مس انگلینڈ نے کورونا مریضوں کی خاطر ہسپتال میں ملازمت اختیار کرلی

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2020

ای میل

بھاشا مکھرجی پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں—فوٹو: انسٹاگرام
بھاشا مکھرجی پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں—فوٹو: انسٹاگرام

برطانیہ کی ریاست انگلینڈ میں گزشتہ برس مقابلہ حسن جیتنے والی دوشیزہ 24 سالہ بھاشا مکھرجی نے فلاحی کام چھوڑ کر کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے کے لیے واپس ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرلیا۔

بھاشا مکھرجی نے دسمبر 2019 میں مس انگلینڈ کا مقابلہ حسن جیتا تھا، اس سے قبل وہ انگلینڈ کے ایک ہسپتال میں جونیئر ڈاکٹر کی خدمات سر انجام دے رہی تھیں۔

ڈاکٹری کے پیشے کو چھوڑ کر مقابلہ حسن میں حصہ لینے والی بھارتی نژاد برطانوی دوشیزہ نے دسمبر 2019 میں مس انگلینڈ کا اعزاز حاصل کیا، جس کے بعد انہیں متعدد ممالک سے چیئرٹی پروگرامات میں مدعو کیا گیا تھا۔

بھاشا مکھرجی کو افریقہ سمیت جنوبی ایشیائی ممالک نے مقابلہ حسن جیتنے کے بعد متعدد فلاحی پروگراموں کے لیے خصوصی سفیر مقرر کرتے ہوئے انہیں اپنے ممالک میں امدادی پروگراموں کے لیے مدعو کیا تھا۔

بھاشا مکھرجی فلاحی کاموں کے لیے جنوبی ایشیائی دورے پر تھیں—فوٹو: انسٹاگرام
بھاشا مکھرجی فلاحی کاموں کے لیے جنوبی ایشیائی دورے پر تھیں—فوٹو: انسٹاگرام

بھاشا مکھرجی کو رواں برس اگست 2020 تک جنوبی ایشیائی ممالک میں متعدد فلاحی پروگراموں میں شرکت کرنی تھی اور وہ اسی وجہ سے کورونا وائرس کے حالیہ دنوں میں بھارتی شہر کولکتہ میں موجود تھیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق بھاشا مکھرجی کو بھارت کی متعدد فلاحی تنظیموں سمیت پاکستانی فلاحی تنظیموں نے بھی امدادی پروگراموں کے لیے دعوت دے رکھی تھی اور مس انگلینڈ کو بھارت کے بعد پاکستان بھی جانا تھا۔

تاہم برطانیہ میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد بھاشا مکھرجی نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور انہوں نے فلاحی کاموں سے زیادہ واپس ملک جا کر کورونا کے مریضوں کے علاج کو اہمیت دی۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

سی این این سے بات کرتے ہوئے بھاشا مکھرجی نے بتایا کہ انہوں نے 24 مارچ کو اپنے سابق ساتھی ڈاکٹرز سے رابطہ کیا اور وہاں کی صورتحال سے متعلق معلومات حاصل کیں، جنہوں نے انہیں بتایا گیا کہ وہ انتہائی دباؤ اور مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں۔

بھاشا مکھرجی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ساتھی ڈاکٹرز سے بات کرنے کے بعد اپنے پرانے ہسپتال کی انتظامیہ سے بات کی اور انہیں بتایا کہ وہ واپس آکر بطور ڈاکٹر خدمات سر انجام دینا چاہتی ہیں، کیوں کہ بطور ایک ڈاکٹر ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنے ملک کے لوگوں کی خدمت کریں۔

رپورٹ کے مطابق مس انگلینڈ کو سابق ہسپتال انتظامیہ نے واپس کام پر آنے کے لیے گرین سگنل دیا، جس کے بعد وہ برطانوی ہائی کمیشن کی مدد سے براستہ جرمنی لندن پہنچیں اور اس وقت وہ 2 ہفتوں کا قرنطینہ کی مدت پوری کر رہی ہیں اور جلد ہی وہ بطور ڈاکٹر انگلینڈ کے ایک ہسپتال میں خدمات سر انجام دیں گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھاشا مکھرجی نے سانس کی بیماریوں سے متعلق خصوصی کورس بھی کر رکھا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ان کے کام پر آنے سے علاقے کی صورتحال بہتر ہوگی۔

مس انگلینڈ کو فلاحی پروگراموں کے سلسلے میں پاکستان بھی آنا تھا—فوٹو: انسٹاگرام
مس انگلینڈ کو فلاحی پروگراموں کے سلسلے میں پاکستان بھی آنا تھا—فوٹو: انسٹاگرام