اپنے پیاروں کو کھو دینے والے لاک ڈاؤن میں کس طرح اپنا غم ہلکا کر رہے ہیں؟

24 اپريل 2020

ای میل

کورونا وائرس کی عالمی وبا نے ہماری اور ان تمام افراد کی معمولاتِ زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے جو اپنے پیاروں سے بچھڑ جانے پر غم سے نڈھال ہیں۔

لاہور کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر مدیح ہاشمی کہتے ہیں کہ ’سماجی دُوری اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے پیاروں کا نقصان اٹھانے والے لواحقین کا غم دگنا ہوجاتا ہے‘۔

مدیح ہاشمی کہتے ہیں کہ، 'ہم لواحقین سے کہہ رہے ہیں کہ تعزیت کے لیے عزیز و اقارب اکٹھا نہیں ہوسکتے، بس اسکائپ یا زوم جیسے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے وہ ایک دوسرے کو دلاسا ہی دے سکتے ہیں، مگر وہ ایک دوسرے سے گلے لگ کر غم کو کم کرنے کی حالت میں نہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسا کوئی عمل ان حالات میں ممکن نہیں جن سے لواحقین کا درد کم ہوتا ہو۔ وہ اپنے پیاروں کو کھو بیٹھے ہیں لیکن انہیں اپنے دوست احباب سے ملنے اور ایک دوسرے کا غم ہلکا کرنے کی مناہی ہے'۔

رواں ماہ کے شروع میں جب *سارہ اپنی 65 سالہ والدہ کی اچانک وفات پر دل شکستہ ہوئیں تب لاک ڈاؤن ان کے لیے ایک خدائی مدد سے کم محسوس نہ ہوا۔ وہ کہتی ہیں کہ، 'اس طرح ہمیں تعزیت کے لیے آنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا سامنا نہیں کرنا پڑا'۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’یوں انہیں ہر ایک کو اس سوال کا جواب دینا نہیں پڑا کہ ان کی والدہ کا انتقال کیسے ہوا؟‘ انہوں نے بتایا کہ، 'اس سوال کا جواب دے دے کر ذہن پر بوجھ بڑھتا جاتا ہے'۔

ہیومن ریسورس کے پیشے سے وابستہ 39 سالہ سارہ کہتی ہیں کہ، 'یہاں یہ کہنا مقصود نہیں کہ وہ ارادتاً ایسا کر رہے ہیں بلکہ میں اب بھی خود کو اپنی والدہ کے بچھڑ جانے کی حقیقت کو تسلیم کرنے کی کوشش کررہی ہوں‘۔ وہ اور ان سے 3 سال چھوٹے بھائی دُکھ بھرے وقت سے ایک بار پھر گزر رہے ہیں۔ کیونکہ 10 سال پہلے ان کے والد بھی اسی طرح اچانک نیند میں وفات پاگئے تھے۔ انتقال سے قبل ان کے والدین کی طبعیت بالکل ٹھیک تھی۔ دونوں مرتبہ ان کے بھائی نے اپنے والد اور والدہ کو مردہ حالت میں پایا تھا۔

ماہرِ نفسیات ڈاکٹر آشا بدر کا کہنا ہے کہ حالات و واقعات اور اس کے علاوہ بیرونی سپورٹ سسٹم یعنی لوگوں کے میل جول، متوفی کے بارے میں باتیں کرنے، دوستوں اور رشتہ داروں کو رونے پر اکسانے، انتظامات، کھانے پینے کے بندوبست اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے میں عملی سہارے کی فراہمی جیسے عوامل کی عدم موجودگی کی وجہ سے لواحقین اور اہلِ خانہ کا دُکھ سے نکلنے کا عمل شدید متاثر ہوسکتا ہے۔

