کورونا وائرس کا ایک مریض کتنے لوگوں کو بیمار کرسکتا ہے؟

اپ ڈیٹ 21 مئ 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

مارچ میں امریکی علاقے ماؤنٹ ورنن میں 61 لوگ موسیقی کی مشق کے لیے اکٹھے ہوئے اور سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔

ڈھائی گھنٹے وہ اکٹھے رہے اور پھر 3 دن بعد ان میں سے ایک میں کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی اور آنے والے ہفتوں میں اس اجتماع میں موجود 53 افراد اس بیماری کا شکار ہوئے، 3 ہسپتال پہنچ گئے اور 2 چل بسے۔

یہ واقعہ 12 مئی کو یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن نے رپورٹ کیا تھا۔

ایسے ہی کئی واقعات کووڈ 19 کی وبا کے دوران دنیا بھر میں سامنے آئے ہیں اور لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسین میں اس حوالے سے ڈیٹابیس تیار کیا گیا ہے جس میں سنگاپور میں تارک وطن ورکز کے لگ بھگ 800 کیسز، جاپان کے شہر اوساکا کے موسیقی کے ایونٹس میں شریک ہونے والے افراد کے 80 کیسز، جبکہ جنوبی کوریا میں ایک ہی جگہ 65 کیسز کا ذکر موجود ہے۔

ایسے لاتعداد واقعات بحری جہاں، نرسنگ ہومز، گوشت کے پلانٹس، اسکائی ریزورٹس، گرجا گھروں، ریسٹورنٹس، ہسپتالوں اور جیلوں میں بھی دیکھنے میں آئے اور اکثر اوقات صرف ایک فرد ہی درجنوں افراد کو بیمار کردیتا ہے۔

دیگر وبائی امراض بھی اس طرح پھیلتے ہیں مگر نیا نوول کورونا وائرس لگتا ہے کہ ایک جگہ اکٹھے افراد کو زیادہ متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یعنی اجتماعات پر پابندی اس طرح کے واقعات کو روک سکتی ہے۔

ایسا مانا جاتا ہے کہ اگر سماجی دوری کا خیال نہ رکھا جائے تو اس بیماری کا شکار ایک فرد مزید 3 لوگوں کو بیمار کرسکتا ہے یعنی اس کا ری پروڈکشن نمبر (آر) 3 ہے۔

مگر حقیقی زندگی میں کچھ لوگ بہت زیادہ افراد کو متاثر کرتے ہیں جبکہ کچھ بالکل بھی بیماری کو آگے نہیں بڑھاتے اور کیلیفورنیا یونیورسٹی کے جیمی لوئیڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ بیشتر کیسز میں یہ نمبر صفر ہوتا ہے، یعنی بیشتر مریض آگے وائرس منتقل نہیں کرتے۔

کورونا وائرس میں چند افراد بہت زیادہ تعداد میں لوگوں کو متاثر کرتے ہیں اور اس کے لیے ری پروڈکشن نمبر کے ساتھ ایک عنصر کے (k)کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

نئے کورونا وائرس کے حوالے سے یہ عنصر مختلف مقامات پر مختلف نظر آیا ہے۔

جنوری میں برن یونیورسٹی کے ماہرین نے چین میں اس وائرس کی وبا کو مختلف آر اور کے (k) عناصر کے ساتھ ماڈل بنا کر دیکھا اور اس کا موازنہ اس وقت تک کے کیسز کے ساتھ کیا۔

انہوں نے اندازہ لگایا کہ کووڈ 19 میں کے (k) کی شرح سارس اور مرس کورونا وائرس سے زیادہ ہے۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی کے گیبرئیل لیونگ کے مطابق 'میرا نہیں خیال یہ وائرس سارس یا مرس جیسا ہے، ان وائرسز میں ہم نے چند افراد سے بہت زیادہ لوگوں کے متاثر ہونے کے واقعات کا مشاہدہ کیا تھا، مگر ہم آنے والے وقت میں یقیناً ایسے متعدد واقعات دیکھنے والے ہیں جن میں بہت کم تعداد میں لوگ کیسز کی بڑی تعداد کا باعث بن جائیں گے۔

ایک حالیہ تحقیق میں لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسین نے تخمینہ لگایا کہ کووڈ 19 میں کے (k) کی شرح 0.1 فیصد ہے یعنی 10 فیصد مریض 80 فیصد کیسز کا باعث بنے۔

اس سے کورونا وائرس کی وبا کے کچھ پراسرار پہلوؤں کی وضاحت ہوتی ہے جیسے یہ وائرس چین میں ظاہر کے بعد فوری طور پر دنیا میں کیوں نہیں پھیلا، اور مختلف ممالک میں ابتدائی کیسز جیسے فرانس میں دسمبر کے آخر میں کیس زیادہ بڑی وبا کا باعث کیوں نہیں سکا۔

