’خطرناک افواہیں‘: کورونا وائرس سوشل میڈیا کے لیے ڈراؤنا خواب بن گیا

اپ ڈیٹ 29 مارچ 2020

ای میل

کورونا وائرس  کے ممکنہ علاج اور گمراہ کن دعووں کے نتیجے میں عوام کی جانوں کو خطرہ بڑھ گیا ہے۔ - فائل فوٹو:اے ایف پی
کورونا وائرس کے ممکنہ علاج اور گمراہ کن دعووں کے نتیجے میں عوام کی جانوں کو خطرہ بڑھ گیا ہے۔ - فائل فوٹو:اے ایف پی

امریکی صدارتی انتخابات کے پیش نظر 2020 میں سوشل میڈیا کی سب سے بڑی کمپنی فیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنی ساکھ کو خدشات کا خطرہ تھا بھلے وہ غیر ملکی ہہو یا مقامی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق تاہم نوول کورونا وائرس نے ایک نئی مشکل کھڑی کردی ہے اور ممکنہ علاج اور گمراہ کن دعووں، سازشی نظریات کے نتیجے میں عوام کی جانوں کو خطرہ بڑھ گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو وائرس کے حوالے سے اب تک 200 سے زائد افواہیں اور کہانیاں ملی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو آن لائن پھیلنے والی غلط معلومات کے پھیلاو کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس کے بحران میں تعلیم کو پہنچتا نقصان اور نئی راہیں

ایم آئی ٹی سلون اسکول آف مینیجمنٹ کے پروفیسر ڈیوڈ رانڈ کا کہنا تھا کہ ’عوام جسے سچ سمجھتی ہے اور جو لوگ شیئر کرنا چاہتے ہیں میں فرق ہے، صارفین مواد کے حوالے سے پسند یا شیئر رکھنے پر جانبدار ہیں اور ان کا یہ فیصلہ سب سے زیادہ آن لائن سامنے آتا ہے‘۔

اس کی وجہ میں سے ایک سوشل میڈیا کا الگوریتھم ہے جو کسی شخص کی عادت اور پسند سے چلتا ہے جس میں زور اس کی پسند پر ہوتا ہے نا کہ صحیح ہونے پر۔

اس کو تبدیل کرنے کے لیے فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر کمپنیوں کو یہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی کہ عوام اپنی اسکرین پر کیا دیکھیں گے۔

رواں ماہ شائع ہونے والی کورونا وائرس پر پھیلنے والی غلط معلومات پر تحقیق لکھنے والے ڈیوڈ رانڈ کا کہنا تھا کہ صارفین کو دیکھنا چاہیے کہ وہ جو سوشل میڈیا پر مواد شیئر کر رہے ہیں وہ صحیح ہے بھی یا نہیں۔

خوفناک نتائج

تقریباً ایک ہزار 600 شرکا پر کنٹرولڈ ٹیسٹس کرتے ہوئے تحقیق میں معلوم ہوا کہ جھوٹے دعوے اس لیے شیئر کیے جاتے ہیں کیونکہ عوام نہیں جانتے کہ یہ قابل اعتبار بھی ہے یا نہیں۔

ایک دوسرے ٹیسٹ میں جب عوام کو بتایا گیا کہ وہ جو شیئر کر رہے ہیں اس کے صحیح ہونے پر بھی غور کریں تو صحیح آگاہی کا پھیلاو دگنا ہوگیا۔

رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے غلط معلومات کے پھیلاو کو محدود کرنے کے لیے اس کے صحیح ہونے کے حوالے سے ایک مداخلت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کےخلاف جنگ: حکومت کے ساتھ کارپوریٹ سیکٹر، ریگولیٹری ادارے بھی شانہ بشانہ فعال

ڈیوڈ رانڈ کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کی چیزیں ہیں جس سے لوگوں کے ذہن میں صحیح ہونے کا نظریہ پیدا ہوگا، نیوز فیڈز صارف کے اپنے ہی مواد اشتہارات سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔

نوول کورونا وائرس کے حوالے سے غلط معلومات جان لیوا بھی ہوسکتی ہیں، امریکا، فرانس اور دیگر سائنسدان جہاں موثر علاج کے لیے کام کر رہے ہیں وہیں متعدد ممالک میں جھوٹی رپورٹس بھی پھیل رہی ہیں۔

ایران میں ایک میتھانول لینے کا جھوٹا علاج پھیلا جس کی وجہ سے کئی افراد بیمار اور 300 کے قریب ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