شعبہ توانائی کیلئے 3 کھرب روپے کا بیل آؤٹ پیکج منظور

اپ ڈیٹ 10 اپريل 2020

ای میل

رواں برس مئی تک فیول ایڈجسٹمنٹس کو موخر کرنے کی لاگت کا تخمینہ 61 ارب روپے —فائل فوٹو: اےا یف پی
رواں برس مئی تک فیول ایڈجسٹمنٹس کو موخر کرنے کی لاگت کا تخمینہ 61 ارب روپے —فائل فوٹو: اےا یف پی

اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے خصوصی اجلاس میں شعبہ توانائی کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 3 کھرب روپے کے پیکج کی منظوری دے دی گئی تا کہ ان کے فوری واجبات کو حل کیا جاسکے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو غیر ملکی زرِ مبادلہ کے نقصان کا معاوضہ دیا جاسکے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس بیل آؤٹ پیکج کے تحت 200 ارب روپے اسلامی سکوک بانڈ سے حاصل کیے جائیں گے جو گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لیے رکھے گئے تھے اور اب فوری نقدی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ ای سی سی نے با ضابطہ طور پر جون 2020 تک بجلی کے صارفین کے بلوں میں ماہانہ اور سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹس کو مؤخر کرنے کی منظوری دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا کا وزیراعظم سے توانائی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ

رواں برس مئی تک فیول ایڈجسٹمنٹس کو مؤخر کرنے کی لاگت کا تخمینہ 61 ارب روپے ہے جبکہ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس کی مالیت 77 ارب روپے رہے گی۔

ای سی سی اجلاس میں بتایا گیا کہ 60 ارب روپے ایندھن فراہم کرنے والوں کو اور بینکوں سے لیے گئے قرضوں کی مدت مکمل ہونے پر ادا کیے جائیں گے۔

مزید یہ کہ کمیٹی نے پاور ڈویژن کی درخواست پر کمرشل بینکس سے مختصر مدت یعنی 9 سے 12 ماہ کے قرضے لینے کے لیے ایک کھرب روپے کے سنڈیکیٹڈ ٹرم فنانس فیسیلیٹی (ایس ٹی ایف ایف) کی منظوری بھی دی۔

وزارت خزانہ ان قرضوں پر واجب الادا سود کے لیے رقم فراہم کرے گی۔

مزید پڑھیں: توانائی پالیسی میں ہر سطح پر لاگت وصول کرنے کی تجویز

محکمہ توانائی نے ای سی سی کو آگاہ کیا کہ فروری میں تقسیم کار کمپنیوں کی وصولیاں 91 سے 92 فیصد تھیں جو مارچ میں کم ہو کر 62 سے 63 فیصد پر آگئیں جبکہ توانائی کی طلب میں 40 فیصد اضافہ ہوا۔

ایک اندازے کے مطابق توانائی کی کمپنیوں کو جون تک 10 ارب روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے لیکن گنجائش کے مطابق ادائیگیاں بجلی گھروں کو کرنی ہوں گی۔

علاوہ ازیں اضافی مالی تفاوت کو ختم کرنے کے لیے ای سی سی سے وزیراعظم کے ہنگامی فنڈ سے 3 ماہ کی اقساط میں 67 ارب روپے فراہم کرنے کی درخواست کی گئی۔

مزید یہ کہ لاک ڈاؤن اور عوام کی مشکلات کے پیشِ نظر بجلی چوری اور واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف بھرپور مہم بھی جاری رکھی نہیں جاسکی۔

یہ بھی پڑھیں: وزارت توانائی نے ملک میں پیٹرول کی درآمد روک دی

ادھر پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور تیل کے شعبے میں روپے کی قدر میں کمی کے باعث ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے ای سی سی نے ایکسچینج کے حصول اور نقصان کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے 60 روز کی مدت پر اتفاق کیا جس کا اطلاق یکم مارچ سے ہوگا۔

اس کے ساتھ پیٹرولیم ٖڈویژن کو ہدایت کی گئی کہ محکمہ خزانہ کے ساتھ مشاورت کر کے یہ مسئلہ حل کیا جائے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے حالیہ نقصانات کو کم کرنے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 60 پیسے فی لیٹر اضافے کی بھی درخواست کی۔

اس کے علاوہ ای سی سی نے رواں مالی سال کے لیے 4 ضمنی تکنیکی گرانٹس کی منظوری بھی دی جس میں اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن (ایس ایس ڈی) ساؤتھ فیز ون کے لیے 11 ارب 48 کروڑ 30 لاکھ روپے، پبلک سروس کمیشن کے لیے 16 کروڑ روپے، پائیدار ترقی اہداف پروگرام کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے اور اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کے لیے 46 کروڑ 82 لاکھ روپے کی گرانٹس شامل ہیں۔