ہٹلر کی مبینہ ملکیت رہنے والا مگر مچھ 84 سال کی عمر میں چل بسا

اپ ڈیٹ 24 مئ 2020

ای میل

ایلی گیٹر مگر مچھ بمباری سے بھی بچ گیا تھا — فوٹو: اے پی
ایلی گیٹر مگر مچھ بمباری سے بھی بچ گیا تھا — فوٹو: اے پی

مبینہ طور پر نازی جرمنی کے سربراہ اور سابق جرمن چانسلر ایڈولف ہٹلر کی ذاتی ملکیت رہنے والا امریکی نسل کا ایلی گیٹر مگر مچھ زائدالعمری اور علالت کے بعد 22 مئی کو چل بسا۔

ایلی گیٹر مگر مچھ امریکی نسل کے ہوتے ہیں جو عام مگر مچھ سے کچھ بڑے اور رنگ میں مختلف ہوتے ہیں۔

مر جانے والے مگر مچھ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اسے امریکی حکام نے جنگ عظیم دوئم شروع ہونے سے ایک دہائی قبل جرمنی کو تحفے میں دیا تھا۔

امریکی حکام نے مذکورہ مگر مچھ کو 1936 میں جرمنی کو تحفے میں دیا گیا، جسے برلن کے ایک چڑیا گھر میں رکھا گیا تھا اور اس وقت اس کی عمر 5 سال سے بھی کم تھی۔

تاہم بعد ازاں جنگ عظیم دوئم چھڑجانے کے بعد جرمنی پر دشمن فوج کی بمباری سے برلن کا چڑیا گھر بھی متاثر ہوا تو مذکورہ مگر مچھ وہاں سے بھاگ نکلا اور برطانیہ کی فوج نے چند سال بعد اسے تلاش کرکے سوویت یونین (حالیہ روس) کے حوالے کردیا تھا۔

اس وقت تک جنگ عظیم دوئم ختم ہوچکی تھی اور ایڈولف ہٹلر کی موت ہوچکی تھی جب کہ جرمنی کے ایک حصے پر سوویت یونین دوسرے پر امریکا قابض تھا۔

برطانوی فوج نے مگر مچھ کو پکڑنے کے بعد سوویت یونین کی فوج کے حوالے کیا تو اس مگر مچھ کو ماسکو منتقل کیا گیا اور پھر اسے وہاں کے چڑیا گھر میں رکھ دیا گیا۔

بمباری سے بچنے والا مگر مچھ 70 سال سے زائد عرصے تک ماسکو چڑیا گھر میں رہا مگر طویل العمری کے باعث 22 مئی 2020 کو چل بسا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ماسکو چڑیا گھر نے تصدیق کی کہ ایلی گیٹر مگر مچھ 84 سال کی عمر میں چل بسا۔

رپورٹ کے مطابق بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ مذکورہ مگر مچھ ہٹلر کی ذاتی ملکیت تھا اور اس نے اسی مگر مچھ سمیت کئی جانور اپنے ذاتی چڑیا گھر میں پال رکھے تھے۔

بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ جرمن مخالف اور ہٹلر کی دشمن فوج نے مذکورہ مگر مچھ کو چرایا تھا، جسے بعد ازاں سوویت یونین کے حوالے کردیا گیا تاہم اس حوالے سے کوئی تاریخی ثبوت دستیاب نہیں ہیں۔