لاک ڈاؤن 21 اپریل تک بڑھانا چاہتا ہوں، وزیر اعلیٰ سندھ

اپ ڈیٹ 09 اپريل 2020

ای میل

وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق کوشش ہے کہ وفاق کو لاک ڈاؤن پر راضی کریں — فائل فوٹو / ڈان نیوز
وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق کوشش ہے کہ وفاق کو لاک ڈاؤن پر راضی کریں — فائل فوٹو / ڈان نیوز

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں صوبے میں لاک ڈاؤن 21 اپریل تک بڑھا دیا جائے۔

سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران مراد علی شاہ نے کہا کہ کورونا کیسز پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن ناگزیر ہے، لاک ڈاؤن ختم کیا یا نرمی کی تو نتیجہ کورونا کیسز میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔

انہوں نے کہا کہ 'میں لاک ڈاؤن 21 اپریل تک بڑھانا چاہتا ہوں، لاک ڈاؤن مزید ایک ہفتہ یقینی بنالیا تو کیسز کے نمبرز میں واضح کمی آئے گی جبکہ کوشش ہے کہ وفاق کو لاک ڈاؤن پر راضی کریں'۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ صوبائی سطح پر اپنی کابینہ سے مشاورت کر رہا ہوں، 14 اپریل کے بعد لاک ڈاؤن میں مخصوص شرائط کے ساتھ اگر نرمی کرنی پڑی تو اس کے لیے کمشنرز اور متعلقہ افسران کو پلان بنانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاک ڈاؤن میں کن چیزوں میں نرمی کرنی ہے یہ فیصلہ صوبوں کا ہوگا،عمران خان

واضح رہے کہ اس سے قبل کوئٹہ کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ '14 اپریل کو تمام صوبوں نے بتانا ہے کہ انہیں لاک ڈاؤن میں کن کن چیزوں میں نرمی کرنی ہے اور یہ صوبوں کا فیصلہ ہوگا کہ وہ کن کن چیزوں کو کھولنا چاہتے ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے غربت تیزی سے پھیل رہی ہے'۔

یکم اپریل کو وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبے میں لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے اسے 14 اپریل تک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مراد علی شاہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صوبے میں لاک ڈاؤن کی میعاد میں 14 اپریل تک توسیع کی تجویز دی گئی جس کی انہوں نے حمایت کی۔

اس سے قبل صوبے میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر سندھ حکومت نے 23 مارچ کی رات 12 بجے سے 15 روز کے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔

مراد علی شاہ نے کہا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران کسی کو غیر ضروری گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

صوبے میں لاک ڈاؤن کے باوجود اشیائے خور و نوش کی دکانیں صبح 8 سے رات 8 بجے تک کھلی رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔

تاہم 27 مارچ کو وزیر اعلیٰ سندھ نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کو صوبے میں لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کا کہتے ہوئے شام 5 بجے دکانیں بند کرنے کی ہدایت کردی۔

صوبائی حکومت نے مساجد میں نمازوں کے اجتماعات پر بھی پابندی کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے نئے کیسز کے آنے کا سلسلہ نہ رک سکا اور آج (بدھ) بھی مزید متاثرین کے سامنے آنے پر ملک میں مجموعی تعداد 4 ہزار 479 ہوگئی جبکہ اموات 65 تک پہنچ گئیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس سے 4479 افراد متاثر، 500 سے زائد صحتیاب

ملک میں 26 فروری کو کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تو سرکاری سطح پر مختلف اقدامات اٹھائے گئے اور سب سے پہلے تعلیمی اداروں کی بندش کی گئی تاکہ یہ وائرس طلبہ و اساتذہ میں نہ پھیل سکے، بعد ازاں مختلف پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہیں جزوی تو کہیں مکمل لاک ڈاؤن کردیا گیا۔

اس لاک ڈاؤن باعث کاروباری مراکز، شاپنگ مالز، پارکس، تفریحی مقامات، انٹرسٹی بسز، مسافر ٹرینیں، غیر ضروری باہر نکلنے سمیت مختلف پابندیاں عائد کی گئیں۔

تاہم اس کے باوجود ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور رواں ماہ کے آغاز سے اس میں دوگنا تیزی دیکھی گئی ہے۔