معروف ادیب اور دانشور آصف فرخی انتقال کر گئے

اپ ڈیٹ جون 02 2020

ای میل

معروف مصنف، دانشور اور ادبی شخصیت ڈاکٹر آصف فرخی آج کراچی میں 60 برس کی عمر میں انتقال کر گئے— فائل فوٹو: ڈان
معروف مصنف، دانشور اور ادبی شخصیت ڈاکٹر آصف فرخی آج کراچی میں 60 برس کی عمر میں انتقال کر گئے— فائل فوٹو: ڈان

معروف مصنف، دانشور اور ادبی شخصیت ڈاکٹر آصف فرخی آج کراچی میں 60 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

آصف فرخی ذیابیطس کے مریض تھے اور گزشتہ چند دنوں سے ان کی طبیعت ناساز تھی۔

ان کی نماز جنازہ کل بعد نماز عصر کراچی یونیورسٹی میں ادا کی جائے گی جس کے بعد جامعہ کراچی کے ہی قبرستان میں ان کی تدفین بھی کی جائے گی۔

ڈاکٹر آصف فرخی 16 ستمبر 1959 کو ممتاز ادیب، شاعر اور نقاد اسلم فرخی کے گھر پیدا ہوئے اور ان کے خاندان کے بہت سے افراد ادب اور شاعری سے وابستہ رہے جبکہ ان کی والدہ معروف ادیب ڈپٹی نذیر احمد کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔

ڈاکٹر آصف فرخی نے ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرکس اسکول میں پائی اور بعد میں ڈاؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔

انہوں نے اس کے بعد معروف امریکی یونیورسٹی ہارورڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1985 سے 1993 تک انہوں نے آغا خان یونیورسٹی کی فیکلٹی میں کام کیا۔

سنہ 2010 میں انہوں نے پاکستان میں ادبی میلوں کا کلچر متعارف کروایا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے تعاون سے کراچی لٹریچر فیسٹیول کا آغاز کیا اور اس کی بے مثال کامیابی کو دیکھتے ہوئے ادبی میلوں کا کلچر پورے پاکستان میں تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا۔

سنہ 1994 سے 2014 تک ڈاکٹر آصف فرخی نے یونیسف کے ساتھ کام کیا اور 2014 میں حبیب یونیورسٹی سے وابستہ ہو گئے۔

انہوں نے ہیلتھ اکنامکس اور فنانسنگ میں لندن سے شارٹ کورسز بھی کیے تھے اور اس سلسلے میں مختلف اداروں سے بھی وابستہ رہے جس میں آغا خان سرفہرست ہے۔

وہ اپنی مختصر کہانیوں اور مضامین کے لیے شہرت رکھتے تھے اور ان کی مختصر کہانیوں کے 7 مجموعے اور دو مضامین کی کتب چھپ چکی ہیں۔

انہوں نے متعدد مشہور اور جدید ادبی شخصیات کے کام کے تراجم بھی کیے جبکہ حال میں ہی ان کا منٹو پر تنقیدی مضامین کا ایک مجموعہ اور کراچی کے بارے میں شاعری اور مضامین پر مشتمل ایک مجموعہ شائع ہوا تھا۔

آصف فرخی ایک عرصے سے ڈان اخبار سے بھی وابستہ تھے اور 'بک اینڈ آتھرز' کے شعبے میں ان کی تحاریر شائع ہوتی تھیں۔

1997 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز نے وزیر پاکستان ادبی ایوارڈ سے نوازا تھا جبکہ حکومت نے بھی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز دیا تھا۔

ان کی موت پر معروف سماجی اور ادبی شخصیت نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ڈان اخبار کے میگزین ایڈیٹر حسن زیدی نے اسے پاکستان کے ادبی منظرنامے کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر اور کراچی لٹریچر فیسٹیول کی شریک بانی امینہ سید نے آصف فرخی کو ادبی اثاثہ اور ان کی موت کو پاکستان کے لیے نقصان قرار دیا۔

حبیب یونیورسٹی نے بھی ڈاکٹر آصف فرخی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قارئین سے ان کے لیے دعا کی درخواست کی۔