خیبرپختونخوا: بٹگرام میں شہری نے اپنے خاندان کے 5 افراد کو قتل کردیا

اپ ڈیٹ 29 مئ 2020

ای میل

پولیس کی فائرنگ سے ملزم بھی ہلاک ہوگیا—فائل/فوٹو:اے ایف پی
پولیس کی فائرنگ سے ملزم بھی ہلاک ہوگیا—فائل/فوٹو:اے ایف پی

خیبرپختونخوا (کے پی) کے ضلع بٹگرام کی پولیس کا کہنا ہے کہ حبس میں بے جا میں رکھے ہوئے افراد کی بازیابی کی کوشش کے دوران ایک شہری نے اپنے ہی خاندان کے 5 افراد کو قتل کردیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مسلح شخص کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران 3 بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) بٹگرام طارق سہیل نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ ضلع بٹگرام کے علاقے پازنگ میں مسلح شخص نے کچھ لوگوں کو اسلحے کی نوک پر حبس بے جا میں رکھا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرستان کے گاؤں میں ویڈیو لیک ہونے پر 2 لڑکیاں'غیرت' کے نام پر قتل

انہوں نے کہا کہ 'ملزم کی شناخت جہانزیب خان کے نام سے ہوئی ہے، جس نے پولیس کے پہنچنے سے قبل دونوں بیویوں، بیٹا اور بہو کو قتل کردیا تھا'۔

پولیس افسر نے بتایا کہ تین بچوں کو بازیاب کروالیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے بچوں کو چھڑانے کے لیے ملزم کو مصروف رکھنے کی کوشش کی لیکن ملزم نے انہیں رہا کرنے سے انکار کیا جبکہ وہ خود مسلح تھا۔

ڈی پی او نے کہا کہ 'مسلح شخص نے پولیس پر بھی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوگیا جبکہ جوابی فائرنگ سے ملزم بھی ہلاک ہوگیا'۔

واقعے کے حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے جن بچوں کو بحفاظت بازیاب کروایا ہے ان کی عمریں 2 سال سے 17 سال کے درمیان ہیں۔

طارق سہیل کے مطابق پولیس نے مقدمہ درج کرکے واقعے کی تفتیش شروع کردی۔

ڈی پی بٹگرام نے کہا کہ 'پولیس اس وقت قتل کے واقعے کے پیچھے محرکات سے لاعلم ہے' جبکہ پولیس ملزم کی ذہنی حالت کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کررہی ہے۔

مزید پڑھیں:وزیرستان میں غیرت کے نام پر قتل کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کے علاقے شمالی وزیرستان میں سوشل میڈیا پر ویڈیو سامنے آنے کے بعد غیرت کے نام پر 2 خواتین کو قتل کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں یہ رپورٹس سامنے آئیں تھیں کہ ویڈیو بنانے والے شخص اور لڑکیوں کو قتل کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