جنگ گروپ کے چیئرمین، پبلشر میر جاوید الرحمٰن انتقال کرگئے

اپ ڈیٹ 31 مارچ 2020

ای میل

— فوٹو: بشکریہ جیو ٹی وی
— فوٹو: بشکریہ جیو ٹی وی

جیو ٹی وی کے مطابق جنگ گروپ کے چیئرمین اور پبلشر میر جاوید الرحمٰن طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے۔

علاوہ ازیں سینئر صحافی حامد میر نے ٹوئٹ میں میر جاوید الرحمٰن کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا اور طویل عرصے سے زیر علاج تھے۔

مرحوم جنگ گروپ کے بانی میر خلیل الرحمٰن کے بڑے بیٹے اور میر شکیل الرحمن کے بھائی تھے جو میڈیا گروپ کے ایڈیٹر انچیف ہیں۔

میر خلیل الرحمٰن نے جنگ گروپ کا چارج سنبھالنے کے بعد اپنے والد کی میراث کو آگے بڑھایا اور میڈیا گروپ کو وسعت دی۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے ساتھیوں اور دوستوں نے انہیں ایک 'شائستہ اور سادہ آدمی' کے طور پر یاد کیا۔

مزیدپڑھیں: نیب نے میر شکیل الرحمٰن کے خلاف اراضی کیس میں نواز شریف کو طلب کرلیا

واضح رہے میر شکیل الرحمن لاہور نیب کی حراست میں ہیں جہاں ان سے تفتیش جاری ہے اور انہیں اپنے بیمار بھائی سے ملاقات کے لیے گزشتہ روز ہی کراچی جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ 12 مارچ کو احتساب کے قومی ادارے نے جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کو اراضی سے متعلق کیس میں گرفتار کیا تھا۔

واضح رہے کہ میر شکیل الرحمٰن کو 28 فروری کو طلبی سے متعلق جاری ہونے والے نوٹس کے مطابق انہیں 1986 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کی جانب سے غیر قانونی طور پر جوہر ٹاؤن فیز 2 کے بلاک ایچ میں الاٹ کی گئی۔

دوسری جانب جنگ گروپ کے ترجمان کے مطابق یہ پراپرٹی 34 برس قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کردیے گئے تھے، جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کی دستاویز بھی شامل ہیں۔

تعزیتی پیغامات

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے میر جاوید الرحمٰن کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر میں اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ملکی صحافت کے لیے ان کی خدمات کو آنے والے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

متوفی کے دوست اور صحافی وقار عظیمی نے میر جاوید کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے والد میر خلیل الرحمٰن کی میراث کو آگے بڑھایا جنہوں نے ’اردو صحافت میں انقلاب لانے‘ میں اہم کردار ادا کیا۔

صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے کہا کہ ’تاریخ یاد رکھے گی‘ کہ مرحوم کو اپنے بھائی میر شکیل سے ملاقات کی اجازت نہیں تھی۔

صحافی زیب النسا بخاری نے بھی ٹوئٹ کے ذریعے تعزیت کا اظہار کیا۔

جیو سے وابستہ سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار مظہر عباس نے سن 1989 میں لی گئی ایک تصویر شیئر کی جس میں میر جاوید الرحمٰن کو دیگر صحافیوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

ڈان میگزین کے ایڈیٹر حسن زیدی نے میر جاوید الرحمٰن کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی میر جاوید الرحمٰن کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ جنگ گروپ خصوصاً اس کے رسالے اخبار جہاں کے لیے میر جاوید کی خدمات قابل ذکر ہیں۔

علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہیٰ نے میر جاوید الرحمٰن کو ایک 'شائستہ اور ہمدرد' آدمی قرار دیا۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ میر شکیل الرحمٰن اپنے بھائی سے نہیں مل سکے کیونکہ وہ نیب کی حراست میں تھے۔