'لاک ڈاؤن سے متعلق حکومتی جوئے کے باعث ملک میں وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوا'

اپ ڈیٹ جون 05 2020

ای میل

اعداد و شمار کے مطابق وائرس متاثرہ نئے کیسز رپورٹ ہونے کا تناسب رواں ہفتے 23 فیصد کے قریب ہے —فائل فوٹو: رائٹرز
اعداد و شمار کے مطابق وائرس متاثرہ نئے کیسز رپورٹ ہونے کا تناسب رواں ہفتے 23 فیصد کے قریب ہے —فائل فوٹو: رائٹرز

عیدالفطر کے موقع پر اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے کی وجہ سے لاکھوں افراد کو فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا کہ اس دوران پاکستان نے 2 ماہ طویل کورونا وائرس لاک ڈاؤن کو ختم کردیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور اموات کے باوجود ملک کو وائرس سے بچنے کے لیے ’سیکھنے‘ کی ضرورت ہے تاکہ لاکھوں کی تعداد میں یومیہ اجرت پر زندگی گزارنے والوں کو بچایا جاسکے۔

مزید پڑھیں: لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد مارکیٹوں میں لوگوں کا رش

خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کی جانب سے سرکاری اعداد و شمار کا جاہرہ لینےکے بعد معلوم ہوا کہ لاک ڈاؤن کو ختم کرنے سے پہلے 3 ہفتوں کے دوران وائرس کے 20 ہزار سے زائد کیسز کی نشاندہی ہوئی اور اس کے بعد سے 3 ہفتوں کے دوران کیسز کی تعداد دگنی ہوگئی۔

حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس کے طبی ٹیسٹ کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے لاک ڈاؤن ختم کرنے سے پہلے کے 3 ہفتوں میں ٹسیٹوں میں یومیہ مثبت نتائج کی شرح 11.5 فیصد تھی جو بعد کے 3 ہفتوں میں 15.4 فیصد ہوگئی۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے نئے کیسز رپورٹ ہونے کا تناسب 23 فیصد کے قریب ہے۔

پاکستان نے کووڈ 19 کے 90 ہزار کیسز کی نشاندہی ہوچکی ہے جبکہ ہلاکتیں 18 سو سے تجاوز کرچکی ہیں۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ ریسرچ پروفیسر کلیئر اسٹینڈلے نے کہا کہ ’اعداد وشمار پریشان کن ہیں ابھی بھی ملک کے کچھ حصوں میں بڑے پیمانے پر لوکل ٹرانسمیشن ہوسکتی ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: لاک ڈاؤن میں نرمی لانے سے متعلق وفاقی حکومت فیصلہ کتنا ٹھیک کتنا غلط؟

ماہرین کا کہنا تھا کہ مذہبی اجتماعات اور پُر ہجوم خریداری کی روک تھام اور معاشرتی فاصلے پر زور دے کر وائرس کے کیسز میں کمی آسکتی ہے اور اسی سے متعلق ڈاکٹر بھی خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق پنجاب میں ماہرین پر مشتمل کمیٹی جس میں محکمہ صحت کے مقامی عہدیدار بھی شامل ہیں، انہوں نے صوبائی حکومت کو بتایا کہ لاک ڈاؤن کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کی جانب سے لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا کہ بے ترتیب جانچ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ لاہور میں 6 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد کو وائرس لاحق ہے۔

اس حوالے سے وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے کہا کہ اس مراسلے کو غیر اہم نہیں سمجھا گیا لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی روشنی میں ایک طرف رکھ دیا گیا کہ لاک ڈاؤن کو ختم کریں۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کے جنرل سیکریٹری سلمان کاظمی نے کہا کہ لاہور کے بیشتر ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے گنجائش نہیں ہے اور وہ وائرس کے کیسز میو ہسپتال کو بھیج رہے ہیں جہاں 400 سے زیادہ بستروں پر مشتمل کووڈ وارڈ موجود ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کا 9 مئی سے لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کرنے کا اعلان

دوسری جانب میو ہسپتال کے سی ای او اسد اسلم نے اس دعوے کو متنازع قرار دیا ہے کہ لاہور کے ہسپتالوں میں گنجائش نہیں بچی۔

انہوں نے کہا کہ ہم مریضوں کا مزید بوجھ سنبھال سکتے ہیں۔

جنوبی ایشیا کی نگرانی کرنے والے یورپی یونین کے ایک سینئر عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان کی حکومت خود کو ایک بہت بڑے جوئے کے لیے تیار کررہی ہے لیکن یہ وائرس سے بالواسطہ تحفظ سے متعلق ایک ٹیسٹ کیس ہے کیونکہ جنوبی ایشیا کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

ییل یونیورسٹی کے ماہر معاشیات احمد مشفق مبارک نے رائٹرز کو بتایا کہ 'یہ مکمل لاک ڈاؤن اور مکمل طور پر آزاد کرنے کے درمیان تضاد کے بارے میں نہیں ہے'۔

انہوں نے کہا کہ ایک بہتر حکمت عملی کے ذریعے لوگوں کو معاشی اور صحت عامہ کی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے ناکہ قواعد میں مکمل نرمی کی جائے۔

مزید پڑھیں: کورونا فنڈ میں عطیہ کیے گئے ایک روپے کو 5 گنا کرکے بیروزگار افراد کو دیں گے، وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ اب بھی مذہبی اجتماعات اور سماجی اجتماعات پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے، یہ وہ چیزیں ہیں جن کے لیے ہمیں زیادہ بہتر اقدامات کی ضرورت ہے۔

واضح رہے دنیا بھر کو متاثر کرنے والی عالمی وبا کورونا وائرس پاکستان میں بھی زور پکڑ چکی ہے اور گزشتہ 3 روز سے مسلسل ہزاروں کیسز سامنے آنے کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد چین سے تجاوز کرچکی ہے۔

آج (5 جون کو) مزید 3837 کیسز اور 65 اموات سامنے آنے کے بعد اب تک ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد 90 ہزار 602 جبکہ اموات 1878 ہوگئیں۔

واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کو شروع ہوئے 3 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس عرصے کے دوران وبا کے پھیلاؤ میں اضافہ بھی ہوا جبکہ مئی کا مہینہ اب تک کا بدترین ماہ ثابت ہوا۔

ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافے کو دیکھا جائے تو 26 فروری کو پہلا کیس سامنے آیا جس کے بعد 31 مارچ تک مریضوں کی تعداد تقریباً 2 ہزار تھی جبکہ 18 مارچ کو پہلی موت کے بعد اسی ماہ کے اواخر تک یہ تعداد 26 تک پہنچی تھی۔