اگر اس وائرس میں کے (k) کا عنصر واقعی 0.1 فیصد ہے تو اسکا مطلب یہ بھی ہے کہ وبا کے پھیلنے سے کئی ہفتے یا ہینے پہلے انفیکشن کے بیشتر واقعات میں مریض خودبخود ٹھیک ہوگیا ہوگا اور بیماری کو آگے نہیں بڑھایا ہوگا، اس کی وجہ سے کووڈ 19 کو ایک نئے ملک میں 4 گنا زیادہ تعداد میں لوگوں کو متاثر کرنا پڑا ہوا ہوگا، جس کے بعد وہ بڑے پیمانے پر پھیل سکا۔

ایبولا اور ایچ آئی وی میں ایک مریض سے متعدد کیسز پر تحقیق کرنے والے آکسفورڈ یونیورسٹی کے کرسٹوفر فریزر نے کہا کہ کورونا وائرسز میں اس طرح کے ایونٹس دیگر جراثیموں سے زیادہ کیوں ہے، یہ ایک واقعی دلچسپ کھلا سوال ہے۔

ان کے خیال میں ان وائرسز کے پھیلنے کی ممکنہ طور پر ایک وجہ ہے، ویسے تو نیا کورونا وائرس منہ یا ناک سے خارج ہونے والے ذرات سے پھیلتا ہے مگر کبھی کبھار ان ننھے ذرات سے بھی منتقل ہوجاتا ہے جو ہوا میں رک جاتے ہین، اور اسی طرح ایک فرد متعدد کو متاثر کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیشتر واقعات میں مشاہدہ کیا گیا کہ ہوا میں رک جانے والے ذرات نے کردار ادا کیا۔

اسی طرح انفرادی سطح پر مریضوں کی شخصیت بھی ایک کردار ادا کرتی ہے، یعنی کچھ افراد بیمار ہونے کے بعد زیادہ وائرس جسم سے خارج کرتے ہیں اور وہ بھی زیادہ وقت تک، جس کی وجہ ان کا مدافعتی نظام مختلف ہونا ہے یا ان کے جسم کے اندر وائرس ریسیپٹرز کی تقسیم مختلف ہوتی ہے۔

بولنے کے مقابلے میں گانے سے زیادہ وائرس خارج ہوسکتے ہیں جس سے ماؤنٹ ورنن میں موسیقی کی مشق کرنے والے افراد کے بیمار ہونے کی وضاحت کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

لوگوں کا رویہ بھی کردار ادا کرسکتا ہے، بہت زیادہ سماجی تعلقات ہونا یا ہاتھوں کا نہ دھونا بھی وائرس کی منتقلی کا امکان بڑھاتا ہے۔

ایک عنصر جس پر سائنسدان اتفاق کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ باہر کے کھلے ماحول کے مقابلے میں چاردیواری میں ایک فرد سے متعدد افراد کے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

چین میں سائنسدانوں نے وبا کے مرکز ہوبے سے باہر کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر تحقیق کے دوران 4 جنوری سے 11 فروری کے دوران 3 یا 4 واقعات میں 318 کیسز کی شناخت کی، جن میں سے صرف ایک ایونٹ کھلے ماحول میں ہوا۔

جاپان میں ایک تحقیق کے دوران دریافت کیا گیا تھا کہ چاردیواری کے اندر کووڈ 19 کا خطرہ کھلے مقام کے مقابلے میں لگ بھگ 19 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

کچھ جگہیں بھی بہت زیادہ خطرناک ہوتی ہیں جیسے گوشت کے پلانٹس میں لوگ زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ وہاں بہت زیادہ افراد قریب رہ کر کم درجہ حرارت میں کام کرتے ہیں جو وائرس کی بقا میں مدد دیتا ہے، مگر یہی بات بہت زیادہ پرشور مقامات پر بھی نظر آتی ہے۔

جیسا ماؤنٹ ورنن کا واقعہ یا ایسے مقامات جہاں لوگ نعرے لگاتے ہیں یا گاتے ہیں، سائنسدانوں کے خیال میں معمول کے مطابق سانس لینا خطرے کا باعث نہیں مگر گہری یا بہت زیادہ تیزی سے سانس لینا اور شور کرنا ضرور خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

مخصوص اوقات بھی کردار ادا کرسکتے ہیں، ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ 19 کے مریض ایک مخصوص وقت کے دوران لیے سب سے زیادہ متعدی ہوتے ہیں، اس دورانیے کے دوران ایک مریض بہت زیادہ افراد کو بیمار کرسکتا ہے۔

اس طرح کے واقعات پر تحقیق بھی بہت مشکل ہے کیونکہ بیشتر ممالک میں کانٹیکٹ ٹریسنگ کا تفصیلی ڈیٹا اکٹھا کرنے کی صلاحیت نہیں اور سب کچھ بند کرنا اتنا موثر رہا ہے کہ محققین کے لیے اس طرح کے مریضوں پر تحقیق بہت مشکل ہوگئی ہے جن میں سے ایک ہی درجنوں افراد کو متاثر کرسکتا ہے۔

مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کام مشکل ہے مگر اچھی نگرانی اور برادریوں سے رابطے میں رہ کر ایسا ممکن ہے۔