ایک سیکنڈ میں ایک ہزار فلمیں ڈاؤن لوڈ کرنے والی انٹرنیٹ اسپیڈ کا ریکارڈ

23 مئ 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

سائنسدانوں نے تیزترین انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا ریکارڈ بنانے کا دعویٰ کیا ہے کہ جس کی مدد سے ایک ہزار ایچ ڈی فلمیں صرف ایک سیکنڈ میں ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہیں۔

اسکائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے 44.2 ٹیرابِٹ فی سیکنڈ (ٹی بی پی ایس) تک انٹرنیٹ اسپیڈ پہنچانے کا دعویٰ کیا جو کہ مختلف ممالک میں اوسط براڈ بینڈ اسپیڈ سے لاکھوں گنا زیادہ ہے جیسے برطانیہ میں یہ اسپیڈ 64 میگابِٹ فی سیکنڈ ہے۔

ٹی بی پی ایس انٹرنیٹ اسپیڈ کو اب تک لیبارٹری میں حاصل کیا جاسکا تھا مگر آسٹریلیا کے فائبر آپٹک نیٹ ورک میں یہ سسٹم کام کرنے کے قابل ہوگیا ہے، جس کے ذریعے کمپنیاں ہائی اسپیڈ براڈبینڈ صارفین کو فراہم کرسکیں گی۔

تحقیقی ٹیم نے موجودہ انفراسٹرکچر استعمال کرکے نیا ریکارڈ بنایا اور اس کے لیے ایک ڈیوائس مائیکرو کومب نے مدد کی جس کو موجودہ ٹیلی کمیونیکشنز ہارڈوئیر میں موجود 80 لیزرز کی جگہ استعمال کیا گیا۔

مائیکرو کومب بھی ایک لیزر سورس ہے اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سیکڑوں ہائی کوالٹی انفراریڈ لیزرز سے بنی ایک سنگل چچپ ہے۔

ہر لیزر یا مخصوص فریکوئنسی الگ کمیونیکشن چینل استعمال کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

اگرچہ یہ آسٹریلیا کے فائبر آپٹک نیٹ ورک میں کام کرسکتی ہے مگر بیشتر ممالک میں ایسا نہیں ہوسکتا جہاں کاپر کی تاروں پر انحصار کیا جاتا ہے۔

محقق اور موناش یونیورسٹی کے ڈاکٹر بل کورکورن نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں گھروں سے کام، سوشل میڈیا اور اسٹریمنگ بڑھنے سے ہمیں معلوم ہوا کہ انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کس طرح 2 سے 3 سال میں بڑھانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے انٹرنیٹ کنکشنز کی گنجائش کو کس حد تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری تحقیق سے فائبر نیٹ ورک کی صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے جو ابھی زمین پر موجود ہے جو کہ ابھی اور مستقبل میں کمیونیکشنز نیٹ ورکس کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم جو تیار کررہے ہیں وہ مستقبل کی ضرورت کو پوری کرسکے گا، یہ ڈیٹا خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں اور مستقبل کی ٹرانسپورٹیشن کے لیے ہوسکے گا، اس سے ادویات، تعلیم، مالیات اور ای کامرس صنعتوں کو مدد مل سکے گی۔

اس تحقیق کے نتائج جریددے جنرل نیچر کمیونیکشنز میں شائع ہوئے۔