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال سے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر وابستہ ڈاکٹر عائشہ میاں اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'کسی پیارے کی وفات پر غم منانے کی اس روایت سے لواحقین کو سکون اور دکھ کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ ثقافتی رسومات، روایات، گلے لگ کر کا کندھا تھپتھکاکر ہمت دینا، آخری الفاظ، یہ خیال کہ آپ انہیں سہارا دینے اور انہیں الوداع کہنے کے لیے موجود ہیں، یہ سب آنے والے ہر دکھ کا مقابلہ کرنے میں مدد کرتے ہیں'۔

انہوں نے مزید کہا کہ، 'پشیمانی، قربت میں کمی، متوفی کو ان سے محبت کی انتہا بتانے میں ناکامی کے باعث بچھڑ جانے کا پیچیدہ دکھ جنم لیتا ہے اور بعض اوقات انہیں ڈپریشن کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑجاتا ہے'۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ، 'لوگ آج کل ایسا ہی محسوس کر رہے ہیں۔ مجھے ایسے مریضوں اور دیگر افراد سے اپنے عمر رسیدہ پیاروں سے منسلک ذہنی بے چینی کی کیفیات کے بارے میں بہت کچھ سننے کو ملا ہے۔ اپنے پیاروں سے دُور امریکا اور برطانیہ میں مقیم فزیشن دوستوں اور ساتھی ڈاکٹروں سے تنہائی میں مرنے والے لوگوں کی کئی کہانیاں سنی جو بہت دردناک ہیں اور اس حوالے سے کچھ بھی نہ کرنے کی لاچارگی دل دکھانے والی ہے'۔

معمول کے حالات کی بحالی

ڈاکٹر بدر کہتی ہیں کہ ایک طرف جہاں اپنے پیارے کھو دینے والوں کو تسلی ملنے والوں کی کمی کا سامنا ہے تو وہیں دوسری طرف غم کو برداشت کرنے کا اندرونی فطری میکینزم بھی محدود ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ غم کے ابتدائی دنوں کے بعد معمول کی زندگی کی طرف دھیرے دھیرے لوٹنا بھی دکھ کی کیفیت سے نکلنے کے عمل کا حصہ ہے۔ 'کام پر یا کلاسیں لینے کے لیے جانا، سماجی میل جول، روزمرہ کی سرگرمیاں جیسے بچوں کو اسکول لے جانا اور واپس لانا، سودا سلف لانا اور دیگر چھوٹے موٹے کام کرنا، اپنے مشاغل کی طرف لوٹنا یا اختیار کرنا اس عمل میں بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے'۔ انہوں نے ساتھ یہ بھی وضاحت کی کہ سماجی فاصلے کی فوری ضرورت اور عوامی سرگرمیاں محدود ہوجانے کی وجہ سے اپنوں سے بچھڑ جانے والوں کو اپنی توجہ بانٹنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر بدر نے اپنی ایک کلائنٹ کی مثال دی جنہوں نے انہیں بتایا تھا کہ لاک ڈاؤن سے بس کچھ ہی دن پہلے اپنے قریبی رشتہ دار کی موت کے بعد کس طرح روز مرہ کے معمول یعنی سودے سلف کی خریداری، عمر رسیدہ والدین کے پاس جانے اور کبھی کبھار دوستوں سے ملاقات کرنے سے انہیں حوصلہ ملتا رہا۔ ڈاکٹر بدر کہتی ہیں کہ اداس خیالوں اور ہر وقت ذہن پر سوار متوفی کی یادوں میں آنے والے ان وقفوں سے انہیں دکھ پر سبقت پانے میں کافی مدد ملی۔ مگر موجودہ وقت میں چونکہ ناصرف تمام بیرونی سرگرمیاں تھم گئی ہیں بلکہ والدہ کے پاس آنا جانا بھی بند ہوگیا ہے اس لیے ان کے غم اور ذہنی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مگر سارہ کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے۔ ’میں اس وقت ویسے بھی گھر پر بیٹھ کر ہی کام کرنا پسند کرتی۔ لوگوں کا سامنا کرنا اور ان کے سوالوں کا جواب دینا بہت ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ گھر پر رہ کر میں اپنی رفتار سے کام کرسکتی ہوں اور یوں مجھے دشواریوں کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا۔ سارہ اس وقت لاک ڈاؤن سے پہلی والی اپنی معمولاتِ زندگی کو بھی جاری رکھنا پسند نہیں کررہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس طرح مجھے بار بار اپنی والدہ کی یاد ستاتی اور موجودہ حالات میں مجھے اپنے پیاروں کے قریب رہ کر اپنا غم ہلکا کرنے میں مدد مل رہی ہے‘۔

