پی سی بی کا اگلے ایک سال کیلئے اخراجات کم کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 13 جون 2020

ای میل

وسیم خان نے پی سی بی ویلفیئر فنڈ میں 15 لاکھ روپے عطیہ کرنے کا اعلان بھی کیا — فائل فوٹو
وسیم خان نے پی سی بی ویلفیئر فنڈ میں 15 لاکھ روپے عطیہ کرنے کا اعلان بھی کیا — فائل فوٹو

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اگلے 12 ماہ کے لیے اپنے اخراجات مزید کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم نے بیان میں کہا کہ بورڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں سالانہ اضافہ کرنا ماضی میں روایت رہی ہے، مگراس کے برعکس ہم نے آئندہ 12 ماہ کے لیے اپنے اخراجات کو مزید کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے صرف ایک لاکھ روپے یا اس سے کم تنخواہوں والے ملازمین کے معاوضوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر عملدرآمد یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال میں کیا جائے گا۔

وسیم خان نے پی سی بی ویلفیئر فنڈ میں 15 لاکھ روپے عطیہ کرنے کا اعلان بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ تین ماہ اپنے ذاتی اخراجات میں سے 15 روپے ویلفیئر فنڈ میں عطیہ کریں گے۔

پی سی بی سے جاری بیان کے مطابق وسیم خان کی عطیہ کردہ رقم مالی مسائل سے دوچار سابق کرکٹرز، میچ آفیشلز، اسکوررز اور گراؤنڈز مین کی امداد کے لیے خرچ کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پی سی بی نے ملازمین کی برطرفی کا نوٹس واپس لے لیا

چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ مشکلات میں گھرے ہوئے کھلاڑیوں، میچ آفیشلز اور گراؤنڈ اسٹاف کی مالی معاونت کرنے کا فیصلہ انہوں نے ذاتی حیثیت میں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ میری طرف سے چیئرمین ویلفیئر فنڈ میں ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو پہلے ہی کھلاڑیوں، میچ آفیشلز اور گراؤنڈ اسٹاف کی مدد کرنے کے لیے قائم کیا جاچکا ہے۔'

خیال رہے کہ پی سی بی نے رواں ہفتے کئی ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا نوٹس جاری کیا تھا۔

پی سی بی کے ترجمان نے ڈان کو بتایا تھا کہ ملازمین کو نوکری سے برطرف کرنے کا فیصلہ کورونا وائرس کے سبب مرتب ہونے والے معاشی اثرات کی وجہ سے نہیں کیا گیا بلکہ یہ کارپوریٹ اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ عملہ پہلے ہی اضافی تھا۔

جن ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ان میں نچلے درجے کے ملازمین جیسا کہ آفس بوائے وغیرہ بھی شامل تھے جس پر حیرانی کا اظہار کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: پی سی بی مالی نقصان پورا کرنے کے لیے پرامید

بورڈ کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ایسے مشکل وقت میں ان افراد کو نوکری سے فارغ کرنا انتہائی زیادتی ہے کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے غریب طبقہ پہلے ہی کافی مشکلات سے دوچار ہے۔

ڈان کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق پی سی بی نے اپنے سروسز ایکٹ میں 15مئی کو توسیع کی تھی جس کے لیے بورڈ آف گورنرز سے منظوری لی گئی تھی اور ترمیم کے بعد ہی عملے کو فارغ کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔

تاہم کرکٹ بورڈ نے اپنے 55 ملازمین کو نوکری سے برخاست کرنے کا نوٹس ایک روز بعد ہی واپس لے لیا تھا۔

پی سی بی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بورڈ کے اسٹاف اراکین کو رواں ہفتے ملازمت سے برخاست کرنے کے لیے جاری کیے گئے نوٹسز واپس لے لیے گئے ہیں۔

پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہنا تھا کہ اسٹاف کا زیادہ ہونا موجودہ بورڈ کے لیے طویل مدتی پائیداری کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے لیے وقت کا چناؤ بہت اہم ہوتا ہے لٰہذا اس عمل سے متعلق اپنائے گئے طریقہ کار اور دیگر ذرائع میں بہتری کی ضرورت تھی۔

وسیم خان نے کہا کہ ایک ذمہ دار ادارے کی حیثیت سے ہم نے اپنے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد اس پر فوری نظرثانی کی اور نوٹسز کو فوری طور پر واپس لے لیا۔