چوہدری برادران کی اپیل پر سماعت کرنے والا دوسرا بینچ بھی تحلیل

اپ ڈیٹ مئ 12 2020

ای میل

چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی—فائل فوٹو: ڈان
چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی—فائل فوٹو: ڈان

لاہور ہائیکورٹ میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین (چوہدری برادران) کی قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کے اختیارات اور اپنے خلاف 3 انکوائریز پر دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والا دوسرا بینچ بھی تحلیل ہوگیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے مذکورہ معاملے پر جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس اسجد گھرال پر مشتمل 2 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

تاہم مذکورہ بینچ کے رکن جسٹس اسجد جاوید گھرال نے چوہدری برادران کا کیس سننے سے معذرت کرلی۔

انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر وہ اس کیس کو نہیں سن سکتے۔

مزید پڑھیں: چوہدری برادران کی نیب کے خلاف اپیل پر سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل

بعدازاں جسٹس شہباز رضوی نے کیس کی فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 7 مئی کو کیس کی پہلی سماعت میں لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر طاہر نصراللہ وڑائچ نے چوہدری برادران کا کیس سنے والے بینچ پر اعتراض اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ جسٹس فاروق حیدر چوہدری برادران کے کیسز کی پیروی کرتے رہے ہیں لہٰذا یہ بینچ چوہدری برادران کا کیس نہ سنے۔

بعد ازاں بینچ کے رکن جسٹس فاروق حیدر نے کیس کی سماعت سے معذرت کرلی تھی، جس کے بعد نئے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے پاس گیا تھا اور نیا بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

چوہدری برادران کی درخواست

خیال رہے کہ 6 مئی کو چوہدری برادران نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کے اختیارات کے غلط استعمال اور اپنے خلاف 20 سالہ پرانی 3 تحقیقات کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ میں اپنے وکیل امجد پرویز کے توسط سے دائر کی گئیں 3 ایک جیسی درخواستوں میں مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں نے مؤقف اپنایا تھا کہ سال 2000 میں مذکورہ بیورو کے چیئرمین نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت درخواست گزاروں کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال اور آمدن سے زائد اثاثے سے متعلق انکوائریز کی منظوری دی۔

تحریک انصاف کے اتحادیوں کی جانب سے دائر اس درخواست میں اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ نیب کا قیام، اس کی ساکھ، برابری اور اس کا 'سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال' نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور دانشوروں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

درخواست گزاروں کے مطابق سال 2017 اور 2018 میں جب ان کے حریف اقتدار میں تھے تب نیب کے ریجنل بورڈ اور تفتیشی افسران کی جانب سے تینوں انکوائریز کو بند کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ تاہم چیئرمین نیب نے 2019 میں ہمارے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے معاملے کی 19 سال بعد دوبارہ منظوری دے دی۔

چوہدری برادران نے عدالت سے ان انکوائریز کی منظوری کو کالعدم قرار دینے اور چیئرمین نیب کی جانب سے دیے گئے احکامات کو غیرقانونی قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

نیب کا مؤقف

بعد ازاں قومی احتساب بیورو نے مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے اپنے خلاف زیر التوا کچھ انکوائریز سے متعلق دائر کی گئی درخواستوں میں اپنائے گئے مؤقف کو مسترد کردیا تھا۔

ایک بیان میں نیب اسلام آباد نے شکایت کی تھی کہ چوہدری برادران کے خلاف انکوائریز کو بنیاد بنا کر ادارے کو ایک نہ ختم ہونے والے 'پروپیگینڈا' کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین نیب کے اختیارات کیخلاف اپیل پر سماعت، بینچ کے رکن پر اعتراض

بیان میں کہا گیا تھا کہ چیئرمین نیب کی جانب سے ان کیسز پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا یا کوئی ایسا حکم جاری کیا گیا جسے عدالت کے سامنے چیلنج کیا جاسکے۔

نیب کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ تمام پرانے کیسز میں معمول کے طریقے کے تحت تحقیقات کی گئی تھی چونکہ انہیں غیرمعینہ مدت کے لیے بند کرکے نہیں رکھا جاسکتا۔

ساتھ ہی احتساب کے ادارے نے کہا تھا کہ وہ ایک آزاد ادارہ ہے اور اس کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں، لہٰذا میڈیا قیاس آرائیوں سے گریز کرے اور زیر التوا کیسز سے متعلق خبر نشر یا شائع کرنے سے پہلے ترجمان سے مؤقف لے لیں۔