65 سالہ *سکینہ کے شوہر کو دنیا سے رخصت ہوئے 2 ہفتے گزر چکے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ، 'لاک ڈاؤن کی وجہ سے میں زیادہ پُرسکون محسوس کر رہی ہوں کہ اس وقت تعزیت کرنے والوں کا تانتا نہیں بندھا ہوا۔ میں اپنی ذات تک محدود رہنا پسند کرتی ہوں اور مجھے تنہائی کے لمحات ہی پسند ہیں۔ شوہر کی موت کے بعد مجھے یہ تسلی ملی ہے کہ وہ مشکلات سے آزاد ہوکر ایک بہتر جہان میں جا بسے ہیں۔ وہ بہت زیادہ بیمار تھے اور ڈاکٹروں نے مجھے اس وقت کے لیے پہلے سے ہی تیار کردیا تھا'۔

کراچی میں ان کا اور ان کے شوہر کا کوئی بھی قریبی رشتہ دار نہیں رہتا اس لیے اپنے شوہر کی میت کو گھر سے مردہ خانے منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس کے انتظام، کفن کی خریداری اور قبر تیار کروانے جیسے کٹھن کاموں کو انہیں خود انجام دینا پڑا۔ سکینہ بتاتی ہیں کہ، 'جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو میں حیرت زدہ رہ گئی کہ ان سب کاموں کو انجام دینے کی ہمت مجھ میں کس طرح پیدا ہوئی'۔

زندگی کی روٹین بنائیں

ڈاکٹر بدر کہتی ہیں کہ کئی لوگوں کے لیے غم کو ہلکا کرنے کے لیے روٹین کی بحالی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ 'اگر روٹین غم کو ہلکا کرنے کے لیے مفید محسوس ہوتی ہے تو موجودہ حالات میں کوئی نئی (عارضی) روٹین بنانا کوئی زیادہ مشکل نہیں، جیسے روز صبح کپڑے بدلنا، اگر پیارے قریب نہ ہوں تو ان سے آن لائن باتیں کرنا، آن لائن کسرت یا فنون کی کلاسیں لینا، پڑھنا یا پھر کوئی ملازمت اختیار کرلینا وغیرہ۔ ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع کے استعمال سے گھر پر بیٹھے ایسے کئی کام کیے جاسکتے ہیں'۔

سکینہ اس وقت ایک نئی روٹین اپنا رہی ہیں جو ان کا دکھ ہلکا کرنے میں کافی مدد کر رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'میں آج کل زیادہ مطالعہ کر رہی ہوں، گھر کی صاف صفائی کرتی ہوں، باورچی خانے کے کام کاج دیکھتی ہوں اور والدین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارتی ہوں'۔

ڈاکٹر بدر کہتی ہیں کہ نئے مشاغل اختیار کرنے کا یہی اچھا وقت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ، 'دھیان بانٹنے کے لیے کوئی نیا ہنر یا نیا مشغلہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً کوئی نیا ٹی وی شو دیکھنا، گھر کے اندر قابلِ عمل منصوبے پر کام کرنا، یعنی کوئی بھی ایسا کام یا سرگرمی جو ان کی توجہ حاصل کرسکے اور دکھ اور غم والی کیفیت کو کسی حد تک دُور کرسکے۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں کسی مثبت سرگرمی میں مصروف رکھ سکے'۔

