امریکا کی چین کو ہانگ کانگ پر قانون سازی کے معاملے پر دھمکی

اپ ڈیٹ 23 مئ 2020

ای میل

چین نے ہانگ کانگ کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا—فوٹو:اے ایف پی
چین نے ہانگ کانگ کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا—فوٹو:اے ایف پی

امریکا نے چین کی جانب سے ہانگ کانگ کی خود مختاری کے خاتمے کے فیصلے پر دھمکی دی ہے کہ خصوصی تجارتی حیثیت ختم کردی جائے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور چین کےدرمیان ہانگ کانگ کا معاملہ نئی کشیدگی کا باعث بن گیا ہے اور امریکی قانون سازوں نے ہانگ کانگ پر سخت پابندیوں پر زور دیا ہے، یہاں تک کہ جمہوریت کے چند حامیوں نے کہا ہے کہ جوہری آپشن مؤثر رہے گا۔

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ چین کی ربر اسٹمپ اسمبلی میں پیش ہونے والا قومی سلامتی کا قانون بیجنگ کی جانب سے ہانگ کانگ کی خود مختاری کے وعدے کے لیے موت کا پروانہ ہوگا۔

مزید پڑھیں:چین کا ہانگ کانگ کیلئے نئے سیکیورٹی قوانین لانے کا منصوبہ

ان کا کہنا تھا کہ نئے قانون کے تحت وہاں بغاوت اور دیگر جرائم پر سزائیں دی جائیں گے جہاں گزشتہ برس جمہوریت کے حامی طویل احتجاج کررہے تھے۔

پومپیو کا کہنا تھا کہ بینجگ کا حالیہ قدم اسٹیٹ ڈیپارٹنمنٹ کے فیصلے پر اثر انداز ہوگا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس ہانگ کانگ میں جمہوریت کے لیے احتجاج کرنے والوں کے حق میں امریکی کانگریس نے ایک قانون منظور کیا تھا جس سے ہانگ کانگ کو دنیا کی بڑی معیشت سے تجارت کی اجازت دی گئی تھی۔

پومپیو کا کہنا تھا کہ 'امریکا زور دیتا ہے کہ بیجنگ اپنے خطرناک منصوبے پر نظر ثانی، عالمی وعدوں کی پاسداری اور ہانگ کانگ کی خود مختاری، جمہوری اداروں اور شہریوں کی آزادی کا احترام کرے جو امریکی قانون کے مطابق اس کی خصوصی حیثیت کی بنیاد ہے'۔

واضح رہے کہ چین نے اپنے سالانہ پارلیمانی اجلاس میں ہانگ کانگ کے لیے قومی سلامتی کے قانون کی تجویز پیش کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق چینی پارلیمنٹ کے سیشن کی تیاری کے اجلاس میں ایک ایجنڈا شامل کیا گیا ہے جس میں ’ہانگ کانگ (نیم خود مختار خطے) کے لیے قانونی نظام کو بہتر بنانے اور ان کے نفاذ کے طریقے کو قائم‘ کرنےسے متعلق بل پر نظرثانی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:ہانگ کانگ میں پولیس کی احتجاج کرنے والے شخص پر براہ راست فائرنگ

چین کے امور خارجہ کے نائب وزیر کا کہنا تھا کہ نئی صورتحال اور تقاضوں کے تحت نئے اقدامات ضروری ہیں اور بعض فیصلے قومی سطح پر لینا بہت ہی ضروری ہوگئے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیم 'ہانگ کانگ واچ' کے ڈائریکٹر جانی پیٹرسن کا کہنا تھا کہ ہانگ کانگ کی قانون ساز کونسل کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سیکیورٹی سے متعلق قانون سازی کا فیصلہ ’بے مثال اور انتہائی متنازع مداخلت ہے‘۔

خیال رہے کہ 1991 میں برطانیہ نے اس شہر کو چین کے حوالے کیا تھا اور چین یہاں 'ایک ملک، دو نظام' فریم ورک کے تحت حکمرانی کر رہا ہے اور ہانگ کانگ کو نیم خود مختاری حاصل ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں ہانگ کانگ میں مجرمان کی حوالگی سے متعلق مجوزہ قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج و مظاہرے کیے گئے تھے، جس نے جمہوری سوچ رکھنے والے ہانگ کانگ کے عوام اور بیجنگ کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کے درمیان شدید اختلافات کو واضح کردیا تھا۔

ہانگ کانگ میں اس احتجاج کا آغاز پرامن طور پر ہوا تھا تاہم حکومت کے سخت ردعمل کے بعد یہ احتجاج و مظاہرے پرتشدد ہوگئے تھے۔

شدید احتجاج کے بعد ہانگ کانگ کے شہریوں کو ٹرائل کے لیے چین بھیجنے کی اجازت دینے والے قانون کو واپس لے لیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود احتجاج کئی ماہ تک جاری رہا تھا جس میں حقوق کے لیے ووٹنگ کرانے اور پولیس کی پرتشدد کارروائیوں کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبے شامل تھے۔