ممنوع لٹریچر رکھنے کا الزام: سینئر صحافی نصراللہ چوہدری باعزت بری

اپ ڈیٹ 08 اپريل 2020

ای میل

سینئر صحافی نصراللہ چوہدری—فائل فوٹو: سوشل میڈیا
سینئر صحافی نصراللہ چوہدری—فائل فوٹو: سوشل میڈیا

سندھ ہائیکورٹ نے ممنوع لٹریچر رکھنے کے الزام میں سزا پانے والے سینئر صحافی اور کراچی پریس کلب کے رکن نصر اللہ چوہدری کو باعزت بری کردیا۔

خیال رہے کہ 30 دسمبر 2019 کو کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے ممنوع لٹریچر رکھنے کے الزام میں نصراللہ چوہدری کو 5 سال قید، 10 ہزار روپے جرمانہ جبکہ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزید ایک ماہ کی سزا کا حکم دیا تھا۔

تاہم 30 نومبر کو سینئر صحافی اور اردو اخبار ‘نئی بات’ سے منسلک رہنے والے نصراللہ چوہدری نے کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سنائی گئی 5 سال قید کی سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی۔

مزید پڑھیں: کراچی: سینئر صحافی کو 5 سال قید، فیصلہ سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج

اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا اور ان کے خلاف ممنوع لٹریچر سے متعلق کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے، مزید یہ کہ ان کی گرفتاری اور غیر قانونی حراست پر نہ صرف ملکی بلکہ عالمی میڈیا پر نشر ہونے والی خبریں ریکارڈ کا حصہ ہیں اور عدالت نے ان کی غیر قانونی حراست کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے سزا سنائی۔

مذکورہ درخواست پر آج عدالت عالیہ میں سماعت ہوئی جہاں سینئر صحافی نصر اللہ چوہدری کی جانب سے محمد فاروق ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور دلائل دیے۔

محمد فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ بنیادی قانون کے اصولوں کے برخلاف ہے، سینئر صحافی کو غیر قانونی حراست میں رکھ کر 3 دن بعد گرفتاری ظاہر کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ شواہد تو دور ایف آئی آر بھی قانون کے برخلاف اور غیرقانونی ہے جبکہ غیر قانونی حراست پر عالمی سطح پر خبریں بطور ثبوت موجود ہیں۔

بعد ازاں اس مختصر سی سماعت کے بعد عدالت عالیہ نے ممنوع لٹریچر کیس میں سینئر صحافی نصر اللہ چوہدری کو باعزت بری کردیا۔

نصراللہ چوہدری کی گرفتاری کا معاملہ

خیال رہے کہ 8 نومبر 2018 کو سادہ لباس مسلح افراد کراچی پریس کلب میں داخل ہوئے تھے اور صحافیوں کی جانب سے انہیں ہراساں کیے جانے کی شکایت کی گئی تھی۔

صحافیوں نے کہا تھا کہ مسلح افراد نے پریس کلب کے مختلف کمروں، کچن، عمارت کی بالائی منزلوں اور اسپورٹس ہال کا جائزہ لیا تھا جبکہ انہوں نے جبری طور پر ویڈیوز بھی بنائیں اور موبائل کیمرے سے تصویریں بھی لی تھیں۔

اس واقعے کے نصر اللہ چوہدری اپنے گھر سے لاپتہ ہوگئے تھے جس پر صحافتی تنظیموں کی جانب سے کہا گیا تھا کہ سینئر صحافی نصر اللہ خان چوہدری کے گھر پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے چھاپہ مارا اور انہیں مبینہ طور پر اٹھا کر لے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: اداریہ: صحافی کی بغیر ثبوت گرفتاری غیر منصفانہ ہے

بعد ازاں 12 نومبر کو سی ڈی ٹی نے نصراللہ چوہدری کو عدالت میں پیش کیا تھا اور ان پر مبینہ طور پر ممنوعہ لٹریچر رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

تاہم یہاں یہ واضح رہے کہ سینئر صحافی نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا تھا کہ سادہ لباس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے کراچی پریس کلب میں غیر قانونی داخل ہو کر صحافیوں کو ہراساں کیا اور دھمکایا جبکہ صحافیوں کے احتجاج کے بعد 8 نومبر 2018 کی شب انہیں سادہ لباس اہلکاروں نے گھر سے غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا۔

انہوں نے کہا کہ تھا کہ کراچی پریس کلب اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے اس اقدام پر بھرپور احتجاج کیا گیا جبکہ سی ٹی ڈی نے تین روز تک غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں نامزد کردیا۔