ایف اے ٹی ایف جون میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لے گا

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2020

ای میل

لاک ڈاؤن کی وجہ سے کچھ ایکشن پلان پر عمل کرنا اب بھی باقی ہے—تصویر: ایف اے ٹی ایف ویب سائٹ
لاک ڈاؤن کی وجہ سے کچھ ایکشن پلان پر عمل کرنا اب بھی باقی ہے—تصویر: ایف اے ٹی ایف ویب سائٹ

اسلام آباد: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے 21 سے 26 جون تک جاری رہنے والے اجلاس میں پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خلاف کارروائی سے متعلق کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فروری میں پیرس سے تعلق رکھنے والے مالیاتی جرائم کے اس عالمی واچ ڈاگ نے پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خلاف 27 نکاتی ایکشن پلان پر عمل کےلیے 4 ماہ کا اضافی وقت دیا تھا جس میں اس وقت پاکستان 14 پر عمل کرچکا تھا جبکہ 13 پر عمل کرنا باقی تھا۔

اس حوالے سے ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ 21 سے 26 جون تک بیجنگ میں منعقد ہونے والے ایف اے ٹی ایف اور یوریشین گروپ کے جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے مزید وقت دینے کا فیصلہ

انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں لیے گئے جائزے کی بنیاد پر اکتوبر میں اس بات کا اعلان ہوگا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جائے یا نہیں۔

عہدیدار نے بتایا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیےلگائے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کچھ ایکشن پلان پر عمل کرنا اب بھی باقی ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے ساتھ فروری میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے ایک وسیع البنیاد حکمت عملی اپنائی ہے اور اس میں تیزی سے پیش رفت حاصل کررہا ہے۔

یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے رواں برس 21 فرروی کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو 27 نکاتی ایکشن پلان پر عمل کے لیے دی گئی تمام ڈیڈ لائنز ختم ہوگئی ہیں اور اب تک صرف 14 نکات پر عملدرآمد ہوا جبکہ 13 اہداف اب بھی باقی ہیں۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف: ایف بی آر کا ریئل اسٹیٹ، زیورات کی خرید و فروخت کی نگرانی کا فیصلہ

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر سختی سے زور دیا تھا کہ جون 2020 تک تمام ایکشن پلان پر تیزی سے عمل کیا جائے ورنہ اسے بلیک لسٹ میں شامل کردیا جائے گا۔

یاد رہے کہ ایف اے ٹی اے کے پلانری گروپ نے انسداد منی لانڈرنگ/دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے عمل میں پائی گئی ’اسٹریٹجک خامیوں‘ کی بنا پر جون 2018 میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا۔

اکتوبر 2019 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو رواں برس فروری تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 27 نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی مہلت دی تھی۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مکمل خاتمے کے لیے اسلام آباد کو مزید اقدامات لینے کی ہدایت کی تھی جبکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خطرات کے حل میں کارکردگی کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بلیک لسٹ نہیں کیا جائے گا‘

بعدازاں جنوری میں بیجنگ میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہوا تھا جس میں پاکستان نے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی فہرست فراہم کی تھی۔