ہراسانی کا الزام: یوسف رضا گیلانی کا سنتھیا رچی کیخلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ جون 06 2020

ای میل

یوسف رضا گیلانی کے مطابق بطور وزیراعظم سنتھیا سے کوئی ملاقات نہیں کی—فائل فوٹو: اے ایف پی
یوسف رضا گیلانی کے مطابق بطور وزیراعظم سنتھیا سے کوئی ملاقات نہیں کی—فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی نژاد پاکستانی بلاگر سنتھیا رچی کے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کرنے کا اعلان کردیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی نژاد بلاگر سنتھیا رچی نے دعویٰ کیا تھا کہ 2011 میں سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے ان کا ریپ کیا تھا جبکہ انہوں نے سابق وقافی وزیر مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر جسمانی طور ہراساں کرنے کا بھی الزام عائد کیا تھا۔

اس حوالے سے اعلان کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سنتھیا رچی نے بے بنیاد الزامات لگا کر میری ساکھ مجروح کی۔

انہوں نے کہا کہ سنتھیا رچی کے خلاف پاکستان اور امریکا میں ہتک عزت کا دعوی دائر کیا جائے گا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکی نژاد بلاگر نے بختاور بھٹو زرداری پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جسے نظر انداز کیا گیا اس کے بعد انہوں نے بینظیر بھٹو شہید کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جس سے ہمارے جذبات مجروح ہوئے۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے شدید ردعمل اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں طلبی کے بعد سنتھیا رچی نے اس طرح کا بے بنیاد الزام عائد کیا۔

مزید پڑھیں: بلاگر سنتھیا رچی کا پیپلز پارٹی کے رہنما رحمٰن ملک پر ریپ کا الزام

پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ بطور وزیراعظم سنتھیا سے کوئی ملاقات تک نہیں کی،وفود سے کی گئی ملاقاتوں میں اگر سنتھیا موجود تھیں تو اس کا علم نہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ سنتھیا سے پہلی اور آخری ملاقات سال 2019 میں اسلام آباد میں ایک سفارتکار کے گھر پر ہوئی تھی اور اس ملاقات کے دوران جلیل عباس جیلانی اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اپنے فیس بک پیج پر جاری ایک لائیو ویڈیو میں سنتھیا رچی نے دعویٰ کیا تھا کہ '2011 میں سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے میرا ریپ کیا تھا، یہ بات درست ہے، میں دوبارہ کہوں گی کہ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے میرا ریپ کیا تھا'۔

سنتھیا رچی نے سابق وقافی وزیر مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر جسمانی طور ہراساں کرنے کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ اس دوران یوسف رضا گیلانی ایوان صدر میں مقیم تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے مارنے اور میرا ریپ کرنے کی لاتعداد دھمکیاں موصول ہوئی ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہی ہیں اس کی حمایت میں شواہد موجود ہیں۔

دوسری جانب رحمٰن ملک، یوسف رضا گیلانی، ان کے بیٹے اور مخدوم شہاب الدین نے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بلاگر سنتھیا رچی کے ٹوئٹ پر پیپلز پارٹی کا ایف آئی اے سے رجوع

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سنتھیا رچی نے ٹوئٹر پر'بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کی ازدواجی زندگی کے حوالے سے' بہتان طرازی پر مبنی حوالہ دیا تھا۔

پاکستان میں مقیم امریکی بلاگر نے ماڈل عظمیٰ خان اور آمنہ عثمان کے درمیان پیش آنے والے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے اشارہ کیا تھا، جس کے خلاف شکایت کی گئی ہے۔

پی پی پی اسلام آباد کے صدر ایڈووکیٹ شکیل عباسی نے ایف آئی اے میں بلاگر کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ سنتھیا رچی کے جملوں سے 'لاکھوں افراد کی دل آزاری ہوئی ہے جو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں'۔

پی پی پی رہنماؤں اور کارکنوں نے کی جانب سے بلاگر کے متازع جملوں پر سخت ردعمل کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