کانٹریکٹ ملازمین کے کیس میں پشاور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کا جواب مسترد

اپ ڈیٹ 16 اپريل 2020

ای میل

لارجر بینچ اس وقت بنایا جاتا ہے جب ایک ہی عدالت کے 2 بینچز کی ایک جیسے قانونی معاملات پر مختلف رائے ہو—اے پی پی
لارجر بینچ اس وقت بنایا جاتا ہے جب ایک ہی عدالت کے 2 بینچز کی ایک جیسے قانونی معاملات پر مختلف رائے ہو—اے پی پی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا ورکرز ویلفیئر بورڈ کے کانٹریکٹ ملازمین کی ملازمت کی شرائط و ضوابط سے متعلق کیس میں پشاور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کا جواب مسترد کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے حتمی فیصلہ نہ ہوجانے تک پشاور ہائی کورٹ کو اس معاملے کی سماعت سے روک دیا۔

مذکورہ درخواست صوابی سے تعلق رکھنے والے ایک استاد کی بحالی یا مستقلی کے حوالے سے کیس کی سماعت کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے لارجر بینچ کی اپیل مسترد کرنے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کو کانٹریکٹ ملازمین کا کیس سننے سے روک دیا

خیال رہے کہ صوابی سے تعلق رکھنے والے فوکس گرامر اسکول کے ایک استاد کی مستقلی یا بحالی کے معاملے کی سماعت کےلیے لارجر بینچ کی درخواست پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے17 فروری کو مسترد کردی تھی جس کے خلاف خیبر پختونخوا ورکر ویلفیئر بورڈ کے چیئرمین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ سے جواب طلب کرتے ہوئے رجسٹرار کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

جس پر پشاور ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے 3 صفحات پر مشتمل اپنے تحریری جواب میں موقف اختیار کیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اس بنیاد پر لارجر بینچ تشکیل دینے کی درخواست مسترد کی تھی کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نعمت اللہ بنام وکررز ویلفیئر بورڈ کے مقدمے میں دیے گئے فیصلے کے بعد اس کی ضرورت نہیں۔

مزیدپڑھیں: وفاقی حکومت کا جسٹس وقار سیٹھ کےخلاف سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا اعلان

جواب میں کہا گیا کہ لارجر بینچ اس وقت بنایا جاتا ہے جب ایک ہی عدالت کے 2 بینچز کی ایک جیسے قانونی معاملات پر مختلف رائے ہو اور چونکہ سپریم کورٹ پہلے ہی ایک فیصلہ دے چکی تھی اس لیے لارجر بینچ نہیں تشکیل دیا گیا۔

تاہم سپریم کورٹ ان کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئی اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے خلاف دائر تمام اپیلوں کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ نے عدالت عظمٰی کا دیا گیا فیصلہ نظر انداز کیا، ساتھ ہی کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اس سے قبل ہونے والی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ خواجہ اظہر نے کہا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ نے ایسے متعدد فیصلے دیے ہیں جس میں بعض اوقات سپریم کورٹ کی جانب سے نعمت اللہ کیس میں دیے گئے فیصلے کی مثال پر عمل کیا گیا لیکن بہت سے مواقع پر اس مثال پر عمل نہیں بھی کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزارت قانون کا جسٹس وقار سیٹھ کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کیلئے جائزے کا آغاز

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے صرف لارجر بینچ بنانے کی درخواست کی تھی تاہم عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے ان کی یہ درخواست مسترد کردی تھی۔

اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ ہائی کورٹ کا حکم قانونی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا تھا جس کے باعث کے پی ورکرز ویلفیئربورڈ کے پاس سپریم کورٹ سے رجورع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