتدریج لگائی گئی ہیں اس کے منفی اثرات کو دیکھنا اور یقینی بنانا کہ اس سے کہیں ایسی کوئی مشکل کھڑی نہ ہوجائے جو ہماری کورونا کے خلاف جنگ کو متاثر کرے، اس کے لیے بھی ایک قائم کردی گئی ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'اس وبا کا بہت بڑا منفی معاشی اثر ہے جو پوری دنیا میں نظر آرہا ہے، اسی لیے حکومت نے اتنے بڑے معاشی پیکج کا اعلان کیا، اب اس پیکج پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک اور ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور یہ کام تمام صوبوں کے ساتھ مل کر ہورہا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'اجلاس کے فیصلوں کی بات کی جائے تو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بتایا کہ تمام صوبوں کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ ملک کے تمام تعلیمی اداروں کی 5 اپریل تک کی چھٹیوں کو بڑھا کر 31 مئی تک کردیا گیا ہے، یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ٹرانسپورٹ کے نظام میں جو خلل پیدا ہو رہا ہے اس سے متعلق جمعہ کو ایک اجلاس ہوگا جس میں نظرثانی کی جائے گی۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ 'آٹے کی قیمتیں بڑھنے کی خبر آنا شروع ہوگئی تھیں، ملک میں آٹے کا کوئی بحران نہیں ہے، ملک میں 17 لاکھ ٹن آٹا موجود ہے نہ آگے کمی نظر آرہی ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'وزیر اعظم ایک دو روز میں 2 اہم اعلانات کریں گے، ایک تو موجودہ حالات میں مدد کے لیے رضاکاروں کا پروگرام ہے جبکہ دوسرا حکومت کی مالی امداد سے متعلق ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'اجلاس میں آخری فیصلہ مساجد میں اجتماعات سے متعلق کیا گیا اور اس پر کیسے عملدرآمد کرایا جائے گا۔'

ہسپتالوں میں داخل 575 میں سے 570 مریضوں کی حالت مستحکم ہے، ظفر مرزا

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ 'آج کافی طویل اجلاس تھا اور چونکہ یہ صحت کے معاملے سے متعلق تھی اس لیے اس میں بار بار ہیلتھ پروفیشنلز کا ذکر آیا، آج یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ 5 اپریل تک ہمارے پاس اتنی تعداد میں ذاتی تحفظ کی چیزیں ہوں گی کہ جو ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈکس جو براہ راست کورونا وائرس کے مریضوں کی نگہداشت پر مامور ہیں انہیں اس کی کمی نہ آئے۔'

انہوں نے کہا کہ 'اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ ہے کہ وفاقی سطح پر کورونا کے معاملات کو دیکھنے والی حکومتی ٹیم میں ماہر امراض متعدی ڈاکٹر فیصل سلطان کو شامل کیا گیا ہے اور انہیں اس مرض کے حوالے سے فوکل پوائنٹ بنایا گیا ہے۔' ان کا کہنا تھا کہ 'قومی سطح پر بہت جلد ڈاکٹر، نرسز اور پیرا میڈکس کی تربیت کے پروگرام کا آغاز کریں گے اور ابتدائی طور پر ہمارا ہدف 5 ہزار ہوگا۔'

انہوں نے ملک میں کورونا وائرس کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 'اس وقت ملک میں ایک ہزار 102 مصدقہ مریض ہیں، چوبیس گھنٹے میں 102 مریضوں کا اضافہ ہوا ہے، آزاد جموں و کشمیر میں 1، بلوچستان میں 131، گلگت بلتستان میں 84، اسلام آباد میں 25، خیبر پختونخوا میں 121، پنجاب میں 223 اور سندھ میں 417 مریض ہیں جبکہ 21 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔'

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ 'پاکستان کے مختلف ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے 575 مریض داخل ہیں ان میں سے 570 کی صورتحال مستحکم جبکہ 5 کی حالت تشویشناک ہے، 8 اموات واقع ہوئی ہیں جبکہ مختلف صوبوں میں قرنطینہ میں رکھے گئے افراد کی تعداد 6 ہزار 589 ہے۔'

انہوں نے ایک بار پھر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر بتاتے ہوئے کہا کہ 'غیر ضروری طور پر اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں، اگر باہر جانا پڑے تو لوگوں سے 2 میٹر کا محفوظ فاصلہ اختیار کریں، لوگوں سے مصافحہ نہ کریں اور گلے نہ ملیں اور وقتاً فوقتاً اپنے ہاتھوں کو صابن یا سینیٹائزر سے 20 سیکنڈ تک دھوئیں۔'

مساجد بند نہیں ہوں گی، نورالحق قادری

اس موقع پر وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا کہ مساجد بند نہیں ہوں گی تاہم باجماعت نماز اور جمعہ کی نماز کو انتہائی محدود رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مساجد کھلی رہیں گی اورذکر و اذکار جاری رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تین دن سے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ریاض شہر بند ہیں، نجف اور کربلا میں مقدس زیارات کو بھی بند کر دیا گیا ہے، ہمارا مذہب بتاتا ہے کہ نماز سے زیادہ نمازی کی اہمیت ہے۔

نورالحق قادری نے کہا کہ علما اور مشائخ سے رابطے پر صدر ڈاکٹر عارف علوی کا ممنون ہوں جبکہ سعودی عرب نے حج کے لیے خدمات، رہائش و ٹرانسپورٹ معاہدے نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

چین سے جمعہ کو 15 ٹن طبی سامان پہنچے گا،چیئرمین این ڈی ایم اے

نیشنل ڈیزاسٹر اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل محمد افضل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 'پاکستان بھر میں آئی سی یوز میں 19 ہزار 670 بستروں کی سہولت موجود ہے جبکہ قرنطینہ سینٹرز میں بستروں کی تعداد ایک لاکھ 62 ہزار پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف تھری، فور اور فائیو اسٹارز ہوٹلوں کو بھی بُک کیا گیا ہے، پاکستان بھر میں آئی سی یوز میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور عملے کی تعداد 30 ہزار ہے، ذاتی حفاظت کا سامان آئی سی یو میں کام کرنے والے طبی عملے کو فراہم کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپریل کے آخر تک ملک میں نئے وینٹی لیٹرز کی تعداد 2 ہزار ہو جائے گی، مئی تک نئے وینٹی لیٹرز کی تعداد 4 سے 5 ہزار تک بڑھائیں گے جبکہ چین سے جمعہ کو 15 ٹن طبی سامان اور 20 وینٹی لیٹر لے کر جہاز پہنچے گا۔

محمد افضل نے کہا کہ چین، ہفتے کے روز طبی سامان کے ساتھ 8 طبی ماہرین بھی بھجوائے گا، گلگت بلتستان میں کل سنکیانگ سے خنجراب کے راستے طبی سامان پہنچ جائے گا جبکہ ٹیسٹنگ لیبارٹریز میں کام کرنے والے عملے کو بھی حفاظتی سامان مہیا کیا جائے گا۔