ڈبلیو ایچ او کا فنڈ روکنا قابل مذمت، کورونا کے خلاف کوششوں کو دھچکا ہے، چین اور روس

اپ ڈیٹ 16 اپريل 2020

ای میل

عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنے کے امریکی صدر کے فیصلے پر تنقید کی جارہی ہے—فوٹو:رائٹرز
عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنے کے امریکی صدر کے فیصلے پر تنقید کی جارہی ہے—فوٹو:رائٹرز

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو فنڈنگ روکنے کے فیصلے کو چین اور روس نے کورونا وائرس کے خلاف عالمی کوششوں کو دھچکا قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ژنہوا کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤلی جیان نے بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کو فنڈ نہ دینے کے امریکی فیصلے سے کووڈ-19 کے خلاف عالمی کوششوں کو نقصان پہنچے گا اور چین کا اس پر گہری تشویش ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے حالیہ کردار کو سراہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'خاص کر جب سے کووڈ-19 کی وبا پھیلی ہے اس وقت سے ڈبلیو ایچ او نے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادہانوم گیبریسس کی قیادت میں اپنے فرائض کو تندہی سے ادا کیا ہے اور رابطہ کاری کا کردار ادا کیا ہے'۔

مزید پڑھیں:امریکی صدر نے عالمی ادارہ صحت کے فنڈز روک دیے

ان کا کہنا تھا کہ 'ڈبلیو ایچ او نے عالمی تعاون کو بڑھانے میں سرگرم کردار ادا کیا ہے'۔

چین کے دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ 'وبا کی عالمی صورت حال کو دیکھتے ہوئے امریکا کے فیصلے سے ڈبلیو ایچ او کی استعداد کمزور ہوگی اور کووڈ-19 کے خلاف جنگ سرد پڑے گی'۔

ژاؤلی جیان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے فرائض کو فوری ادا کرے اور ڈبلیو ایچ او سے تعاون کرے کیونکہ 'اس فیصلے سے امریکا اور غریب اقوام سمیت دنیا کے تمام ممالک متاثر ہوں گے'۔

انہوں نے کہا کہ چین انسداد وبا کے حوالے سے اقدامات میں سربراہی کردار کے لیے ڈبلیو ایچ سے تعاون جاری رکھے گا۔

امریکی فیصلہ قابل مذمت ہے، روس

خبر ایجنسی 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق روس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈبلیو ایچ او کے حوالے سے فیصلے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ان کا خود غرض فیصلہ ہے۔

روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف کا کہنا تھا کہ امریکا کا یہ اعلان تشویش ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'امریکی حکام کی خودغرضی کی یہ ایک مثال ہے حالانکہ وبا کی وجہ سے دنیا میں کیا کچھ ہو رہا ہے'۔

سرگئی ریابکوف کا کہنا تھا کہ 'یہ عالمی ادارے کے لیے ایک دھچکا ہے اور عالمی برادری کئی حوالوں سے اس کو قابل مذمت اور قابل ملامت قدم کے طور پر دیکھ رہی ہے'۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او پر کورونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے فنڈ روکنے کا اعلان کیا تھا جس پر ماہرین صحت نے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ٹرمپ نے منگل کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے وائرس کے حوالے سے چین کی غلط معلومات کو فروغ دیا جس کی وجہ سے یہ کئی گنا بڑے پیمانے پر پھیل گئی۔

یہ بھی پڑھیں:فنڈنگ روکنے کے امریکی فیصلے پر 'افسوس' ہے، عالمی ادارہ صحت

انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت اپنے بنیادی فرض کی ادائیگی میں ناکام رہا لہٰذا اسے ذمے دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔

رائٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے سلسلے میں شفافیت برقرار رکھنے میں ناکام رہا اور میں اپنی انتظامیہ کو فنڈز روکنے کی ہدایت کر رہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ وائرس کے پھیلاؤ اور سنگین بدانتظامی میں عالمی ادارہ صحت کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا اور اب ہم بات کریں گے کہ جو رقم عالمی ادارہ صحت کو جاتی تھی اس کا کس طرح استعمال کیا جائے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ اگر عالمی ادارہ صحت نے طبی ماہرین کو بھیج کر صورتحال کا جائزہ لینے کا اپنا فرض انجام دیا ہوتا اور وائرس کے حوالے سے چین کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہوتے تو اس وائرس کو پھیلنے سے روک کر کئی ہزاروں افراد کو مرنے اور عالمی معیشت کو تباہی سے بچایا جا سکتا تھا۔