جنگ بندی کے اعلان کے ایک روز بعد یمن میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آگیا

اپ ڈیٹ 10 اپريل 2020

ای میل

متاثرہ شخص کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کا علاج جاری ہے—تصویر: اے ایف پی
متاثرہ شخص کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کا علاج جاری ہے—تصویر: اے ایف پی

سعودی فوجی اتحاد کی جانب سے یمن میں جنگ بندی کے اعلان کے ایک روز بعد ہی حکومتی کنٹرول والے علاقے میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوگئی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی سپریم نیشنل ایمرجنسی کمیٹی برائے کووِڈ19 نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا کہ ’صوبہ حضر موت میں کورونا وائرس کا پہلا مصدقہ کیس سامنے آگیا‘۔

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومتی کمیٹی نے بتایا کہ متاثرہ شخص کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق متعلقہ حکام نے اس حوالے سے مزید تفصیلات آج جاری کرنے کا وعدہ کیا اور تمام احتیاطی اقدامات اٹھا لیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس کا مشرق وسطیٰ کے تنازعات پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟

امدادی تنظیموں نے خبردار کیا تھا کہ اگر کورونا وائرس نے یمن کے خستہ حال نظامِ صحت کو نشانہ بنایا تو اس کے اثرات تباہ کن ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل ہی سعودی فوجی اتحاد نے یمن میں یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم حوثی باغیوں کی جانب سے فوری طور 2 ہفتے کے لیے جنگ بندی کے اس اعلان پر کوئی ردِ عمل سامنےنہیں آیا تھا۔

تاہم حوثی پولیٹکل کونسل کے سیکریٹری یاسر الحوری نے اس سلسلے میں کہا تھا کہ سعودی اتحاد نے ’ہر جنگ بندی کے اعلان کی خلاف ورزی کی ہے‘۔

چنانچہ اگر یہ جنگ بندی برقرا رہتی ہے تو 2018 کے اواخر میں سویڈن میں اقوامِ متحدہ کی ثالثی سے ساحلی شہر حدیدہ میں جنگ بندی پر اتفاق کے بعد یہ پہلی پیش رفت ہوگی۔

مزید پڑھیں: ریاض کے گورنر سمیت سعودی شاہی خاندان کے 150 افراد کورونا میں مبتلا؟

دوسری جانب اس فوجی اتحاد کے اہم رکن متحدہ عرب امارات، جس نے گزشتہ برس اس تنازع کے تیزی سے بے قابو ہونے پر اپنی فوجیں واپس بلالی تھیں، نے سعودی عرب کے اقدام کو ’دانشمندانہ اور ذمہ دارانہ اقدام' قرار دیا۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مارچ 2015 میں فوجی مداخلت کا آغاز کیا تھا۔

سعودی عرب کی جانب سے کہا گیا کہ جنگ بندی میں توسیع کی جاسکتی ہے جس سے تنازع کے سیاسی حل کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

جنگ بندی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ سعودی عرب تیل کی قیمتوں میں کمی کا سامنا کررہا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور سعودی اتحاد کے درمیان گزشتہ 5 سال سے جاری جنگ کے دوران ہزاروں شہری مارے جاچکے ہیں اور اقوامِ متحدہ، یمن کی صورتحال کو بدترین انسانی المیہ قرار دے چکا ہے۔