پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں احسن اقبال 2 جون کو الیکشن کمیشن طلب

اپ ڈیٹ مئ 29 2020

ای میل

الیکشن کمیشن نے دو جون کو احسن اقبال کو طلب کیا ہے— فائل فوٹو: ڈان نیوز
الیکشن کمیشن نے دو جون کو احسن اقبال کو طلب کیا ہے— فائل فوٹو: ڈان نیوز

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سیکریٹری احسن اقبال کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 جون کو طلب کرلیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے احسن اقبال کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) فارن فنڈنگ کیس میں تمام شواہد اور ثبوت اسکروٹنی کمیٹی کو پیش کریں اور اگر وہ الیکشن کمیشن میں 2 جون صبح 11 بجے پیش نہ ہوئے تو ان کی غیر حاضری میں ہی فیصلہ کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کا غیر ملکی فنڈنگ کیس منطقی انجام تک پہنچانے کا مطالبہ

الیکشن کمیشن نے 29 مئی کو جاری نوٹس میں احسن اقبال کو واضح کیا کہ وہ خود یا اپنے وکیل کے ذریعے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت میں پیش ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ احسن اقبال نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر پانچ سال سے زیر التوا فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ سماعت کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر تحریک انصاف کو بیرون ممالک سے موصول ہونے والی بھاری فارن فنڈنگ کی طرف توجہ مبذول کرائی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ اس کیس میں اسٹیٹ بینک سے آنے والا ریکارڈ سامنے لایا جائے۔

مزید پڑھیں: غیر ملکی فنڈنگ کیس: تحریک انصاف تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر آمادہ

مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اس کے علاوہ عمران خان کے دستخط سے کھولے گئے 23 خفیہ اکاونٹس کی تفصیل بھی عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

فارن فنڈنگ کیس میں اب تک کیا ہوا؟

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں مذکورہ کیس دائر کیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔

بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس: الیکشن کمیشن کی نئی کمیٹی بنانے کی ہدایت

فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، اسی سال 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔

علاوہ ازیں مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔

گزشتہ برس یکم اکتوبر کو ای سی پی نے غیر ملکی فنڈنگ کیس کی جانچ پڑتال میں رازداری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر 4 درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

10 اکتوبر 2019 کو الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی کے ذریعے تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کے آڈٹ پر حکمراں جماعت کی جانب سے کیے گئے اعتراضات مسترد کردیے تھے لیکن پی ٹی آئی نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا اور نومبر 2019 میں فارن فنڈنگ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا فیصلہ کیا گیا تھا۔