حکومت نے فلائٹ آپریشن کی بندش میں 21 اپریل تک توسیع کردی

اپ ڈیٹ 10 اپريل 2020

ای میل

سی اے اے نے نوٹی فکیشن جاری کرکے ذاتی جہازوں کے مالکان کو بھی فیصلے سے آگاہ کردیا — فائل فوٹو / اے پی پی
سی اے اے نے نوٹی فکیشن جاری کرکے ذاتی جہازوں کے مالکان کو بھی فیصلے سے آگاہ کردیا — فائل فوٹو / اے پی پی

حکومت نے اندرون و بیرون ممالک فلائٹ آپریشن پر پابندی میں 21 اپریل تک توسیع کر دی۔

ترجمان ایوی ایشن ڈویژن نے کہا کہ حکومت پاکستان کے فیصلے کے مطابق اندرون و بیرون ممالک پروازوں کی آمد و رفت پر پابندی کے فیصلے میں 21 اپریل تک توسیع کر دی گئی ہے۔

تاہم اس فیصلے کا اطلاق بیرون ممالک سے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے والے خصوصی فلائٹ آپریشن پر نہیں ہوگا۔

حکومتی فیصلے کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے ملک بھر میں جنرل ایوی ایشن پر عائد پابندی میں بھی 21 اپریل تک توسیع کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے فلائٹ آپریشن کل سے شروع ہوگا

اس حوالے سے باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کرکے ذاتی جہازوں کے مالکان کو بھی آگاہ کردیا گیا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق چارٹرڈ پروازوں پر عائد پابندی کے حوالے سے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سول ایوی ایشن نے 25 مارچ کو کورونا وائرس کے پیش نظر اندرون اور بیرون ملک فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔

حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ تمام ایئرلائن آپریٹرز سے مشاورت کے بعد کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے نئے کیسز کے آنے کا سلسلہ نہ رک سکا اور آج بھی مزید متاثرین کے سامنے آنے پر ملک میں مجموعی تعداد 4 ہزار 599 ہوگئی جبکہ اموات 67 تک پہنچ گئیں۔

ملک میں 26 فروری کو کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تو سرکاری سطح پر مختلف اقدامات اٹھائے گئے اور سب سے پہلے تعلیمی اداروں کی بندش کی گئی تاکہ یہ وائرس طلبہ و اساتذہ میں نہ پھیل سکے، بعد ازاں مختلف پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہیں جزوی تو کہیں مکمل لاک ڈاؤن کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: پاکستان نے 2 ہفتوں کیلئے تمام بین الاقوامی پروازیں معطل کردیں

اس لاک ڈاؤن باعث کاروباری مراکز، شاپنگ مالز، پارکس، تفریحی مقامات، انٹرسٹی بسز، مسافر ٹرینیں، غیر ضروری باہر نکلنے سمیت مختلف پابندیاں عائد کی گئیں۔

تاہم اس کے باوجود ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور رواں ماہ کے آغاز سے اس میں دوگنا تیزی دیکھی گئی ہے۔

اگرچہ اس وائرس کا پہلا کیس بیرون ملک سے آیا پاکستانی شہری تھا تاہم اب یہ مقامی طور پر ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہورہا ہے اور ملک میں مجموعی کیسز میں بڑی تعداد ایسے متاثرین کی ہے۔