کراچی میں تباہ ہونے والے طیارے کا کاک پٹ وائس ریکارڈر مل گیا

اپ ڈیٹ مئ 28 2020

ای میل

طیارے کا وائس ریکارڈر ملبے کے نیچے سے ملا—فوٹو: پی آئی اے
طیارے کا وائس ریکارڈر ملبے کے نیچے سے ملا—فوٹو: پی آئی اے

کراچی میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب رہائشی علاقے میں گرکر تباہ ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے طیارے کا کاک پٹ وائس ریکارڈر مل گیا۔

خیال رہے کہ 22 مئی کو پی آئی اے کا طیارہ 99 مسافروں کو لے کر لاہور سے کراچی پہنچا تھا جو لینڈنگ سے کچھ منٹ پہلے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں گرکر تباہ ہوگیا تھا، جس میں 97 افراد (89 مسافر اور 8 عملے کے اراکین) جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے کاک پٹ وائس ریکارڈر طیارے کے ملبے کے نیچے سے برآمد ہونے کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس سے تحقیقاتی عمل میں بہت مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں: طیارہ حادثہ: فرانسیسی ماہرین، مقامی تفتیش کاروں کا دوسرے روز بھی جائے وقوع کا دورہ

انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی ٹیمیں بہت سرکردگی سے اس اہم پرزے کی تلاش میں سرگرم تھیں اور اسی سلسلے میں آج نئے سرے سے تلاش کا عمل شروع کیا گیا تھا جس کے بعد ملبے کے نیچے دبا ہوا وائس ریکارڈر مل گیا۔

ترجمان کے مطابق کاک پٹ وائس ریکارڈر ایئرکرافٹ ایکسیڈینٹ انویسٹیگیشن بورڈ (اے اے آئی بی) کے حوالے کردیا گیا۔

یاد رہے کہ اس حادثے کے بعد وفاقی حکومت نے سول ایوی ایشن کے رولز 1994 کے رول 273 کے سب رول ون کے تحت تحقیقات کے لیے 4 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔

ٹیم کی سربراہی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کر رہے ہیں جبکہ ٹیم کے دیگر اراکین میں اے اے آئی بی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ٹیکنیکل انویسٹی گیشن ونگ کمانڈر ملک محمد عمران، پاک فضائیہ کامرہ کے سیفٹی بورڈ کے انویسٹی گیٹر گروپ کیپٹن توقیر اور بورڈ کے جوائنٹ ڈائریکٹر اے ٹی سی ناصر مجید شامل ہیں۔

ادھر طیارہ حادثہ کی تحقیقات تیسرے روز بھی جاری ہیں اور بین الاقوامی کمپنی ایئربس کی تحقیقاتی ٹیم نے آج بھی جائے حادثہ پر شواہد اکٹھے کیے۔

قبل ازیں ماہرین نے جدید تکنیکی آلات کی مدد سے تحقیقات کی اور کاک پٹ وائس ریکارڈر کے حصول کے لیے متاثرہ عمارتوں کی خصوصی جانچ پڑتال کی۔

مزید یہ کہ کاک پٹ وائس ریکارڈر کی تلاش کے لیے پی آئی اے، انجینئرنگ، تکنیکی گراؤنڈ سپورٹ اور سی اے اے ویجیلنس ٹیموں نے بھی حصہ لیا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ جائے حادثہ سے ایئرپورٹ منتقل کیے جانے والے ملبے سے بھی مزید شواہد اکٹھے کیے گئے جبکہ سول ایوی ایشن (سی اے اے) ہیڈ کوارٹرز اور پی آئی اے ہیڈ آفس میں بھی غیرملکی ماہرین کو خصوصی بریفنگ دی گئی۔

خیال رہے کہ اے 320 طیارہ بنانے والی کمپنی ایئر بس کی 11 رکنی ٹیم پی کے-8303 کریش کی تحقیقات میں تفتیش کاروں کی معاونت کے لیے منگل کو پاکستان آئی تھی۔

تاہم حادثے کے دن ہی بدقسمت طیارے کا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ (ایف ڈی آر) مل گیا تھا لیکن گزشتہ روز تک طیارے کا کاک پٹ ڈیٹا ریکارڈر (سی وی آر) نہیں ملا تھا جو اب مل گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایف ڈی آر اور سی وی آر کسی بھی طیارے کے بلیک باکس کے 2 اہم عنصر ہوتے ہیں اس کیس میں سی وی آر مزید اہم ہے کیوں کہ اس میں پائلٹس کے درمیان بات چیت اور تمام آوازیں ریکارڈ ہوتی ہیں۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ کراچی میں تباہ ہونے والے طیارے کے بارے میں ایوی ایشن ذرائع نے بتایا تھا کہ یہ طیارہ اے 320 کے بیڑے میں بہتر حالت میں موجود تھا۔

واضح رہے کہ پی آئی اے کے پاس مجموعی 32 طیارے ہیں جس میں 12 بوئنگ 777، 11 ایئربس اور باقی اے ٹی آرز ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ میں درخواست

علاوہ ازیں کراچی میں طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کردی گئی۔

عدالت عالیہ میں اقبال کاظمی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ قومی ایئر لائن کے لیے مخدوش حالت میں طیاروں کا خریدنا اور اڑانا مسافروں اور عملے کی جان سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

درخواست کے مطابق 7 دسمبر 2016 کو بھی اے ٹی آر طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا تاہم اس سانحہ کی تحقیقات اب تک سامنے نہیں آسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کا مسافر طیارہ آبادی پر گر کر تباہ،97 افراد جاں بحق

مذکورہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا طیارہ حادثے کا شکار ہوا جس سے 97 افراد جاں بحق ہوئے، اس طیارے میں عملے کے اراکین سمیت 99 افراد سوار تھے۔

درخواست گزار کے مطابق پی آئی کے طیاروں پر سفر کرنے والے روزانہ 800 سے زائد مسافروں کی جان کو خطرہ ہے، لہٰذا پی آئی اے کے انسپکشن اور کلیئرنس کے بغیر مسافر بردار طیاروں کو روکا جائے۔

عدالت میں دائر درخواست میں پی آئی اے کے سی ای او کو بھی فوری طلب کرنے کی استدعا کی گئی ساتھ ہی معاملے کی فوری سماعت کی استدعا کی گئی، جسے منظور کرلیا گیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کل مذکورہ درخواست کی سماعت کرے گا۔