ایمان سے قربت

7 سال پہلے جب سکینہ کے شوہر میں پارکسن (رعشہ) کی بیماری کی تشخیص ہوئی تو انہوں نے مذیب سے قربت اختیار کرلی۔ وہ کہتی ہیں کہ، 'مجھے خوفِ خدا تو ہمیشہ سے تھا لیکن بعدازاں میں نے باقاعدگی کے ساتھ عبادت کرنا شروع کردی۔ جس کے باعث مجھے بہت ہی سکون ملا اور کٹھن حالات سے گزرنے کا حوصلہ بھی نصیب ہوا'۔

ڈاکٹر ہاشمی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ، 'ہماری جیسی ثقافتوں کی یہی تو طاقت ہے'۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مریض، ان کے اہل خانہ اور حتیٰ کہ ڈاکٹر خود ہمت کھو بیٹھیں اور سب قسمت کا کھیل سمجھ بیٹھیں تو یہ بات کئی صورتوں میں طبّی بوجھ بن سکتی ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ 'اگر دعا عمل کو تقویت پہنچانے کا ذریعہ بننے کے بجائے اس کا مکمل طور پر بدل بن جائے تو اس سے آنے والے ہفتے اور مہینے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔'

ان کے مطابق اپنے پیارے کھونے والے گھرانوں کو ان احتیاطی تدابیر کو بھی دھیان میں رکھنا ہوگا جو ان کی اپنی اور گھر کے دیگر افراد اور اپنے پیاروں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ 'اگر وہ دعا مانگنا اور قرآن مجید کی تلاوت کرنا یا دیگر عبادات کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایک زبردست بات ہے لیکن خدارا لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا نہ ہونے دیں، سماجی دُوری اختیار کریں اور وبا کی شدت کم ہونے تک جراثیم سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا رہیں'۔

سکینہ بتاتی ہیں کہ، 'چونکہ مجھے عمر رسیدہ والدین کا خیال رکھنا تھا اس لیے میں نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو پیغام بھیجا کہ وہ میرے پاس نہ آئیں'۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے شوہر کے غسل، نماز جنازہ اور قبر میں دفنانے کے عمل میں کل 6 افراد نے حصہ لیا تھا، جن میں سے 4 ان کے گھر کے ملازم اور 2 ان کے بھتیجے تھے۔

ڈاکثر ہاشمی غم میں مبتلا افراد کو صحت بخش کھانا کھانے، مناسب نیند لینے اور خود کو مصروف رکھنے کی تاکید کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ہاشمی کہتے ہیں کہ، 'اس طرح دنیا سے رخصت ہوجانے والے اپنے پیاروں کو تکلیف دہ جذبات کی زد میں آئے بغیر یاد کرنا آسان ہوجائے گا' ساتھ ہی انہوں نے لواحقین کو اس دنیا میں موجود اپنے پیاروں کو اپنی محبتوں کا محور بنانے کا مشورہ بھی دیا۔

وفات پانے والوں کی چیزوں کو ترتیب دے کر اپنی زندگی کی بے ترتیبی ختم کیجیے

ڈاکٹر بدر کہتی ہیں کہ 'جبری' سست رفتاری کچھ لوگوں کی زندگی میں غم اور جذبات پر قابو پانے اور صبر کے حصول کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق، 'اس طرح قلیل مدت کے لیے مدد مل سکتی ہے۔ کام پر جانے اور دیگر سودا سلف لانے جیسے چھوٹے موٹے کاموں کے دباؤ کے بغیر غم سے گزرنے والے لواحقین کو اپنے وجود اور اذہان کو آرام دینے کے لیے زیادہ وقت مل سکتا ہے'۔

وہ اپنے ایک کلائنٹ کی مثال دیتی ہیں جنہوں نے کہا کہ انہیں بالآخر بیٹھ کر سوچنے، رونے اور غور و فکر کرنے کا وقت ملا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں گھروالوں کی تصاویر، خطوط اور متوفی کی چیزوں کو ترتیب وار رکھنے سے اپنے احساسات کو اپنے اندر جذب کرنے کا موقع ملا'۔

