بھارت میں مسلمان سمیت تمام اقلیتیں غیر محفوظ ہیں، وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 29 اپريل 2020

ای میل

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی—فائل فوٹو:اے پی
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی—فائل فوٹو:اے پی

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کا رویہ نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ خطرناک ہے بلکہ وہاں پر موجود تمام اقلیتیں بھی غیر محفوظ ہیں، جس کا اظہار دنیا کے صف اول کے میڈیا میں بھی کیا گیا ہے۔

امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی رپورٹ پر اپنے ردعمل میں وزیر خارجہ نے کہا کہ آج نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور گارجین سمیت تمام صف اول کے میڈیا نے امریکی کمیشن کی تازہ ترین رپورٹ پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا رویہ صرف مسلمانوں کے لیے خطرناک نہیں بلکہ آج بھارت میں تمام اقلیتیں بھی غیر محفوظ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنیوالے ممالک میں شامل کیا جائے، امریکی کمیشن

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکی ادارے کی رپورٹ میں ایسے 328 مختلف واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں بھارت میں جبراً مذہب کی تبدیلی کی کوششیں کی گئی ہیں۔

بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں کروڑوں کی تعداد میں ایسے لوگ بھی ہیں جو مثبت سوچ کے حامل اور سیکولر بھارت کے حامی ہیں اور اب وہ افراد اپنی آوازیں بھارت سرکار کے رویے کے خلاف اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے قبل دہلی میں مسلمانوں کا قتل عام ساری دنیا نے دیکھا مگر انہوں نے مصلحتاً خاموشی اختیار کی جبکہ خلیجی ممالک نے بھارت کے رویے کے خلاف آواز بلند کی ہے۔

خلیجی ممالک کاحوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک میں بہت سے بھارتی شہری مقیم ہیں مگر ان پر تو زندگیاں تنگ نہیں کی گئیں۔

اپنے بیان میں وزیرخارجہ نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کو میں نے دوبارہ خط لکھا ہے اور رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں تاکہ وہ عالمی سطح پر اس رویے کے خلاف آواز اٹھائیں۔

مزید پڑھیں:بھارت میں مذہبی فسادات پر امریکی سیاستدانوں کا اظہار افسوس

شاہ محمود قریشی کے مطابق بھارت سے متعلق بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی میڈیا کی رائے تیزی سے بدل رہی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور بھارتی وزیرداخلہ کے بیانات پر ان کا کہنا تھا کہ امیت شاہ مسلمانوں کو کورونا وائرس کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں جبکہ بھارت کے مسلمانوں کو کورونا بم سے تشبیہ دیا جارہا ہے جو انتہائی افسوس ناک ہے۔

وزیرخارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا میں ایک طرف اقلیتوں کے خلاف بھارتی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان کی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی رپورٹ میں تجویز دی تھی کہ بھارت کو ’خاص تشویش ناک ملک‘ قرار دیا جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’مذہبی آزادی کی ممکنہ طور پر سب سے گری ہوئی اور سب سے خطرناک حد تک بگڑی ہوئی صورت حال دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں ہے‘۔

کمیشن کا کہنا تھا کہ ’مذہبی اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے ساتھ سال 2019 میں بھارت (کی ساکھ) میں تیزی سے تنزلی دیکھی گئی‘۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں اقلیتوں سے ناروا سلوک باعث تشویش ہے، دفتر خارجہ

ادارے کی نائب چیئرمین نادائن مائنزا کا کہنا تھا کہ بھارت نے ’مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کو برداشت کیا‘۔

نادائن مائنزا کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ ’چونکا دینے والا اور پریشان کن‘ اقدام شہریت ترمیمی قانون کی منظوری تھی جس نے مسلمانوں کے سوا دیگر 6 مذاہب کے ماننے والوں کے لیے شہریت کا عمل تیز کردیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ جب حکومت اپنے قومی رجسٹریشن پروگرام کو مکمل کرے گی تو اس سے ممکنہ طور پر لاکھوں مسلمانوں کی حراست، ملک بدری اور بے وطنی کا خطرہ ہے‘۔

خیال رہے کہ دفتر خارجہ کی جانب سے بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جاتا رہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے 21 اپریل کو جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان میں اقلیتوں سے ناروا سلوک پڑوسی ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کے لیے بھی باعث تشویش ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ہم بھارتی وزیر خارجہ کے ترجمان کے غیر ذمہ دارانہ اور ناجائز بیانات کو مسترد کرتے ہیں جو وہاں میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے منفی بھارتی رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔

ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک نہ صرف وہاں کی اقلیتوں اور پڑوسی ممالک بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں انتہائی تشویش ہے کہ آر ایس ایس سے متاثرہ بی جے پی حکومت کی امتیازی اور مسلم مخالف پالیسیاں اور عمل بدستور برقرار ہیں یہاں تک کہ کووڈ 19 کے وبائی امراض کے پھیلاؤ کے باوجود مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے منظم مہم ابھی بھی جاری ہے جس سے ان پر مزید تشدد کا اندیشہ ہے۔