بھارت: ایک دن میں 10 ہزار کے قریب کورونا کیسز، مجموعی تعداد اٹلی سے تجاوز کر گئی

اپ ڈیٹ جون 06 2020

ای میل

بھارت میں کورونا کیسز کی اتنی بڑی تعداد لاک ڈاؤن میں مزید نرمی سے محض 2 روز قبل سامنے آئی—فائل فوٹو: رائٹرز
بھارت میں کورونا کیسز کی اتنی بڑی تعداد لاک ڈاؤن میں مزید نرمی سے محض 2 روز قبل سامنے آئی—فائل فوٹو: رائٹرز

ممبئی: بھارت میں ایک روز کے دوران 9 ہزار 887 کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد دنیا میں وائرس سے چھٹے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک اٹلی سے بھی تجاوز کر گئی۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کورونا کیسز کی یہ تعداد لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس اور عبادت گاہیں کھولنے سے 2 روز پہلے سامنے آئی ہے۔

یوں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 37 ہزار سے زائد ہونے کے بعد بھارت میں وائرس کے مریضوں کی تعداد صرف امریکا، برازیل، روس، برطانیہ اور اسپین سے کم ہے۔

تاہم یہاں کووِڈ 19 کے باعث ہلاک ہونے والے مریضوں کی تعداد 6 ہزار 650 ہے جو دیگر ممالک کے مقابلے میں خاصی کم ہے جبکہ اس وبا سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 14 ہزار 73 ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت، کیسز بڑھنے کے باوجود لاک ڈاؤن میں نرمی کردی گئی

اس طرح دنیا بھر میں کووِڈ 19 کے اعداد و شمار کے مطابق وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں بھارت اب 5ویں نمبر پر آگیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت عالمی وبا سے متاثرہ معیشت کھولنے اور لاکھوں لوگوں کو کام پر واپس بلانے کے لیے بے قرار ہے اور اس لیے اب مارچ میں لگائے گے لاک ڈاؤن کو نرم کیا جارہا ہے۔

حکام کے مطابق پابندیوں میں نرمی کا آغاز پیر سے ہوگا تاہم ماہرین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ یہ بہت جلد ہے۔

اس حوالے سے بھارت کے پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن کے ماہرِ وبائی امراض گریدھر آر بابو نے خاص طور پر ملک میں عبادت گاہیں کھولنے پر سوال اٹھایا۔

ایک ٹوئٹر پیغام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم کچھ عرصے تک مذہبی مقامات کھولے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں اور جو فوائد حاصل کیے انہیں برقرار رکھ سکتے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: بھارت میں ملک گیر لاک ڈاؤن میں 2 ہفتے کی توسیع

علاوہ ازیں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا کہ بھارت کے لاک ڈاؤن نے بیماری کی منتقلی کم کرنے میں مدد دی لیکن کیسز میں اضافے کا خدشہ پھر بھی موجود ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کا پہلا کیس ریاست کیرالہ میں 30 جنوری کو سامنے آیا تھا۔

بھارتی حکومت نے کورونا سے بچاؤ کے لیے مارچ میں لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا اور ابتدائی طور پر 21 اپریل تک لاک ڈاؤن کو نافذ کیا گیا تھا مگر پھر اس میں 3 مئی تک توسیع کردی گئی تھی اور پھر یکم مئی کو حکومت نے لاک ڈاؤن میں مزید 2 ہفتے کی توسیع کا اعلان کیا تھا۔

تاہم 4 مئی کو لاک ڈاؤن میں پہلی نرمی بھی کی گئی تھی جس کے تحت ٹرینیں، بسز سمیت دیگر ٹرانسپورٹ اور سیلون، موبائل مارکیٹس، الیکٹرانک دکانیں اور شراب خانے کھولے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں کورونا کیسز 10 ہزار سے متجاوز

مزید برآں کئی شہروں میں فیکٹریاں کھولنے کے علاوہ 50 مہمانوں کے ساتھ شادی کی تقریب کی بھی اجازت دے دی گئی تھی تاہم تعلیمی اداروں اور مذہبی مقامات کو بدستور بند رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

بعدازاں 30 مئی کو حکام نے ’دنیا کے سب سے بڑے‘ لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کرتے ہوئے 8 جون سے شاپنگ مالز، عبادت گاہیں کھولنے کا اعلان کیا تھا۔