سکینہ اس کام کے لیے خود کو تیار نہ کرسکیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'میں نے اپنے شوہر کی الماریاں تو صاف کیں لیکن میں کمرے سے ان کی چیزیں ہٹانے کی ہمت اپنے اندر پیدا نہیں کرسکی ہوں اور مجھ سے نہ تو ان کی تصاویر دیکھی جاسکتی ہیں اور نہ ہی ان کے کاغذات و دستاویزات ورق بہ ورق دیکھنے اور پڑھنے کی ہمت ہے‘۔

سارہ کہتی ہیں کہ، ان کی والدہ کو گزرے ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا اس لیے فی الحال انہیں اپنی والدہ کی چیزوں کو سمیٹنے یا پیک کرنے میں کچھ وقت لگے لگا۔ انہوں نے بتایا کہ، 'میں نہیں سمجھتی کہ مجھ میں یا میرے بھائی میں اس وقت یہ کام کرنے کا حوصلہ ہے'۔

اس صدماتی وقت میں غم جھیلنا مزید مشکل ہوگیا ہے

ڈاکٹر بدر کہتی ہیں کہ جہاں عام دنوں میں غم جھیلنا دردناک ہوتا ہے وہیں موجودہ حالات کے اضافی دباؤ کی وجہ سے یہ مزید مشکل ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'کئی لوگ معمولاتِ زندگی میں آنے والی غیر معمولی تبدیلیوں، مالی پریشانیوں، صحت سے جڑے مسائل، اضافی ذمہ داریوں، غیر یقینی کی صورتحال اور تناؤ کم کرنے والی سرگرمیوں کی عدم دستیابی کے باعث پہلے سے ہی متاثر ہیں ایسے میں اپنے پیاروں کی وفات کا دکھ اٹھانا مزید مشکل ہوگیا ہے'۔

اور پھر کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جن کے پیارے کورونا وائرس کی زد میں آکر جان کی بازی ہار بیٹھے۔ ڈاکٹر بدر کے مطابق، 'انہیں اپنے غم کے ساتھ ساتھ دیگر جذباتی مسائل سے بھی نمٹنا ہوتا ہے'۔ وہ اس کی وضاحت کچھ اس طرح کرتی ہیں کہ مثلاً لواحقین پر پچھتاوے یا افسوس کے احساسات حاوی ہوسکتے ہیں (انہیں یہ سوچ ستا سکتی ہے کہ اگر وہ احتیاط برتتے تو شاید ان کے پیارے اس وائرس کی زد میں نہ آتے) یا پھر ان کے وائرس کا شکار بننے میں مددگار بیرونی عناصر (جیسے بے احتیاطی کرنے والے لوگ، حکومت وغیرہ) پر غصہ ہوسکتے ہیں۔ غمگینی کی اس کیفیت میں ہم اپنے دکھوں کا الزام دینے کے لیے مختلف وجوہات، افراد اور حالات کو ڈھونڈنا شروع کردیتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض اوقات خود کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں'۔

ڈاکٹر ہاشمی اور ان جیسے دیگر افراد جو ذہنی صحت کے شعبے سے وابستہ ہیں وہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں ذہنی بے چینی، ڈپریشن اور غم یا تکلیف کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ کی شکایت میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'لیکن صرف مرنے والوں کے اہل خانہ اور ان کے پیارے ہی ان مسائل کا شکار نہیں ہوتے بلکہ اس مہلک مرض کے دوران صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اور ان کے گھر والے بھی مختلف صورتوں میں صدماتی کیفیت کا شکار ہوئے ہیں۔'

زندگی کا سفر جاری رکھا جائے

ڈاکٹر ہاشمی کہتے ہیں کہ مختلف ثقافتوں میں غم منانے کی مختلف رسومات ہوتی ہیں۔ کچھ ثقافتوں (مثلاً مصر) میں غم کے برملا اظہار کرنے یعنی رونے چیخنے چلانےاور سینا کوبی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جبکہ چند ثقافتوں (مثلاً انڈونیشیا) میں ضبط اور خاموشی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ ہماری ثقافت میں مذہبی اظہار کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے مثلاً قرآن مجید کی تلاوت کرنا، دعا مانگنا وغیرہ۔ اظہار چاہے جس طرح کا بھی ہو ان سب سے جذباتی اور جسمانی تعلقات قائم کرنے میں مدد ملتی ہے جو زندوں اور مردوں کو آپس میں جوڑ تے ہیں۔

