ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ انسدادِ ملیریا ادویات کی برآمد پر پابندی عائد

ای میل

کورونا وائرس کے پیش نظر انسداد ملیریا ادویات کی برآمد پر پابندی لگائی گئی ہے—تصویر:شٹر اسٹاک
کورونا وائرس کے پیش نظر انسداد ملیریا ادویات کی برآمد پر پابندی لگائی گئی ہے—تصویر:شٹر اسٹاک

وفاقی حکومت نے انسداد ملیریا ادویات کی برآمدات پر دوبارہ پابندی عائد کردی۔

وزارت تجارت کی جانب سے پابندی عائد کرنے کا نیا نوٹیفیکیشن جاری کردیا یوں ایک ہفتے کے دوران مذکورہ ادویات کی برآمدات پر پابندی لگانے، ختم کرنے اور دوبارہ لگانے کے 3 نوٹفکیشن جاری کیے جاچکے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی کا اطلاق قومی رابطہ کمیٹی کی ہدایات پر کیا گیا جو تا حکمِ ثانی جاری رہے گا۔

نوٹیفکیشن میں برآمدات سے روکنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا کہ کورونا وائرس کے پیش نظر انسداد ملیریا ادویات کی برآمد پر پابندی لگائی گئی ہے۔

اس سے قبل وزارت تجارت نے 3 اپریل کو انسداد ملیریا ادویات کی برآمد پر پابندی عائد کی تھی تاہم 6 اپریل کو ایک اور نوٹیفکیشن جاری کر کے اس پابندی کا خاتمہ کردیا گیا تھا۔

تاہم یہ فیصلہ بھی 3 سے زائد برقرار نہ رہ سکا اور 9 اپریل کو ایک اور نوٹفکیشن جاری کرتے ہوئے دوبارہ انسدادِ ملیریا دواؤں کو برآمد کرنے سے روک دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کلوروکوئن کے استعمال پر حتمی رائے کیلئے ماہرین کی ٹیم تشکیل دیدی، ظفر مرزا

واضح رہے کہ کووِڈ-19 کے علاج کے کوئی باقاعدہ دوا اب تک سامنے نہیں آسکی البتہ مختلف رپورٹس میں ملیریا کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کے اچھے نتائج کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔

مذکورہ دعوے کو اس وقت شہرت ملی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملیریا کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا کلورو کوئن کے استعمال کو موثر قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایف ڈی اے نے اس دوا کی منظوری دے دی ہے تاہم ایف ڈی اے نے ان کی اس بات کی تردید کردی تھی۔

بعدازں پاکستان میں بھی اس جانب توجہ دی گئی اور حکومت نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے امراض کے لیے کلوروکوئن کے استعمال کے حوالے سے حتمی رائے بنانے کے لیے ماہرین کی ٹیم کی تشکیل دے دی تھی۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا تھا کہ ‘اس کے استعمال کے حوالے سے بین الاقوامی لٹریچر میں مواد موجود ہے جس کو ہم نے حاصل کرلیا ہے’۔

مزید پڑھیں: کلوروکوئن کی فروخت کیلئے ڈاکٹر کا نسخہ لازمی قرار

ان کا کہنا تھا کہ ‘ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس دوا کے استعمال سے کوروناوائرس سے بچا جاسکتا ہے جبکہ اس کی فروخت کے حوالے سے ہدایات جاری کردی گئی ہیں’۔

جس کے بعد کووِڈ-19 کے ممکنہ احتیاطی علاج کے طور پر متعدد افراد کی جانب سے کلوروکوئن کے استعمال کی رپورٹ موصول ہونے پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) نے اس کی فروخت کے لیے ڈاکٹر کا نسخہ لازم قرار دے دیا تھا۔

ساتھ ہی خبردار کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر کلوروکوئن کا استعمال اعضائے رئیسہ مثلاً جگر اور دل کو نقصان پہنچا سکتا ہے کیوں کہ یہ ایک زہریلی دوا ہے۔