فلسطینی صدر کا امریکا، اسرائیل سے تمام معاہدے ختم کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 21 مئ 2020

ای میل

محمود عباس کے بیان کے بعد تاحال امریکا کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا— فائل فوٹو: اے پی
محمود عباس کے بیان کے بعد تاحال امریکا کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا— فائل فوٹو: اے پی

فلسطین کے صدر محمود عباس نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے بڑے حصے کو الحاق کرنے کے منصوبے پر اسرائیل اور امریکا کے ساتھ سیکیورٹی سمیت تمام معاہدے منسوخ کردیے۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق 1990 کی دہائی میں اوسلو معاہدے اور دیگر معاہدوں کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی تشکیل دی گئی تھی جس کے تحت وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے سیاسی، معاشی اور سلامتی تعلقات انجام دیتی ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں اسرائیل کا گھر پر فضائی حملہ، فلسطینی کمانڈر ہلاک

محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن اور فلسطین اتھارٹی اب اسرائیلی اور امریکی حکومت کے ساتھ سکیورٹی سمیت کسی معاہدے اور مفاہمت کا پابند نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اب عالمی برادری کے سامنے قابض کی حیثیت سے اپنے ذمہ داریاں اٹھانا پڑے گی۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ فلسطین بطور رکن ریاست بین الاقوامی تنظیموں میں شامل ہونے کے لیے اپنی مہم کو تیز کرے گا اور اس سے امریکی دفاع کی مخالفت کی جائے گی۔

محمود عباس کے بیان کے بعد تاحال امریکا کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل میں حلف اٹھانے والی نئی حکومت کو فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی خود مختاری کا اطلاق کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے جاری، جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہوگئی

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی خود مختاری کا دعویٰ بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔

انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں یہودی آباد کاریوں کے معاملے پر کہا تھا کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی قانون کو نافذ کریں اور صہیونیت کی تاریخ کا ایک اور شاندار باب لکھیں‘۔

بعد ازاں اردن کے بادشاہ نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ اگر فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کو الحاق کرنے کا منصوبہ جاری رہا تو بڑے پیمانے پر تنازع جنم لے سکتا ہے۔

اسرائیل نے یہودی بستیوں اور وادی اردن کو الحاق کرنے کا وعدہ کیا ہے جو ایک طویل عرصے سے تعطل کا شکار امن عمل کے خاتمے کا عملی جواز بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اردن، مغربی ممالک کا اتحادی ملک ہے اور ان دو عرب ریاستوں میں سے ایک جس نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

دوسری جانب دنیا بھر کے 250 سے زائد فنکاروں اور مصنفین نے اسرائیل سے فلسطین کی مغربی پٹی غزہ کے محاصرے کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی فوج سے 'جھڑپوں' میں 3 فلسطینی جاں بحق

انہوں نے کہا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل پر کورونا وائرس کے تباہ کن اثرات پڑسکتے ہیں۔

عالمی فنکاروں نے آن لائن خط میں کہا تھا کہ کورونا وائرس سے پہلے ہی غزہ میں شعبہ صحت بدترین صورتحال سے دوچار ہے اور اقوام متحدہ پیشگوئی کرچکا ہے کہ 2020 تک ساحلی پٹی رہائش کےقابل نہیں رہے گی۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ 2007 سے اسرائیلی ناکہ بندی سے محصور ساحلی علاقے غزہ میں غربت کی بلند شرح اور کمزور نظام صحت کے باعث اس وائرس کا پھیلاؤ تباہ کن ہوسکتا ہے۔

فلسطینیوں کے لیے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں اسرائیلی حکام سے تعمیرات کی اجازت لینا نہایت مشکل ترین مرحلہ ہے اور انسانی حقوق کے رضاکاروں کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ سے گھروں کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا اسرائیل سے 5 کروڑ ڈالر کا دفاعی معاہدہ

اسرائیل نے 1967 میں 6 روزہ جنگ کے بعد مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا تاہم بعد ازاں انہوں نے مشرقی یروشلم کو اپنی ریاست کا حصہ بنا لیا تھا جس کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔

اسرائیل نے بیریئر کی تعمیرات کا کام سنہ 2000 میں شروع کیا تھا اور اسے اپنی حفاظت کے لیے ناگزیر قرار دیا تھا۔

امریکی منصوبہ

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان میں کہا تھا جس کے تحت یروشلم (بیت المقدس) اسرائیل کا 'غیر منقسم دارالحکومت' رہے گا جبکہ فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم میں دارالحکومت ملے گا اور مغربی کنارے کو آدھے حصے میں نہیں بانٹا جائے گا۔

فلسطینیوں نے ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کردیا تھا جو پورے مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت نہیں دکھائے کیونکہ اس علاقے میں مسلمانوں، یہودیوں اور عسائیوں کے مقدس مقامات موجود ہیں۔

تاہم امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں کہا تھا کہ یروشلم، اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رہے گا۔

مزید پڑھیں: فلسطینی آخر جائیں تو جائیں کہاں؟

امریکا کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے میں مغربی پٹی میں اسرائیلی آباد کاری کو تسلیم کرلیا گیا تھا اور ساتھ ہی مغربی کنارے میں نئی بستیاں آباد کرنے پر 4 سال کی پابندی لگائی گئی۔

امریکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق امن منصوبہ تنازع کے کلیدی مسائل پر اسرائیل کی حمایت کرتا ہے جس کی وجہ سے ماضی میں سرحدوں سمیت امن کی کوششیں متاثر ہوئیں اور اس میں فلسطینیوں کو ریاست دینے کے لیے تقریباً ناممکن حالات موجود ہیں۔

امن منصوبے پر اقوام متحدہ اور یورپ کی جانب سے غیر جانبدارانہ ردعمل دیا گیا جبکہ اہم اسلامی ممالک نے اسے مسترد کرتے ہوئے فلسطین سے غداری قرار دیا۔