ڈاکٹر بدر اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ کسی سے بچھڑ جانے کے غم سے نمٹنے کا ہمیشہ سے ہی یہ مطلب رہا ہے کہ نئے حالاتِ زندگی کی تبدیلی کے ساتھ خود کو ڈھالتے ہوئے زندگی کے سفر کو جاری رکھا جائے۔ لاک ڈاؤن میں پہلے سے زیادہ نئے حالات کا سامنا ہوتا ہے اور ان کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ عام دنوں میں دکھ ہلکا کرنے کے مؤثر طریقے دراصل وہی ہیں جو بڑی حد تک فطری محسوس ہوتے ہیں اور یہ اپنی رفتار کے مطابق اثر انگیز ہوتے ہیں، ان میں تنہا وقت گزارنا، غور و فکر کرنا، سماجی تعاون اور مصروف رہنے جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔ تاہم لاک ڈاؤن کے دوران یہ طریقے اگرچہ مشکل تو بن جاتے ہیں لیکن ناممکن نہیں ہوتے۔

ڈاکٹر بدر کے مطابق اگرچہ انسانی قربت اور لمس کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا لیکن موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے سماجی رابطے اور گفتگو کے مواقع آسانی سے دستیاب ہوجاتے ہیں۔

'ورچؤل کندھے پر سر رکھ کر رونے یا باتوں اور قہقہوں کے ذریعے اپنا دھیان بٹانے کی غرض سے لوگوں سے رابطہ کرنے اور مدد مانگنے میں جھجھک محسوس نہ کریں۔ اس وقت کئی لوگ اپنے پرانے دوست و احباب سے رابطے بحال کر رہے ہیں اور غم ہلکا کرنے میں یہ عمل کافی زیادہ مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی آن لائن اجتماعی ملاقاتیں اور ویڈیو کال پر باتیں موجودہ حالات میں قابلِ عمل اور سماجی تعلق کو بحال رکھنے کے قیمتی ذرائع بھی ہیں'۔

اس کے علاوہ کئی ماہرینِ نفسیات اس بحران کے دوران آسان رساں آن لائن سیشن کی سہولت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہاشمی کے مطابق، 'موجودہ حالات میں لوگوں میں ٹیلی ہیلتھ کے بارے میں آگاہی بڑھی ہے۔ مگر لوگوں کو دھیان رکھنا ہوگا کہ وہ فون پر کس سے بات کر رہے ہیں، صرف معتبر ادارے سے وابستہ سروسز کو ہی استعمال کیا جائے اور خود کو ماہرِ نفیسات بتانے والے ہر شخص پر بھروسہ نہ کیا جائے'۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی ٹیلی سائیکیاٹری ہیلپ لائن (99214724, 03126765604-042, Skype: [email protected]) اور میو ہسپتال (کورونا وائرس کے شکار مریضوں کے لیے مختص ہسپتال) سمیت ان سے منسلک ہسپتالوں نے حال ہی میں ٹیلی میڈیسن کے شعبے کا آغاز کیا ہے جہاں 24 گھنٹے ماہرین ذہنی اور نفسیاتی مسائل سے متعلق مشورے دیتے ہیں. صحت کہانی بھی اگلے 3 ماہ تک ذہنی صحت اور دیگر طبّی مسائل کے آن لائن علاج معالجے کی خدمات فراہم کرتا رہے گا'۔


٭نجی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے مذکورہ ناموں کو تبدیل کردیا گیا ہے٭ شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے حالات و واقعات میں کہیں کہیں تبدیلی کی گئی ہے۔


انگلش میں پڑھیں۔